باطل کے غلام لوگ

وَقَفَّيْنَا عَلَى آثَارِهِمْ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ ۖ وَآتَيْنَاهُ الْإِنْجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ وَمُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ

005:046

‏‏ [جالندھری]‏ اور ان پیغمبروں کے بعد انہیں کے قدموں پر ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی جو اس سے پہلی (کتاب) ہے تصدیق کرتی ہے اور پرہیزگاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے۔

وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ ۚ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ

005:047

‏[جالندھری]‏ اور اہل انجیل کو چاہئے کہ جو احکام خدا نے اس میں نازل فرمائے ہیں اسکے مطابق حکم دیا کریں اور جو خدا کے نزل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے لوگ نافرمان ہیں ۔
تفسیر ابن كثیر

باطل کے غلام لوگ
انبیاء بنی اسرائیل کے پیچھے ہم عیسیٰ نبی کو لائے جو توراۃ پر ایمان رکھتے تھے ، اس کے احکام کے مطابق لوگوں میں فیصلے کرتے تھے ، ہم نے انہیں بھی اپنی کتاب انجیل دی ، جس میں حق کی ہدایت تھی اور شبہات اور مشکلات کی توضیح تھی اور پہلی الہامی کتابوں کی تصدیق تھی ، ہاں چند مسائل جن میں یہودی اختلاف کرتے تھے ، ان کے صاف فیصلے اس میں موجود تھے۔ جیسے قرآن میں اور جگہ ہے کہ "حضرت عیسیٰ نے فرمایا ، میں تمہارے لئے بعض وہ چیزیں حلال کروں گا جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں”۔ اسی لئے علماء کا مشہور مقولہ ہے کہ انجیل نے تورات کے بعض احکام منسوخ کر دیئے ہیں ۔ انجیل سے پارسا لوگوں کی رہنمائی اور وعظ وپند ہوتی تھی کہ وہ نیکی کی طرف رغبت کریں اور برائی سے بچیں۔ اھل الانجیل بھی پڑھا گیا ہے اس صورت میں (والیحکم) میں لام کے معنی میں ہو گا۔ مطلب یہ ہو گا کہ ہم نے حضرت عیسیٰ کو انجیل اس لئے دی تھی کہ وہ اپنے زمانے کے اپنے ماننے والوں کو اسی کے مطابق چلائیں اور اس لام کو امر کا لام سمجھا جائے اور مشہور قراۃ (ولیحکم) پڑھی جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ انہیں چاہئے کہ انجیل کے کل احکام پر ایمان لائیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کریں۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (قل یا اھل الکتاب لستم علی شئی) الخ ، یعنی اے اہل کتاب جب تک تم تورات و انجیل پر اور جو کچھ اللہ کی طرف سے اترا ہے ، اگر اس پر قائم ہو تو تم کسی چیز پر نہیں ہوا۔ اور آیت میں ہے آیت (الذین یتبعون الرسول النبی) الخ ، جو لوگ اس رسول نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرتے ہیں ، جس کی صفت اپنے ہاں توراۃ میں لکھی ہوئی پاتے ہیں وہ لوگ جو کتاب اللہ اور اپنے نبی کے فرمان کے مطابق حکم نہ کریں وہ اللہ کی اطاعت سے خارج ، حق کے تارک اور باطل کے عامل ہیں ، یہ آیت نصرانیوں کے حق میں ہے۔ روش آیت سے بھی یہ ظاہر ہے اور پہلے بیان بھی گزر چکا ہے۔

قتل کے بدلے تقاضائے عدل ہے

وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنْفَ بِالْأَنْفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ ۚ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ ۚ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ

005:045

‏ [جالندھری]‏ اور ہم نے ان لوگوں کے لیے تورات میں یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں کا اسی طرح بدلا ہے لیکن جو شخص بدلا معاف کردے وہ اس کیلئے کفّارہ ہوگا۔ اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ بے انصاف ہیں ۔

تفسیر ابن كثیر

قتل کے بدلے تقاضائے عدل ہے
یہودیوں کو اور سرزنش کی جا رہی ہے کہ ان کی کتاب میں صاف لفظوں میں جو حکم تھا یہ کھلم کھلا اس کا بھی خلاف کر رہے ہیں اور سرکشی اور بےپرواہی سے اسے بھی چھوڑ رہے ہیں۔ نضری یہودیوں کو تو قرظی یہودیوں کے بدلے قتل کرتے ہیں لیکن قریظہ کے یہود کو بنو نضیر کے یہود کے عوض قتل نہیں کرتے بلکہ دیت لے کر چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے شادی شدہ زانی کی سنگساری کے حکم کو بدل دیا ہے اور صرف کالا منہ کر کے رسوا کر کے مار پیٹ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی لئے وہاں تو انہیں کافر کہا یہاں انصاف نہ کرنے کی وجہ سے انہیں ظالم کہا۔ ایک حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا (والعین) پڑھنا بھی مروی ہے (ابو داؤد وغیرہ) علماء کرام کا قول ہے کہ اگلی شریعت چاہے ہمارے سامنے بطور تقرر بیان کی جائے اور منسوخ نہ ہو تو وہ ہمارے لئے بھی شریعت ہے۔ جیسے یہ احکام سب کے سب ہماری شریعت میں بھی اسی طرح ہیں۔ امام نووی فرماتے ہیں اس مسئلے میں تین مسلک ہیں ایک تو وہی جو بیان ہوا ، ایک اس کے بالکل برعکس ایک یہ کہ صرف ابراہیمی شریعت جاری اور باقی ہے اور کوئی نہیں۔ اس آیت کے عموم سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ مرد عورت کے بدلے بھی قتل کیا جائے گا کیونکہ یہاں لفظ نفس ہے جو مرد عورت دونوں کو شامل ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں بھی ہے کہ مرد عورت کے خون کے بدلے قتل کیا جائے گا اور حدیث میں ہے کہ مسلمانوں کے خون آپس میں مساوی ہیں۔ بعض بزرگوں سے مروی ہے کہ "مرد جب کسی عورت کو قتل کر دے تو اسے اس کے بدلے قتل نہ کیا جائے گا بلکہ صرف دیت لی جائے گی” لیکن یہ قول جمہور کے خلاف ہے ۔ امام ابو حنیفہ تو فرماتے ہیں کہ "ذمی کافر کے قتل کے بدلے بھی مسلمان قتل کر دیا جائے گا اور غلام کے قتل کے بدلے آزاد بھی قتل کر دیا جائے گا۔ لیکن یہ مذہب جمہور کے خلاف ہے۔ بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں "مسلمان کافر کے بدلے قتل کیا نہ کیا جائے گا اور سلف کے بہت سے آثار اس بارے میں موجود ہیں کہ وہ غلام کا قصاص آزاد سے نہیں لیتے تھے اور آزاد غلام کے بدلے قتل نہ کیا جائے گا۔ حدیثیں بھی اس بارے میں مروی ہیں لیکن صحت کو نہیں پہنچیں۔ امام شافعی تو فرماتے ہیں اس مسئلہ میں امام ابو حنیفہ کے خلاف اجماع ہے لیکن ان باتوں سے اس قول کا بطلان لازم نہیں آتا تاوقتیکہ آیت کے عموم کو خاص کرنے والی کوئی زبردست صاف ثابت دلیل نہ ہو۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ "حضرت انس بن نضر کی پھوپھی ربیع نے ایک لونڈی کے دانت توڑ دیئے ، اب لوگوں نے اس سے معافی چاہی لیکن وہ نہ مانی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معاملہ آیا آپ نے بدلہ لینے کا حکم دے دیا ، اس پر حضرت انس بن نضر نے فرمایا کیا اس عورت کے سامنے کے دانت توڑ دیئے جائیں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں اے انس اللہ کی کتاب میں قصاص کا حکم موجود ہے۔ یہ سن کر فرمایا نہیں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ، اس کے دانت ہرگز نہ توڑے جائیں گے ، چنانچہ ہوا بھی یہی کہ لوگ راضی رضامند ہو گئے اور قصاص چھوڑ دیا بلکہ معاف کر دیا۔ اس وقت آپ نے فرمایا بعض بندگان رب ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ پر کوئی قسم کھا لیں تو اللہ تعالٰی اسے پوری ہی کر دے”۔ دوسری روایت میں ہے کہ "پہلے انہوں نے نہ تو معافی دی نہ دیت لینی منظور کی۔ "نسائی وغیرہ میں ہے ، ایک غریب جماعت کے غلام نے کسی مالدار جماعت کے غلام کے کان کاٹ دیئے ، ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر عرض کیا کہ ہم لوگ فقیر مسکین ہیں ، مال ہمارے پاس نہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کوئی جرمانہ نہ رکھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ غلام بالغ نہ ہو اور ہو سکتا ہے کہ آپ نے دیت اپنے پاس سے دے دی ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان سے سفارش کر کے معاف کرا لیا ہو۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ جان جان کے بدلے ماری جائے گی ، آنکھ پھوڑ دینے والے کی آنکھ پھوڑ دی جائے گی ، ناک کاٹنے والے کا ناک کاٹ دیا جائے گا ، دانت توڑنے والے کا دانت توڑ دیا جائے گا اور زخم کا بھی بدلہ لیا جائے گا۔ اس میں آزاد مسلمان سب کے سب برابر ہیں۔ مرد عورت ایک ہی حکم میں۔ جبکہ یہ کام قصداً کئے گئے ہوں۔ اس میں غلام بھی آپس میں برابر ہیں ، ان کے مرد بھی اور عورتیں بھی۔ قاعدہ اعضا کا کٹنا تو جوڑ سے ہوتا ہے اس میں تو قصاص واجب ہے۔ جیسے ہاتھ ، پیر ، قدم ، ہتھیلی وغیرہ۔ لیکن جو زخم جوڑ پر نہ ہوں بلکہ ہڈی پر آئے ہوں ، ان کی بابت حضرت امام مالک فرماتے ہیں کہ "ان میں بھی قصاص ہے مگر ران میں اور اس جیسے اعضاء میں اس لئے کہ وہ خوف و خطر کی جگہ ہے”۔ ان کے برخلاف ابو حنیفہ اور ان کے دونوں ساتھیوں کا مذہب ہے کہ کسی ہڈی میں قصاص نہیں ، بجز دانت کے اور امام شافعی کے نزدیک مطلق کسی ہڈی کا قصاص نہیں۔ یہی مروی ہے حضرت عمر بن خطاب اور حضرت ابن عباس سے بھی اور یہی کہتے ہیں عطاء ، شبعی ، حسن بصری ، زہری ، ابراہیم ، نخعی اور عمر بن عبد العزیز بھی اور اسی کی طرف گئے ہیں سفیان ثوری اور لیث بن سعد بھی۔ امام احمد سے بھی یہی قول زیادہ مشہور ہے۔ امام ابو حنیفہ کی دلیل وہی حضرت انس والی روایت ہے جس میں ربیع سے دانت کا قصاص دلوانے کا حکم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمودہ ہے۔ لیکن دراصل اس روایت سے یہ مذہب ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس میں یہ لفظ ہیں کہ اس کے سامنے کے دانت اس نے توڑ دیئے تھے اور ہو سکتا ہے کہ بغیر ٹوٹنے کے جھڑ گئے ہوں۔ اس حالت میں قصاص اجماع سے واجب ہے۔ ان کی دلیل کا پورا حصہ وہ ہے جو ابن ماجہ میں ہے کہ "ایک شخص نے دوسرے کے بازو کو کہنی سے نیچے نیچے ایک تلوار مار دی ، جس سے اس کی کلائی کٹ گئی ، حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ آیا ، آپ نے حکم دیا کہ دیت ادا کرو اس نے کہا میں قصاص چاہتا ہوں ، آپ نے فرمایا اسی کو لے لے اللہ تجھے اسی میں برکت دے گا اور آپ نے قصاص کو نہیں فرمایا”۔ لیکن یہ حدیث بالکل ضعیف اور گری ہوئی ہے ، اس کے ایک راوی ہشم بن عکلی اعرابی ضعیف ہیں ، ان کی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جاتی ، دوسرے راوی غران بن جاریہ اعرابی بھی ضعیف ہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ زخموں کا قصاص ان کے درست ہو جانے اور بھر جانے سے پہلے لینا جائز نہیں اور اگر پہلے لے لیا گیا پھر زخم بڑھ گیا تو کوئی بدلہ دلوایا نہ جائے گا۔ اس کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کے گھٹنے میں چوٹ مار دی ، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا مجھے بدلہ دلوایئے ، آپ نے دلوا دیا ، اس کے بعد وہ پھر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تو لنگڑا ہو گیا ، آپ نے فرمایا میں نے تجھے منع کیا تھا لیکن تو نہ مانا ، اب تیرے اس لنگڑے پن کا بدلہ کچھ نہیں۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زخموں کے بھر جانے سے پہلے بدلہ لینے کو منع فرما دیا۔
مسئلہ
اگر کسی نے دوسرے کو زخمی کیا اور بدلہ اس سے لے لیا گیا ، اس میں یہ مر گیا تو اس پر کچھ نہیں۔ مالک ، شافعی ، احمد اور جمہوری صحابہ و تابعین کا یہی قول ہے۔ ابو حنیفہ کا قول ہے کہ اس پر دیت واجب ہے ، اسی کے مال میں سے۔ بعض اور بزرگ فرماتے ہیں "اس کے ماں باپ کی طرف کے رشتہ داروں کے مال پر وہ دیت واجب ہے”۔ بعض اور حضرات کہتے ہیں "بقدر اس کے بدلے کے تو ساقط ہے باقی اسی کے مال میں سے واجب ہے”۔ پھر فرماتا ہے "جو شخص قصاص سے درگزر کرے اور بطور صدقے کے اپنے بدلے کو معاف کر دے تو زخمی کرنے والے کا کفارہ ہو گیا اور جو زخمی ہوا ہے ، اسے ثواب ہوگا جو اللہ تعالٰی کے ذمے ہے”۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ "وہ زخمی کیلئے کفارہ ہے یعنی اس کے گناہ اسی زخم کی مقدار سے اللہ تعالٰی کے ذمے ہے”۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ "وہ زخمی کیلئے کفارہ ہے یعنی اس کے گناہ اسی زخم کی مقدار سے اللہ تعالٰی بخش دیتا ہے”۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ آیا ہے کہ "اگر چوتھائی دیت کے برابر کی چیز ہے اور اس نے درگزر کر لیا تو اس کے چوتھائی گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ ثلث ہے تو تہائی گناہ ، آدھی ہے تو آدھے گناہ اور پوری ہے تو پورے گناہ”۔ ایک قریشی نے ایک انصاری کو زور سے دھکا دے دیا جس سے اس کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے۔ حضرت معاویہ کے پاس مقدمہ گیا اور جب وہ بہت سر ہو گیا تو آپ نے فرمایا ، اچھا جا تجھے اختیار ہے۔ حضرت ابو درداء وہیں تھے فرمانے لگے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ "جس مسلمان کے جسم میں کوئی ایذاء پہنچائی جائے اور وہ صبر کر لے ، بدلہ نہ لے تو اللہ اس کے درجے بڑھاتا ہے اور اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے ، اس انصاری نے یہ سن کر کہا ، کیا سچ مچ آپ نے خود ہی اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں میرے ان کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے یاد کیا ہے ، اس نے کہا پھر گواہ رہو کہ میں نے اپنے مجرم کو معاف کر دیا۔ حضرت معاویہ یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور اسے انعام دیا” (ابن جریر) ترمذی میں بھی یہ روایت ہے لیکن امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث غریب ہے۔ ابو سفر راوی کا ابو درداء سے سننا ثابت نہیں اور روایت میں ہے کہ تین گنی دیت وہ دینا چاہتا تھا لیکن یہ راضی نہیں ہوا تھا ، اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ "جو شخص خون یا اس سے کم کو معاف کر دے ، وہ اس کی پیدائش سے لے کر موت تک کا کفارہ ہے”۔ مسند میں ہے کہ "جس کے جسم میں کوئی زخم لگے اور وہ معاف کر دے تو اللہ تعالٰی اس کے اتنے ہی گناہ معاف فرما دیتا ہے”۔ مسند میں یہ بھی حدیث ہے "اللہ کے حکم کے مطابق حکم نہ کرنے والے ظالم ہیں”۔ پہلے گزر چکا ہے کہ کفر کفر سے کم ہے ، ظلم میں بھی تفاوت ہے اور فسق بھی درجے ہیں۔

جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِينَ قَالُوا آمَنَّا بِأَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوبُهُمْ ۛ وَمِنَ الَّذِينَ هَادُوا ۛ سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِينَ لَمْ يَأْتُوكَ ۖ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِهِ ۖ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ وَإِنْ لَمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوا ۚ وَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ فِتْنَتَهُ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ۚ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَمْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ ۚ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ

005:041

‏ [جالندھری]‏ اے پیغمبر جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں (کچھ تو) ان میں سے (ہیں) جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دل مومن نہیں ہیں۔ اور (کچھ) ان میں سے یہودی ہیں۔ ان کی وجہ سے غمناک نہ ہونا۔ یہ غلط باتیں بنانے کیلئے جاسوسی کرتے پھرتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں (کے بہکانے) کیلئے جاسوس بنے ہیں جو ابھی تمہارے پاس نہیں آئے (صحیح) باتوں کو ان کے مقامات (میں ثابت ہونے کے بعد) بدل دیتے ہیں اور (لوگوں سے) کہتے ہیں اگر تمہیں یہ حکم ملے تو اس کو لے لینا اگر نہ ملے تو اس سے احتراز کرنا اگر خدا کسی کو گمراہ کرنا چاہے تو اس کے لئے تم کچھ بھی خدا سے (ہدایت کا) اختیار نہیں رکھتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پاک کرنا نہیں چاہا۔ ان کے لیے دنیا میں بھی ذلّت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے

_____________
سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ ۚ فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ ۖ وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَضُرُّوكَ شَيْئًا ۖ وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ

005:042

‏ [جالندھری]‏ (یہ) جھوٹی باتیں بنانے کے لئے جاسوسی کرنے والے اور (رشوت کا) حرام مال کھانیوالے ہیں۔ اگر یہ تمہارے پاس (کوئی مقدمہ فیصل کرانے کو) آئیں تو تم ان میں فیصلہ کر دینا یا اعراض کرنا اگر تم ان سے اعراض کرو گے تو وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اگر فیصلہ کرنا چاہو تو انصاف کا فیصلہ کرنا کہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

_____________
وَكَيْفَ يُحَكِّمُونَكَ وَعِنْدَهُمُ التَّوْرَاةُ فِيهَا حُكْمُ اللَّهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ ۚ وَمَا أُولَئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ

005:043

‏ [جالندھری]‏ اور یہ تم سے (اپنے مقدمات) کیونکر فیصل کرائیں گے جبکہ خود ان کے پاس تورات (موجود) ہے جس میں خدا کا حکم (لکھا ہوا) ہے (یہ اسے

جانتے ہیں) پھر اس کے بعد اس سے پھر جاتے ہیں اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے ۔ ‏

_____________
إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا ۚ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ

005:044

‏ [جالندھری]‏ بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے۔ اسی کے مطابق انبیاء جو (خدا کے) فرمانبردار تھے ‘ یہودیوں کو حکم دیتے رہے ہیں اور مشائخ اور علماء بھی۔ کیونکہ وہ کتاب خدا کے نگہبان مقرر کئے گئے تھے اور اس پر گواہ تھے (یعنی حکم الہٰی کا یقین رکھتے تھے) تو تم لوگوں سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لینا۔ اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں ‏
تفسیر ابن كثیر

جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ
ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے ، جو رائے ، قیاس اور خواہش نفسانی کو اللہ کی شریعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے نکل کر کفر کی طرف دوڑتے بھاگتے رہتے ہیں۔ گویہ لوگ زبانی ایمان کے دعوے کریں لیکن ان کا دل ایمان سے خالی ہے۔ منافقوں کی یہی حالت ہے کہ زبان کے کھرے ، دل کے کھوٹے اور یہی خصلت یہودیوں کی ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے دشمن ہیں ۔ یہ جھوٹ کو مزے مزے سے سنتے ہیں اور دل کھول کر قبول کرتے ہیں۔ لیکن سچ سے بھاگتے ہیں ، بلکہ نفرت کرتے ہیں اور جو لوگ آپ کی مجلس میں نہیں آتے یہ یہاں کی وہاں پہنچاتے ہیں۔ ان کی طرف سے جاسوسی کرنے کو آتے ہیں۔ پھر نالائقی یہ کرتے ہیں کہ یہ بات کو بدل ڈالا کرتے ہیں مطلب کچھ ہو ، لے کر کچھ اڑتے ہیں ، ارادے یہی ہیں کہ اگر تمہاری خواہش کے مطابق کہے تو مان لو ، طبیعت کے خلاف ہو تو دور رہو۔ کہا کیا گیا ہے کہ یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں اتری تھی جن میں ایک کو دوسرے نے قتل کر دیا تھا ، اب کہنے لگے چلو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اگر آپ دیت جرمانے کا حکم دیں تو منظور کر لیں گے اور اگر قصاص بدلے کو فرمائیں تو نہیں مانیں گے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ ایک زنا کار کو لے کر آئے تھے۔ ان کی کتاب توراۃ میں دراصل حکم تو یہ تھا کہ شادی شدہ زانی کو سنگسار کیا جائے ۔ لیکن انہوں نے اسے بدل ڈالا تھا اور سو کوڑے مار کر ، منہ کالا کر کے ، الٹا گدھا سوار کر کے رسوائی کر کے چھوڑ دیتے تھے۔ جب ہجرت کے بعد ان میں سے کوئی زنا کاری کے جرم میں پکڑا گیا تو یہ کہنے لگے آؤ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اور آپ سے اس کے بارے میں سوال کریں ، اگر آپ بھی وہی فرمائیں جو ہم کرتے ہیں تو اسے قبول کریں گے اور اللہ کے ہاں بھی یہ ہماری سند ہو جائے گی اور اگر رجم کو فرمائیں گے تو نہیں مانیں گے۔ چنانچہ یہ آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ ہمارے ایک مرد عورت نے بدکاری کی ہے ، ان کے بارے میں آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا تمہارے ہاں توراۃ میں کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا ہم تو اسے رسوا کرتے ہیں اور کوڑے مار کر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا ، جھوٹ کہتے ہیں ، تورات میں سنگسار کا حکم ہے۔ لاؤ تورات پیش کرو ، انہوں نے تورات کھولی لیکن آیت رجم پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے کی سب عبارت پڑھ سنائی۔ حضرت عبداللہ سمجھ گئے اور آپ نے فرمایا اپنے ہاتھ کو تو ہٹا ، ہاتھ ہٹایا تو سنگسار کرنے کی آیت موجود تھی ، اب تو انہیں بھی اقرار کرنا پڑا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے زانیوں کو سنگسار کر دیا گیا ، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں "میں نے دیکھا کہ وہ زانی اس عورت کو پتھروں سے بچانے کیلۓ اس کے آڑے آ جاتا تھا” (بخاری مسلم) اور سند سے مروی ہے کہ یہودیوں نے کہا "ہم تو اسے کالا منہ کر کے کچھ مار پیٹ کر چھوڑ دیتے ہیں”۔ اور آیت کے ظاہر ہونے کے بعد انہوں نے کہا ، ہے تو یہی حکم لیکن ہم نے تو اسے چھپایا تھا ، جو پڑھ رہا تھا اسی نے رجم کی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا ، جب اس کا ہاتھ اٹھوایا تو آیت پر اچٹتی ہوئی نظر پڑ گئی۔ ان دونوں کے رجم کرنے والوں میں حضرت عبداللہ بن عمر بھی موجود تھے ، ایک اور روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے اپنے آدمی بھیج کر آپ کو بلوایا تھا ، اپنے مدرسے میں گدی پر آپ کو بٹھایا تھا اور جو اب تورات آپ کے سامنے پڑھ رہا تھا ، وہ ان کا بہت بڑا عالم تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ان سے قسم دے کر پوچھا تھا کہ تم تورات میں شادی شدہ زانی کی کیا سزا پاتے ہو؟ تو انہوں نے یہی جواب دیا تھا لیکن ایک نوجوان کچھ نہ بولا ، خاموش ہی کھڑا رہا ، آپ نے اس کی طرف دیکھ کر خاص اسے دوبارہ قسم دی اور جواب مانگا ، اس نے کہا جب آپ ایسی قسمیں دے رہے ہیں تو میں جھوٹ نہ بولوں گا ، واقعی تورات میں ان لوگوں کی سزا سنگساری ہے۔ آپ نے فرمایا اچھا پھر یہ بھی سچ سچ بتاؤ کہ پہلے پہل اس رجم کو تم نے کیوں اور کس پر سے اڑایا؟ اس نے کہا حضرت ہمارے کسی بادشاہ کے رشتے دار ، بڑے آدمی نے زنا کاری کی۔ اس کی عظمت اور بادشاہ کی ہیبت کے مارے اسے رجم کرو ورنہ اسے بھی چھوڑو۔ آخر ہم نے مل ملا کر یہ طے کیا کہ بجائے رجم کے اس قسم کی کوئی سزا مقرر کر دی جائے۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے توراۃ کے حکم کو جاری کیا اور اسی بارے میں آیت (انا انزلنا) الخ ، اتری۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان احکام کے جاری کرنے والوں میں سے ہیں (احمد ابو داؤد) مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص کو یہودی کالا منہ کئے لے جا رہے تھے اور اسے کوڑے بھی مار رکھے تھے ، تو آپ نے بلا کر ان سے ماجرا پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ کیا زانی کی یہی سزا تمہارے ہاں ہے؟ کہا ہاں۔ آپ نے ان کے ایک عالم کو بلا کر اسے سخت قسم دے کر پوچھا تو اس نے کہا کہ اگر آپ ایسی قسم نہ دیتے تو میں ہرگز نہ بتاتا ، بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں دراصل زنا کاری کی سزا سنگساری ہے لیکن چونکہ امیر امراء اور شرفاء لوگوں میں یہ بدکاری بڑھ گئی تھی اور انہیں اس قسم کی سزا دینی ہم نے مناسب نہ جانی ، اس لئے انہیں تو چھوڑ دیتے تھے اور اللہ کا حکم مارا نہ جائے اس لئے غریب غرباء ، کم حیثیت لوگوں کو رجم کرا دیتے تھے پھر ہم نے رائے زنی کی کہ آؤ کوئی ایسی سزا تجویز کرو کہ شریف و غیر شریف ، امیر غریب پر سب پر یکساں جاری ہو سکے چنانچہ ہمارا سب کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ منہ کالے کر دیں اور کوڑے لگائیں۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان دونوں کو سنگسار کرو چنانچہ انہیں رجم کر دیا گیا اور آپ نے فرمایا اے اللہ میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے ایک مردہ حکم کو زندہ کیا۔ اس پر آیت (یاایھا الرسول لا یحزنک) سے ہم الکافرون) تک نازل ہوئی۔ انہی یہودیوں کے بارے میں۔ اور آیت میں ہے کہ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے ظالم ہیں اور آیت میں ہے (فاسق ہیں (مسلم وغیرہ اور روایت میں ہے "واقعہ زنا فدک میں ہوا تھا اور وہاں کے یہودیوں نے مدینے شریف کے یہودیوں کو لکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھوایا تھا جو عالم ان کا آیا اس کا نام ابن صوریا تھا ، یہ آنکھ کا بھینگا تھا ، اور اس کے ساتھ دوسرا عالم بھی تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں قسم دی تو دونوں نے قول دیا تھا ، آپ نے انہیں کہا تھا ، تمہیں اس اللہ کی قسم جس نے بنو اسرائیل کیلئے پانی میں راہ کر دی تھی اور ابر کا سایہ ان پر کیا تھا اور فرعونیوں سے بچا لیا تھا اور من و سلویٰ اتارا تھا۔ اس قسم سے وہ چونک گئے اور آپس میں کہنے لگے بڑی زبردست قسم ہے ، اس موقع پر جھوٹ بولنا ٹھیک نہیں تو کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم تورات میں یہ ہے کہ بری نظر سے دیکھنا بھی مثل زنا کے ہے اور گلے لگانا بھی اور بوسہ لینا بھی ، پھر اگر چار گواہ اس بات کے ہوں کہ انہوں نے دخول خروج دیکھا ہے جیسا کہ سلائی سرمہ دانی میں جاتی آتی ہے تو رجم واجب ہو جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا یہی مسئلہ ہے پھر حکم دیا اور انہیں رجم کرا دیا گیا”۔ اس پر آیت (فان جاءوک ) الخ ، اتری (ابو داؤد وغیرہ) ایک روایت میں جو دو عالم سامنے لائے گئے تھے ، یہ دونوں صوریا کے لڑکے تھے۔ ترک حد کا سبب اس روایت میں یہودیوں کی طرف سے یہ بیان ہوا ہے کہ جب ہم میں سلطنت نہ رہی تو ہم نے اپنے آدمیوں کی جان لینی مناسب نہ سمجھی پھر آپ نے گواہوں کو بلوا کر گواہی لی جنہوں نے بیان دیا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے انہیں اس برائی میں دیکھا ہے ، جس طرح سرمہ دانی میں سلائی ہوتی ہے ۔ دراصل توراۃ وغیرہ کا منگوانا ان کے عالموں کو بلوانا ، یہ سب انہیں الزام دینے کیلئے نہ تھا ، نہ اس لئے تھا کہ وہ اسی کے ماننے کے مکلف ہیں ، نہیں بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان واجب العمل ہے ، اس سے مقصد ایک تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا اظہار تھا کہ اللہ کی وحی سے آپ نے یہ معلوم کر لیا کہ ان کی تورات میں بھی حکم رجم موجود ہے اور یہی نکلا ، دوسرے ان کی رسوائی کہ انہیں پہلے کے انکار کے بعد اقرار کرنا پڑا اور دنیا پر ظاہر ہو گیا کہ یہ لوگ فرمان الٰہی کو چھپا لینے والے اور اپنی رائے قیاس پر عمل کرنے والے ہیں اور اس لئے بھی کہ یہ لوگ سچے دل سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس لئے نہیں آئے تھے کہ آپ کی فرماں برداری کریں بلکہ محض اس لئے آئے تھے کہ اگر آپ کو بھی اپنے اجماع کے موافق پائیں گے تو اتحاد کر لیں گے ورنہ ہرگز قبول نہ کریں گے ، اسی لئے فرمان ہے کہ "جنہیں اللہ گمراہ کر دے تو ان کو کسی قسم سے راہ راست آنے کا اختیار نہیں ہے ان کے گندے دلوں کو پاک کرنے کا اللہ کا ارادہ نہیں ، یہ دنیا میں ذلیل و خواہ ہوں گے اور آخرت میں داخل نار ہوں گے۔ یہ باطل کو کان لگا کر مزے لے کر سننے والے ہیں اور رشوت جیسی حرام چیز کو دن دہاڑے کھانے والے ہیں ، بھلا ان کے نجس دل کیسے پاک ہوں گے؟ اور ان کی دعائیں اللہ کیسے سنے گا؟ اگر یہ تیرے پاس آئیں تو تجھے اختیار ہے کہ ان کے فیصلے کر یا نہ کر اگر تو ان سے منہ پھیر لے جب بھی یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ ان کا قصد اتباع حق نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کی پیروی ہے”۔ بعض بزرگ کہتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے اس آیت سے (وان احکم بینھم بما انزل اللہ) پھر فرمایا "اگر تو ان میں فیصلے کرے تو عدل و انصاف کے ساتھ کر ، گویہ خود ظالم ہیں اور عدل سے ہٹے ہوئے ہیں اور مان لو کہ اللہ تعالٰی عادل لوگوں سے محبت رکھتا ہے۔ پھر انی کی خباثت بدباطنی اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ "ایک طرف تو اس کتاب اللہ کو چھوڑ رکھا ہے ، جس کی تابعداری اور حقانیت کے خود قائل ہیں ، دوسری طرف اس جانب جھک رہے ہیں ، جسے نہیں مانتے اور جسے جھوٹ مشہور کر رکھا ہے ، پھر اس میں بھی نیت بد ہے کہ اگر وہاں سے ہماری خواہش ہے مطابق حکم ملے گا تو لے لیں گے ، ورنہ چھوڑ چھاڑ دیں گے”۔ یہ فرمایا کہ یہ کیسے تیری فرماں برداری کریں گے؟ انہوں نے تو تورات کو بھی چھوڑ رکھا ہے ، جس میں اللہ کے احکامات ہونے کا اقرار نہیں بھی ہے لیکن پھر بھی بے ایمانی کر کے اس سے پھر جاتے ہیں۔ پھر اس تورات کی مدحت و تعریف بیان فرمائی جو اس نے اپنے برگزیدہ رسول حضرت موسیٰ بن عمران پر نازل فرمائی تھی کہ اس میں ہدایت و نورانیت تھی۔ انبیاء جو اللہ کے زیر فرمان تھے ، اسی پر فیصلے کرتے رہے ، یہودیوں میں اسی کے احکام جاری کرتے رہے ، تبدیلی اور تحریف سے بچے رہے ، ربانی یعنی عابد ، علماء اور احبار یعنی ذی علم لوگ بھی اسی روش پر رہے۔ کیونکہ انہیں یہ پاک کتاب سونپی گئی تھی اور اس کے اظہار کا اور اس پر عمل کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ و شاہد تھے۔ اب تمہیں چاہئے کہ بجز اللہ کے کسی اور سے نہ ڈرو۔ ہاں قدم قدم اور لمحہ لمحہ پر خوف رکھو اور میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول فروخت نہ کیا کرو۔ جان لو کہ اللہ کی وحی کا حکم جو نہ مانے وہ کافر ہے۔ اس میں دو قول ہیں جو ابھی بیان ہوں گے انشاء اللہ۔ ان آیتوں کا ایک شان نزول بھی سن لیجئے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ ایسے لوگوں کو اس آیت میں تو کافر کہا دوسری میں ظالم تیسری میں فاسق۔ بات یہ ہے کہ یہودیوں کے دو گروہ تھے ، ایک غالب تھا ، دوسرا مغلوب۔ ان کی آپس میں اس بات پر صلح ہوئی تھی کہ غالب ، ذی عزت فرقے کا کوئی شخص اگر مغلوب ذلیل فرقے کے کسی شخص کو قتل کر ڈالے تو پچاس وسق دیت دے اور ذلیل لوگوں میں سے کوئی عزیز کو قتل کر دے تو ایک سو وسق دیت دے۔ یہی رواج ان میں چلا آ رہا تھا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے ، اس کے بعد ایک واقعہ ایسا ہوا کہ ان نیچے والے یہودیوں میں سے کسی نے کسی اونچے یہودی کو مار ڈالا۔ یہاں سے آدمی گیا کہ لاؤ سو وسق دلاؤ دلواؤ ، وہاں سے جواب ملا کہ یہ صریح ناانصافی ہے کہ ہم دونوں ایک ہی قبیلے کے ، ایک ہی دین کے ، ایک ہی نسب کے ، ایک ہی شہر کے پھر ہماری دیت کم اور تمہارا زیادہ؟ ہم چونکہ اب تک تمہارے دبے ہوئے تھے ، اس ناانصافی کو بادل ناخواستہ برداشت کرتے رہے لیکن اب جب کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عادل بادشاہ یہاں آ گئے ہیں ہم تمہیں اتنی ہی دیت دیں گے جتنی تم ہمیں دو۔ اس بات پر ادھر ادھر سے آستینیں چڑھ گئیں ، پھر آپس میں یہ بات طے ہوئی کہ اچھا اس جھگڑے کا فیصلہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے۔ لیکن اونچی قوم کے لوگوں نے آپس میں جب مشورہ کیا تو ان کے سمجھداروں نے کہا دیکھو اس سے ہاتھ دھو رکھو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ناانصافی پہ مبنی حکم کریں۔ یہ تو صریح زیادتی ہے کہ ہم آدھی دیں اور پوری لیں اور فی الواقع ان لوگوں نے دب کر اسے منظور کیا تھا جو تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم اور ثالث مقرر کیا ہے تو یقینا تمہارا یہ حق مارا جائے گا کسی نے رائے دی کہ اچھا یوں کرو ، کسی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چپکے سے بھیج دو ، وہ معلوم کر آئے کہ آپ فیصلہ کیا کریں گے؟ اگر ہماری حمایت میں ہوا تب تو بہت اچھا چلو اور ان سے حق حاصل کر آؤ اور اگر خلاف ہوا تو پھر الگ تھلگ ہی اچھے ہیں۔ چنانچہ مدینہ کے چند منافقوں کو انہوں نے جاسوس بنا کر حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس سے پہلے کہ وہ یہاں پہنچیں اللہ تعالٰی نے یہ آیتیں اتار کر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں فرقوں کے بد ارادوں سے مطلوع فرما دیا (ابو داؤد) ایک روایت میں ہے کہ یہ دونوں قبیلے بنو نضیر اور بنو قریظہ تھے۔ بنو نضیر کی پوری دیت تھی اور بنو قریظہ کی آدھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی دیت یکساں دینے کا فیصلہ صادر فرمایا۔ ایک روایت ہے کہ قرظی اگر کسی نضری کو قتل کر ڈالے تو اس سے قصاص لیتے تھے لیکن اس کے خلاف میں قصاص تھا ہی نہیں سو وسق دیت تھی۔ یہ بہت ممکن ہے کہ ادھر یہ واقعہ ہوا ، ادھر زنا کا قصہ واقع ہوا ، جس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے ان دونوں پر یہ آیتیں نازل ہوئیں واللہ اعلم۔ ہاں ایک بات اور ہے جس سے اس دوسری شان نزول کی تقویت ہوتی ہے وہ یہ کہ اس کے بعد ہی فرمایا ہے آیت (وکتبنا علیھم فیھا) الخ ، یعنی ہم نے یہودیوں پر تورات میں یہ حکم فرض کر دیا تھا کہ جان کے عوض جان ، آنکھ کے عوض آنکھ۔ واللہ اعلم۔ پھر انہیں کافی کہا گیا جو اللہ کی شریعت اور اس کی اتاری ہوئی وحی کے مطابق فیصلے اور حکم نہ کریں گو یہ آیت شان نزول کے اعتبار سے بقول مفسرین اہل کتاب کے بارے میں ہے لیکن حکم کے اعتبار سے ہر شخص کو شامل ہے۔ بنو اسرائیل کے بارے میں اتری اور اس امت کا بھی یہی حکم ہے۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ رشوت حرام ہے اور رشوت ستانی کے بعد کسی شرعی مسئلہ کے خلاف فتویٰ دینا کفر ہے۔ سدی فرماتے ہیں جس نے وحی الٰہی کے خلاف عمداً فتویٰ دیا جاننے کے باوجود اس کے خلاف کیا وہ کافر ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں جس نے اللہ کے فرمان سے انکار کیا ، اس کا یہ حکم ہے اور جس نے انکار تو نہ کیا لیکن اس کے مطابق نہ کہا وہ ظالم اور فاسق ہے۔ خواہ اہل کتاب ہو خواہ کوئی اور شعبی فرماتے ہیں "مسلمانوں میں جس نے کتاب کے خلاف فتویٰ دیا وہ کافر ہے اور یہودیوں میں دیا ہو تو ظالم ہے اور نصرانیوں میں دیا ہو تو فاسق ہے”۔ ابن عباس فرماتے ہیں "اس کا کفر اس آیت کے ساتھ ہے”۔ طاؤس فرماتے ہیں "اس کا کفر اس کے کفر جیسا نہیں جو سرے سے اللہ کے رسول قرآن اور فرشتوں کا منکر ہو”۔ عطا فرماتے ہیں "کتم (چھپانا) کفر سے کم ہے اسی طرح ظلم و فسق کے بھی ادنیٰ اعلیٰ درجے ہیں۔ اس کفر سے وہ ملت اسلام سے پھر جانے والا جاتا ہے”۔ ابن عباس فرماتے ہیں "اس سے مراد وہ کفر نہیں جس کی طرف تم جا رہے ہو”۔

احکام جرم و سزا

وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

005:038

‏ [جالندھری]‏ جو چوری کرے مرد ہو یا عورت ان کے ہاتھ کاٹ ڈالو یہ ان کے فعلوں کی سزا اور خدا کی طرف سے عبرت ہے۔ اور خدا زبردست اور صاحب حکمت ہے ۔

_____________
فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ

005:039

‏ [جالندھری]‏ اور جو شخص گناہ کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہو جائے تو خدا اس کو معاف کردے گا کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

_____________
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

005:040

‏ [جالندھری]‏ کیا تم کو معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں خدا ہی کی سلطنت ہے؟ جس کو چاہے عذاب کرے اور جسے چاہے بخش دے۔ اور خدا ہرچیز پر قادر ہے۔


تفسیر ابن كثیر

احکام جرم و سزا
حضرت ابن مسعود کی قرأت میں (فاقطعوا ایمانھما) ہے لیکن یہ قرأت شاذ ہے گو عمل اسی پر ہے لیکن وہ عمل اس قرأت کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسرے دلائل کی بناء پر ہے۔ چور کے ہاتھ کاٹنے کا طریقہ اسلام سے پہلے بھی تھا اسلام نے اسے تفصیل وار اور منظم کر دیا اسی طرح قسامت دیت فرائض کے مسائل بھی پہلے تھے لیکن غیر منظم اور ادھورے۔ اسلام نے انہیں ٹھیک ٹھاک کر دیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سب سے پہلے دو یک نامی ایک خزاعی شخص کے ہاتھ چوری کے الزام میں قریش نے کاٹے تھے اس نے کعبے کا غلام چرایا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چوروں نے اس کے پاس رکھ دیا تھا۔ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ چوری کی چیز کی کوئی حد نہیں تھوڑی ہو یا بہت محفوظ جگہ سے لی ہو یا غیر محفوظ جگہ سے بہر صورت ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ آیت عام ہے تو ممکن ہے اس قول کا یہی مطلب ہو اور دوسرے مطالب بھی ممکن ہیں ۔ ایک دلیل ان حضرات کی یہ حدیث بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی چور پر لعنت کرے کہ انڈا چراتا ہے اور ہاتھ کٹواتا ہے رسی چرائی ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے ، جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ چوری کے مال کی حد مقرر ہے۔ گو اس کے تقرر میں اختلاف ہے۔ امام مالک کہتے ہیں تین درہم سکے والے خالص یا ان کی قیمت یا زیادہ کی کوئی چیز چنانچہ صحیح بخاری مسلم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹنا مروی ہے اور اس کی قیمت اتنی ہی تھی۔ حضرت عثمان نے اترنج کے چور کے ہاتھ کاٹے تھے جبکہ وہ تین درہم کی قیمت کا تھا۔ حضرت عثمان کا فعل گویا صحابہ کا جماع سکوتی ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پھل کے چور کے ہاتھ بھی کاٹے جائیں گے۔ حنفیہ اسے نہیں مانتے اور ان کے نزدیک چوری کے مال کا دس درہم کی قیمت کا ہونا ضروری ہے۔ اس میں شافعیہ کا اختلاف ہے پاؤ یا دینار کے تقرر میں۔ امام شافعی کا فرمان ہے کہ پاؤ دینار کی قیمت کی چیز ہو یا اس سے زیادہ۔ ان کی دلیل بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چور کا ہاتھ پاؤ دینار میں پھر جو اس سے اوپر ہو اس میں کاٹنا چاہئے مسلم کی ایک حدیث میں ہے چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے مگر پاؤ دینار پھر اس سے اوپر میں۔ پس یہ حدیث اس مسئلے کا صاف فیصلہ کر دیتی ہے اور جس حدیث میں تین درہم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ہاتھ کاٹنے کو فرمانا مروی ہے وہ اس کے خلاف نہیں اس لئے کہ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا۔ پس اصل چوتھائی دینار ہے نہ کہ تین درہم۔ حضرت عمر بن خطاب حضرت عثمان بن عفان حضرت علی بن ابی طالب بھی یہی فرماتے ہیں۔ حضرت عمر بن عبد العزیز لیث بن سعد اوزاعی شافعی اسحاق بن راہویہ ابو ثور داؤد بن علی ظاہری کا بھی یہی قول ہے۔ ایک روایت میں امام اسحق بن راہویہ اور امام احمد بن حنبل سے مروی ہے کہ خواہ ربع دینار ہو خواہ تین درہم دونوں ہی ہاتھ کاٹنے کا نصاب ہے۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹ دو اس سے کم میں نہیں۔ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا تو چوتھائی دینار تین درہم کا ہوا۔ نسائی میں ہے چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم میں نہ کاٹا جائے۔ حضرت عائشہ سے پوچھا گیا ڈھال کی قیمت کیا ہے؟ فرمایا پاؤ دینار۔ پس ان تمام احادیث سے صاف صاف ثابت ہو رہا ہے کہ دس درہم شرط لگانی کھلی غلطی ہے واللہ اعلم۔ امام ابو حنیفہ اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ جس ڈھال کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چور کا ہاتھ کاٹا گیا اس کی قیمت نو درہم تھی چنانچہ ابوبکر بن شیبہ میں یہ موجود ہے اور عبداللہ بن عمر سے۔ عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمرو مخالفت کرتے رہے ہیں اور حدود کے بارے میں اختیار پر عمل کرنا چاہئے اور احتیاط زیادتی میں ہے اس لئے دس درہم نصاب ہم نے مقرر کیا ہے۔ بعض سلف کہتے ہیں کہ دس درہم یا ایک دینار حد ہے علی ابن مسعود ابراہیم نخعی ابو جعفر باقر سے یہی مروی ہے۔ سعید بن جیر فرماتے ہیں پانچوں نہ کاٹی جائیں مگر پانچ دینار پچاس درہم کی قیمت کے برابر کے مال کی چوری میں۔ ظاہریہ کا مذہب ہے کہ ہر تھوڑی بہت چیز کی چوری پر ہاتھ کٹے گا انہیں جمہور نے یہ جواب دیا ہے کہ اولاً تو یہ اطلاق منسوخ ہے لیکن یہ جواب ٹھیک نہیں اس لئے تاریخ نسخ کا کوئی یقینی عمل نہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ انڈے سے مراد لوہے کا انڈا ہے اور رسی سے مراد کشتیوں کے قیمتی رسے ہیں۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ فرمان باعتبار نتیجے کے ہے یعنی ان چھوٹی چھوٹی معمولی سی چیزوں سے چوری شروع کرتا ہے آخر قیمتی چیزیں چرانے لگتا ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بطور افسوس کے اوپر چور کو نادم کرنے کے فرما رہے ہیں کہ کیسا رذیل اور بےخوف انسان ہے کہ معمولی چیز کیلئے ہاتھ جیسی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے۔ مذکور ہے کہ ابو العلام معری جب بغداد میں آیا تو اس نے اس بارے میں بڑے اعتراض شروع کئے اور اس کے جی میں یہ خیال بیٹھ گیا کہ میرے اس اعتراض کا جواب کسی سے نہیں ہو سکتا تو اس نے ایک شعر کہا کہ اگر ہاتھ کاٹ ڈالا جائے تو دیت میں پانچ سو دلوائیں اور پھر اسی ہاتھ کو پاؤ دینار کی چوری پر کٹوا دیں یہ ایسا تناقض ہے کہ ہماری سمجھ میں تو آتا ہی نہیں خاموش ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا مولا ہمیں جہنم سے بچائے۔ لیکن جب اس کی یہ بکواس مشہور ہوئی تو علماء کرام نے اسے جواب دینا چاہا تو یہ بھاگ گیا پھر جواب بھی مشہور کر دیئے گئے۔ قاضی عبد الوہاب نے جواب دیا تھا کہ جب تک ہاتھ امین تھا تب تک ثمین یعنی قیمتی تھا اور جب یہ خائن ہو گیا اس نے چوری کر لی تو اس کی قیمت گھٹ گئی۔ بعض بزرگوں نے اسے قدرے تفصیل سے جواب دیا تھا کہ اس سے شریعت کی کامل حکمت ظاہر ہوتی ہے اور دنیا کا امن و امان قائم ہوتا ہے ، جو کسی کا ہاتھ بےوجہ کاٹ دینے کا حکم دیا تاکہ چوری کا دروازہ اس خوف سے بند ہو جائے۔ پس یہ تو عین حکمت ہے اگر چوری میں بھی اتنی رقم کی قید لگائی جاتی تو چوریوں کا انسداد نہ ہوتا۔ یہ بدلہ ہے ان کے کرتوت کا۔ مناسب مقام یہی ہے کہ جس عضو سے اس نے دوسرے کو نقصان پہنچایا ہے ، اسی عضو پر سزا ہو۔ تاکہ انہیں کافی عبرت حاصل ہو اور دوسروں کو بھی تنبیہہ ہو جائے۔ اللہ اپنے انتقام میں غالب ہے اور اپنے احکام میں حکیم ہے۔ جو شخص اپنے گناہ کے بعد توبہ کر لے اور اللہ کی طرف جھک جائے ، اللہ اسے اپنا گناہ معاف فرما دیا کرتا ہے ۔ ہاں جو مال چوری میں کسی کا لے لیا ہے چونکہ وہ اس شخص کا حق ہے ، لہذا صرف توبہ کرنے سے وہ معاف نہیں ہوتا تاوقتیکہ وہ مال جس کا ہے اسے نہ پہنچائے یا اس کے بدلے پوری پوری قیمت ادا کرے۔ جمہور ائمہ کا یہی قول ہے ، صرف امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ "جب چوری پر ہاتھ کٹ گیا اور مال تلف ہو چکا ہے تو اس کا بدلہ دینا اس پر ضروری نہیں”۔ دار قطنی وغیرہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ "ایک چور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا ، جس نے چادر چرائی تھی ، آپ نے اس سے فرمایا ، میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ہو گی ، انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے چوری کی ہے تو آپ نے فرمایا اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو جب ہاتھ کٹ چکا اور آپ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا توبہ کرو ، انہوں نے توبہ کی ، آپ نے فرمایا اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی” (رضی اللہ عنہ) ابن ماجہ میں ہے کہ "حضرت عمر بن سمرہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہتے ہیں کہ مجھ سے چوری ہو گئی ہے تو آپ مجھے پاک کیجئے ، فلاں قبیلے والوں کا اونٹ میں نے چرا لیا ہے۔ آپ نے اس قبیلے والوں کے پاس آدمی بھیج کر دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا اونٹ تو ضرور گم ہو گیا ہے۔ آپ نے حکم دیا اور ان کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا وہ ہاتھ کٹنے پر کہنے لگے ، اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے میرے جسم سے الگ کر دیا ، تو نے میرے سارے جسم کو جہنم میں لے جانا چاہا تھا” (رضی اللہ عنہ) ابن جریر میں ہے کہ "ایک عورت نے کچھ زیور چرا لئے ، ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسے پیش کیا ، آپ نے اس کا داہنا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ، جب کٹ چکا تو اس عورت نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میری توبہ بھی ہے؟ آپ نے فرمایا تم تو ایسی پاک صاف ہو گئیں کہ گویا آج ہی پیدا ہوئی”۔ اس پر آیت (فمن تاب) نازل ہوئی۔ مسند میں اتنا اور بھی ہے کہ اس وقت اس عورت والوں نے کہا ہم اس کا فدیہ دینے کو تیار ہے لیکن آپ نے اسے قبول نہ فرمایا اور ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ یہ عورت مخزوم قبیلے کی تھی اور اس کا یہ واقعہ بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے کہ چونکہ یہ بڑی گھرانے کی عورت تھی ، لوگوں میں بڑی تشویش پھیلی اور ارادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں کچھ کہیں سنیں ، یہ واقعہ غزوہ فتح میں ہوا تھا ، بالاخر یہ طے ہوا کہ حضرت اسامہ بن زید جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت پیارے ہیں ، وہ ان کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کریں ، حضرت اسامہ نے جب اس کی سفارش کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ناگوار گزرا اور غصے سے فرمایا! اسامہ تو اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہا ہے؟ اب تو حضرت اسامہ بہت گھبرائے اور کہنے لگے مجھ سے بڑی خطا ہوئی ، میرے لئے آپ استفغار کیجئے۔ شام کے وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ سنایا جس میں اللہ تعالٰی کی پوری حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ تم سے پہلے کے لوگ اسی خصلت پر تباہ و برباد ہو گئے کہ ان میں سے جب کوئی شریف شخص بڑا آدمی چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی معمولی آدمی ہوتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی چوری کریں تو میں ان کے بھی ہاتھ کاٹ دوں۔ پھر حکم دیا اور اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ حضرت صدیقہ فرماتی ہیں پھر اس بیوی صاحبہ نے توبہ کی اور پوری اور پختہ توبہ کی اور نکاح کر لیا ، پھر وہ میرے پاس اپنے کسی کام کاج کیلئے آتی تھیں اور میں اس کی حاجت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر دیا کرتی تھی۔ (رضی اللہ عنہما) "مسلم میں ہے ایک عورت لوگوں سے اسباب ادھار لیتی تھی ، پھر انکار کر جایا کرتی تھی ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا” اور روایت میں ہے یہ زیور ادھار لیتی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم حضرت بلال کو ہوا تھا۔ کتاب الاحکام میں ایسی بہت سی حدیثیں وارد ہیں جو چوری سے تعلق رکھتی ہیں۔ فالحمد للہ۔ جمیع مملوک کا مالک ساری کائنات کا حقیقی بادشاہ ، سچا حاکم ، اللہ ہی ہے۔ جس کے کسی حکم کو کوئی روک نہیں سکتا۔ جس کے کسی ارادے کو کوئی بدل نہیں سکتا ، جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے۔ ہر ہر چیز پر وہ قادر ہے اس کی قدرت کامل اور اس کا قبضہ سچا ہے۔

تقویٰ قربت الٰہی کی بنیاد ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

005:035

‏ [جالندھری]‏ اے ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہو۔ اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اس کے راستہ میں جہاد کرو تاکہ رستگاری پاؤ۔

_____________
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

005:036

‏ [جالندھری]‏ جو لوگ کافر ہیں اگر انکے پاس روئے زمین (کے تمام خزانے اور اس) کا سب مال ومتاع ہو اور اس کے ساتھ اسی قدر اور بھی ہوتا کہ قیامت کے روز عذاب سے (رستگاری حاصل کرنے) کا بدلہ دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور انکو درد دینے والا عذاب ہوگا۔ ‏

_____________
يُرِيدُونَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنْهَا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُقِيمٌ

005:037

‏ [جالندھری]‏ (ہر چند) چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں مگر اس سے نہیں نکل سکیں گے۔ اور ان کے لیے ہمیشہ کا عذاب ہے۔


تفسیر ابن كثیر

تقویٰ قربت الٰہی کی بنیاد ہے
تقوے کا حکم ہو رہا ہے اور وہ بھی اطاعت سے ملا ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے منع کردہ کاموں سے جو شخص رکا رہے ، اس کی طرف قربت یعنی نزدیکی تلاش کرے۔ وسیلے کے یہی معنی حضرت ابن عباس سے منقول ہیں۔ حضرت مجاہد ، حضرت وائل ، حضرت حسن ، حضرت ابن زید اور بہت سے مفسرین سے بھی مروی ہے۔ قتادہ فرماتے ہیں اللہ کی اطاعت اور اس کی مرضی کے اعمال کرنے سے اس سے قریب ہوتے جاؤ۔ ابن زید نے یہ آیت بھی پڑھی (اولئک الذین یدعون یبتغون الی ربھم الوسیلتہ) جنہیں یہ پکارتے ہیں وہ تو خود ہی اپنے رب کی نزدیکی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ ان ائمہ نے وسیلے کے جو معنی اس آیت میں کئے ہیں اس پر سب مفسرین کا اجماع ہے ، اس میں کسی ایک کو بھی اختلاف نہیں۔ امام جریر نے اس پر ایک عربی شعر بھی وارد کیا ہے ، جس میں وسیلہ معنی قربت اور نزدیک کے مستعمل ہوا ہے۔ وسیلے کے معنی اس چیز کے ہیں جس سے مقصود کے حاصل کرنے کی طرف پہنچا جائے اور وسیلہ جنت کی اس اعلیٰ اور بہترین منزل کا نام ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ ہے۔ عرش سے بہت زیادہ قریب یہی درجہ ہے۔ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے "جو شخص اذان سن کر دعا(اللھم رب ھذہ الدعوۃ التامتہ) الخ ، پڑھے اس کیلئے میری شفاعت حلال ہو جاتی ہے”۔ مسلم کی حدیث میں ہے "جب تم اذان سنو تو جو مؤذن کہہ رہا ہو ، وہی تم بھی کہو ، پھر مجھ پر درود بھیجو ، ایک درود کے بدلے تم پر اللہ تعالٰی دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔ پھر میرے لئے اللہ تعالٰی سے وسیلہ طلب کرو ، وہ جنت کا ایک درجہ ہے ، جسے صرف ایک ہی بندہ پائے گا ، مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں۔ پس جس نے میرے لئے وسیلہ طلب کیا ، اس کیلئے میری شفاعت واجب ہو گئی”۔ مسند احمد میں ہے "جب تم مجھ پر درود پڑھو تو میرے لئے وسیلہ مانگو ، پوچھا گیا کہ وسیلہ کیا ہے؟ فرمایا جنت کا سب سے بلند درجہ جسے صرف ایک شخص ہی پائے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ شخص میں ہوں”۔ طبرانی میں ہے "تم اللہ سے دعا کرو کہ اللہ مجھے وسیلہ عطا فرمائے جو شخص دنیا میں میرے لئے یہ دعا کرے گا ، میں اس پر گواہ یا اس کا سفارشی قیامت کے دن بن جاؤں گا "۔ اور حدیث میں ہے "وسیلے سے بڑا درجہ جنت میں کوئی نہیں۔ لہذا تم اللہ تعالٰی سے میرے لئے وسیلے کے ملنے کی دعا کرو”۔ ایک غریب اور منکر حدیث میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ وسیلے میں آپ کے ساتھ اور کون ہوں گے؟ تو آپ نے حضرت فاطمہ اور حسن حسین کا نام لیا۔ ایک اور بہت غریب روایت میں ہے کہ حضرت علی نے کوفہ کے منبر پر فرمایا کہ جنت میں دو موتی ہیں ، ایک سفید ایک زرد ، زرد تو عرش تلے ہے اور مقام محمود سفید موتی کا ہے ، جس میں ستر ہزار بالا خانے ہیں ، جن میں سے ہر ہر گھر تین میل کا ہے۔ اس کے دریچے دروازہ تخت وغیرہ سب کے سب گویا ایک ہی جڑ سے ہیں۔ اسی کا نام وسیلہ ہے ، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہل بیت کیلئے ہے۔ تقویٰ کا یعنی ممنوعات سے رکنے کا اور حکم احکام کے بجا لانے کا حکم دے کر پھر فرمایا کہ "اس کی راہ میں جہاد کرو ، مشرکین و کفار کو جو اس کے دشمن ہیں اس کے دین سے الگ ہیں ، اس کی سیدھی راہ سے بھٹک گئے ہیں ، انہیں قتل کرو۔ ایسے مجاہدین بامراد ہیں ، فلاح و صلاح سعادت و شرافت انہی کیلئے ہیں ، جنت کے بلند بالا خانے اور اللہ کی بیشمار نعمتیں انہی کیلئے ہیں ، یہ اس جنت میں پہنچائے جائیں گے ، جہاں موت و فوت نہیں ، جہاں کمی اور نقصان نہیں ، جہاں ہمیشگی کی جوانی اور ابدی صحت اور دوامی عیش و عشرت ہے”۔ اپنے دوستوں کا نیک انجام بیان فرما کر اب اپنے دشمنوں کا برا نتیجہ ظاہر فرماتا ہے کہ "ایسے سخت اور بڑے عذاب انہیں ہو رہے ہوں گے کہک اگر اس وقت روئے زمین کے مالک ہوں بلکہ اتنا ہی اور بھی ہو تو ان عذابوں سے بچنے کیلئے بطور بدلے کے سب دے ڈالیں لیکن اگر ایسا ہو بھی جائے تو بھی ان سے اب فدیہ قبول نہیں بلکہ جو عذاب ان پر ہیں ، وہ دائمی اور ابدی اور دوامی ہیں”۔ جیسے اور جگہ ہے کہ "جہنمی جب جہنم میں سے نکلنا چاہئیں گے تو پھر دوبارہ اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں کے ساتھ اوپر آ جائیں گے کہ داروغے انہیں لوہے کے ہتھوڑے مار مار کر پھر قعر جہنم میں گرا دیں گے۔ غرض ان دائمی عذابوں سے چھٹکارا محال ہے”۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں "ایک جہنمی کو لایا جائے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم کہو تمہاری جگہ کیسی ہے؟ وہ کہے گا بدترین اور سخت ترین۔ اس سے پوچھا جائے گا کہ اس سے چھوٹنے کیلئے تو کیا کچھ خرچ کر دینے پر راضی ہے؟ وہ کہے گا ساری زمین بھر کا سونا دے کر بھی میں یہاں سے چھوٹوں تو بھی سستا چھوٹا۔ اللہ تعالٰی فرمائے گا جھوٹا ہے میں نے تو تجھ سے اس سے بہت ہی کم مانگا تھا لیکن تو نے کچھ بھی نہ کیا۔ پھر حکم دیا جائے گا اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ” (مسلم ) ایک مرتبہ حضرت جابر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کیا کہ ایک قوم جہنم میں سے نکال کر جنت میں پہنچائی جائے گی۔ اس پر ان کے شاگرد حضرت یزید فقیر نے پوچھا کہ پھر اس آیت قرآنی کا کیا مطلب ہے؟ کہ آت ( یریدون ان یخرجوا منھا) الخ ، یعنی وہ جہنم سے آزاد ہونا چاہیں گے لیکن وہ آزاد ہونے والے نہیں تو آپ نے فرمایا اس سے پہلے کی آیت (ان الذین کفروا) الخ ، پڑھو جس سے صاف ہو جاتا ہے کہ یہ کافر لوگ ہیں یہ کبھی نہ نکلیں گے (مسند وغیرہ) دوسری روایت میں ہے کہ یزید کا خیال یہی تھا کہ جہنم میں سے کوئی بھی نہ نکلے گا اس لئے یہ سن کر انہوں نے حضرت جابر سے کہا کہ مجھے اور لوگوں پر تو افسوس نہیں ہاں آپ صحابیوں پر افسوس ہے کہ آپ بھی قرآن کے الٹ کہتے ہیں اس وقت مجھے بھی غصہ آ گیا تھا اس پر ان کے ساتھیوں نے مجھے ڈانٹا لیکن حضرت جابر بہت ہی حلیم الطبع تھے انہوں نے سب کو روک دیا اور سمجھے سمجھایا کہ قرآن میں جن کا جہنم سے نہ نکلنے کا ذکر ہے وہ کفار ہیں۔ تم نے قرآن نہیں پڑھا؟ میں نے کہا ہاں مجھے سارا قرآن یاد ہے؟ کہاں پھر کیا یہ آیت قرآن میں نہیں ہے؟ آیت (ومن الیل فتھجد بہ) الخ ، اس میں مقام محمود کا ذکر ہے یہی مقام شفاعت ہے۔ اللہ تعالٰی بعض لوگوں کو جہنم میں ان کی خطاؤں کی وجہ سے ڈالے گا اور جب تک چاہے انہیں جہنم میں ہی رکھے گا پھر جب چاہے گا انہیں اس سے آزاد کر دے گا۔ حضرت یزید فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سے میرا خیال ٹھیک ہو گیا۔ حضرت طلق بن حبیب کہتے ہیں میں بھی منکر شفاعت تھا یہاں تک کہ حضرت جابر سے ملا اور اپنے دعوے کے ثبوت میں جن جن آیتوں میں جہنم کے ہمیشہ رہنے والوں کا ذکر ہے سب پڑھ ڈالیں تو آپ نے سن کر فرمایا! اے طلق کیا تم اپنے تئیں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں مجھ سے افضل جانتے ہو؟ سنو جتنی آیتیں تم نے پڑھی ہیں وہ سب اہل جہنم کے بارے میں ہیں یعنی مشرکوں کیلئے۔ لیکن وہ لوگ نکلیں گے یہ وہ لوگ ہیں جو مشرک نہ تھے لیکن گہنگار تھے گناہوں کے بدلے سزا بھگت لی پھر جہنم سے نکال دیئے گئے۔ حضرت جابر نے یہ سب فرما کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ دونوں بہرے ہو جائیں اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہو کہ جہنم میں داخل ہونے بعد بھی لوگ اس میں سے نکالے جائیں گے اور وہ جہنم سے آزاد کر دیئے جائیں گے قرآن کی یہ آیتیں جس طرح تم پڑھتے ہو ہم بھی پڑھتے ہی ہیں۔

ایک بےگناہ شخص کا قتل تمام انسانوں کا قتل

مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ۚ وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ

005:032

‏ [جالندھری]‏ اس (قتل) کی وجہ سے تم نے نبی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی پیدا کرنے کی سزا دی جائے اس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا توگویا لوگوں کی زندگانی کا موجب ہو ا۔ اور لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لاچکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان میں بہت سے لوگ ملک میں حّد اعتدال سے نکل جاتے ہیں ۔ ‏

_____________
إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ

005:033

‏ [جالندھری]‏ جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کو دوڑتے پھریں انکی یہی سزا ہے کہ قتل کردیے جائیں یا سُولی چڑھا دیے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیے جائیں یا ملک سے نکال دیے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا (بھاری) عذاب (تیّار) ہے۔ ‏

_____________
إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ ۖ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ

005:034

‏ [جالندھری]‏ ہاں جن لوگوں نے اس سے پیشترکہ تمہارے قابو آجائیں توبہ کر لی تو جان رکھو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ ‏
تفسیر ابن كثیر

ایک بےگناہ شخص کا قتل تمام انسانوں کا قتل
فرمان ہے کہ حضرت آدم کے اس لڑکے کے قتل بیجا کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل سے صاف فرما دیا ان کی کتاب میں لکھ دیا اور ان کیلئے اس حکم کو حکم شرعی کر دیا کہ "جو شخص کسی ایک کو بلا وجہ مار ڈالے نہ اس نے کسی کو قتل کیا تھا نہ اس نے زمین میں فساد پھیلایا تھا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کیا ، اس لئے کہ اللہ کے نزدیک ساری مخلوق یکساں ہے اور جو کسی بےقصور شخص کے قتل سے باز رہے اسے حرام جانے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو زندگی ، اس لئے کہ یہ سب لوگ اس طرح سلامتی کے ساتھ رہیں گے”۔ امیر المومنین حضرت عثمان کو جب باغی گھیر لیتے ہیں ، تو حضرت ابوہریرہ ان کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں میں آپ کی طرف داری میں آپ کے مخالفین سے لڑنے کیلئے آیا ہوں ، آپ ملاحظہ فرمایئے کہ اب پانی سر سے اونچا ہو گیا ہے ، یہ سن کر معصوم خلیفہ نے فرمایا ، کیا تم اس بات پر آمادہ ہو کہ سب لوگوں کو قتل کر دو ، جن میں ایک میں بھی ہوں۔ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا نہیں نہیں ، فرمایا سنو ایک کو قتل کرنا ایسا برا ہے جیسے سب کو قتل کرنا۔ جاؤ واپس لوٹ جاؤ ، میری یہی خواہش ہے اللہ تمہیں اجر دے اور گناہ نہ دے ، یہ سن کر آپ واپس چلے گئے اور نہ لڑے۔ مطلب یہ ہے کہ قتل کا اجر دنیا کی بربادی کا باعث ہے اور اس کی روک لوگوں کی زندگی کا سبب ہے۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں "ایک مسلمان کا خون حلال کرنے والا تمام لوگوں کا قاتل ہے اور ایک مسلم کے خون کو بچانے والا تمام لوگوں کے خون کو گویا بچا رہا ہے”۔ ایک مسلمان کا خون حلال کرنے والا تمام لوگوں کا قاتل ہے اور ایک مسلم کے خون کو بچانے والا تمام لوگوں کے خون کو گویا بچا رہا ہے”۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اور عادل مسلم بادشاہ کو قتل کرنے والے پر ساری دنیا کے انسانوں کے قتل کا گناہ ہے اور نبی اور امام عادل کے بازو کو مضبوط کرنا دنیا کو زندگی دینے کے مترادف ہے” (ابن جریر) ایک اور روایت میں ہے کہ "ایک کو بےوجہ مار ڈالتے ہی جہنمی ہو جاتا ہے گویا سب کو مار ڈالا "۔ مجاہد فرماتے ہیں "مومن کو بےوجہ شرعی مار ڈالنے والا جہنمی دشمن رب ، ملعون اور مستحق سزا ہو جاتا ہے ، پھر اگر وہ سب لوگوں کو بھی مار ڈالتا تو اس سے زیادہ عذاب اسے اور کیا ہوتا؟ جو قتل سے رک جائے گویا کہ اس کی طرف سے سب کی زندگی محفوظ ہے”۔ عبد الرحمن فرماتے ہیں "ایک قتل کے بدلے ہی اس کا خون حلال ہو گیا ، یہ نہیں کہ کئی ایک کو قتل کرے ، جب ہی وہ قصاص کے قابل ہو ، اور جو اسے زندگی دے یعنی قاتل کے ولی سے درگزر کرے اور اس نے گویا لوگوں کو زندگی دی”۔ اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ جس نے انسان کی جان بچا لی مثلاً ڈوبتے کو نکال لیا ، جلتے کو بچا لیا ، کسی کو ہلاکت سے ہٹا لیا۔ مقصد لوگوں کو خون ناحق سے روکنا اور لوگوں کی خیر خواہی اور امن و امان پر آمادہ کرنا ہے۔ حضرت حسن سے پوچھا گیا کہ "کیا بنی اسرائیل جس طرح اس حکم کے مکلف تھے ، ہم بھی ہیں ، فرمایا ہاں یقینا اللہ کی قسم! بنو اسرائیل کے خون اللہ کے نزدیک ہمارے خون سے زیادہ بوقعت نہ تھے، پس ایک شخص کا بےسبب قتل سب کے قتل کا بوجھ ہے اور ایک کی جان کے بچاؤ کا ثواب سب کو بچا لینے کے برابر ہے”۔ ایک مرتبہ حضرت حمزہ بن عبد المطلب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی بات بتائیں کہ میری زندگی با آرام گزرے۔ آپ نے فرمایا کیا کسی کو مار ڈالنا تمہیں پسند ہے یا کسی کو بچا لینا تمہیں محبوب ہے؟ جواب دیا بچا لینا ، فرمایا "بس اب اپنی اصلاح میں لگے رہو”۔ پھر فرماتا ہے ان کے پاس ہمارے رسول واضح دلیلیں اور روشن احکام اور کھلے معجزات لے کر آئے لیکن اس کے بعد بھی اکثر لوگ اپنی سرکشی اور دراز دستی سے باز نہ رہے۔ بنو قینقاع کے یہود و بنو قریظہ اور بنو نضیر وغیرہ کو دیکھ لیجئے کہ اوس اور خزرج کے ساتھ مل کر آپس میں ایک دوسرے سے لڑتے تھے اور لڑائی کے بعد پھر قیدیوں کے فدیئے دے کر چھڑاتے تھے اور مقتول کی دیت ادا کرتے تھے۔ جس پر انہیں قرآن میں سمجھایا گیا کہ تم سے عہد یہ لیا گیا تھا کہ نہ تو اپنے والوں کے خون بہاؤ ، نہ انہیں دیس سے نکالو لیکن تم نے باوجود پختہ اقرار اور مضبوط عہد پیمان کے اس کے خلاف گو فدیئے ادا کئے لیکن نکالنا بھی تو حرام تھا ، اس کے کیا معنی کہ کسی حکم کو مانو اور کسی سے انکار کر ، ایسے لوگوں کو سزا یہی ہے کہ دنیا میں رسوا اور ذلیل ہوں اور آخرت میں سخت تر عذابوں کا شکار ہوں ، اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں۔ (محاربہ) کے معنی حکم کے خلاف کرنا ، برعکس کرنا، مخالفت پر تل جانا ہیں۔ مراد اس سے کفر ، ڈاکہ زنی ، زمین میں شورش و فساد اور طرح طرح کی بدامنی پیدا کرنا ہے ، یہاں تک کہ سلف نے یہ بھی فرمایا ہے کہ سکے کو توڑ دینا بھی زمین میں فساد مچانا ہے۔ قرآن کی ایک اور آیت میں ہے جب وہ کسی اقتدار کے مالک ہو جاتے ہیں تو فساد پھیلا دیتے ہیں اور کھیت اور نسل کو ہلاک کرنے لگتے ہیں اللہ تعالٰی فساد کو پسند نہیں فرماتا۔ یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس لئے کہ اس میں یہ بھی ہے کہ جب ایسا شخص ان کاموں کے بعد مسلمانوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہونے سے پہلے ہی توبہ تلا کر لے تو پھر اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں ، برخلاف اس کے اگر مسلمان ان کاموں کو کرے اور بھاگ کر کفار میں جا ملے تو حد شرعی سے آزاد نہیں ہوتا۔ ابن عباس فرماتے ہیں "یہ آیت مشرکوں کے بارے میں اتری ہے ، پھر ان میں سے جو کئی مسلمان کے ہاتھ آ جانے سے پہلے توبہ کر لے تو جو حکم اس پر اس کے فعل کے باعث ثابت ہو چکا ہے وہ ٹل نہیں سکتا "۔
فساد اور قتل و غارت
حضرت ابی سے مروی ہے کہ اہل کتاب کے ایک گروہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاہدہ ہو گیا تھا لیکن انہوں نے اسے توڑ دیا اور فساد مچا دیا۔ اس پر اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا کہ اگر آپ چاہیں تو انہیں قتل کر دیں ، چاہیں تو الٹے سیدھے ہاتھ پاؤں کٹوا دیں۔ حضرت سعد فرماتے ہیں "یہ حروریہ خوارج کے بارے میں نازل ہوئی ہے”۔ صحیح یہ ہے کہ جو بھی اس فعل کا مرتکب ہو اس کیلئے یہ حکم ہے۔ چنانچہ بخاری مسلم میں ہے کہ "قبیلہ عکل کے آٹھ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، آپ نے ان سے فرمایا اگر تم چاہو تو ہمارے چرواہوں کے ساتھ چلے جاؤ اونٹوں کا دودھ اور پیشاب تمہیں ملے گا چنانچہ یہ گئے اور جب ان کی بیماری جاتی رہی تو انہوں نے ان چرواہوں کو مار ڈالا اور اونٹ لے کر چلتے بنے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے صحابہ کو ان کے پیچھے دوڑایا کہ انہیں پکڑ لائیں ، چنانچہ یہ گرفتار کئے گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے۔ پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے اور آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں اور دھوپ میں پڑے ہوئے تڑپ تڑپ کر مر گئے”۔ مسلم میں ہے یا تو یہ لوگ عکل کے تھے یا عرینہ کے۔ یہ پانی مانگتے تھے مگر انہیں پانی نہ دیا گیا نہ ان کے زخم دھوئے گئے۔ انہوں نے چوری بھی کی تھی ، قتل بھی کیا تھا ، ایمان کے بعد کفر بھی کیا تھا اور اللہ رسول سے لڑتے بھی تھے۔ انہوں نے چرواہوں کی آنکھوں میں گرم سلائیاں بھی پھیری تھیں ، مدینے کی آب و ہوا اس وقت درست نہ تھی ، سرسام کی بیماری تھی ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے بیس انصاری گھوڑ سوار بھیجے تھے اور ایک کھوجی تھا ، جو نشان قدم دیکھ کر رہبری کرتا جاتا تھا۔ موت کے وقت ان کی پیاس کے مارے یہ حالت تھی کہ زمین چاٹ رہے تھے ، انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ایک مرتبہ حجاج نے حضرت انس سے سوال کیا کہ سب سے بڑی اور سب سے سخت سزا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو دی ہو ، تم بیان کرو تو آپ نے یہ واقعہ بیان فرمایا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لوگ بحرین سے آئے تھے ، بیماری کی وجہ سے ان کے رنگ زرد پڑ گئے تھے اور پیٹ بڑھ گئے تھے تو آپ نے انہیں فرمایا کہ جاؤ اونٹوں میں رہو اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو۔ حضرت انس فرماتے ہیں پھر میں نے دیکھا کہ حجاج نے تو اس روایت کو اپنے مظالم کی دلیل بنا لی تب تو مجھے سخت ندامت ہوئی کہ میں نے اس سے یہ حدیث کیوں بیان کی؟ اور روایت میں ہے کہ ان میں سے چار شخص تو عرینہ قبیلے کے تھے اور تین عکل کے تھے ، یہ سب تندرست ہو گئے تو یہ مرتد بن گئے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ راستے بھی انہوں نے بند کر دیئے تھے اور زنا کار بھی تھے ، جب یہ آئے تو اب سب کے پاس بوجہ فقیری پہننے کے کپڑے تک نہ تھے ، یہ قتل و غارت کر کے بھاگ کر اپنے شہر کو جا رہے تھے۔ حضرت جریر فرماتے ہیں کہ یہ اپنی قوم کے پاس پہنچنے والے تھے جو ہم نے انہیں جا لیا۔ وہ پانی مانگتے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ، اب تو پانی کے بدلے جہنم کی آگ ملے گی۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ آنکھوں میں سلائیاں پھیرنا اللہ کو ناپسند آیا ، یہ حدیث ضعیف اور غریب ہے لیکن اس سے یہ معلوم ہوا کہ جو لشکر ان مرتدوں کے گرفتار کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا ، ان کے سردار حضرت جریر تھے۔ ہاں اس روایت میں یہ فقرہ بالکل منکر ہے کہ اللہ تعالٰی نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیرنا مکروہ رکھا۔ اس لئے کہ صحیح مسلم میں یہ موجود ہے کہ انہوں نے چرواہوں کے ساتھ بھی یہی کیا تھا ، پس یہ اس کا بدلہ اور ان کا قصاص تھا جو انہوں نے ان کے ساتھ کیا تھا وہی ان کے ساتھ کیا گیا واللہ اعلم۔ اور روایت میں ہے کہ یہ لوگ بنو فزارہ کے تھے ، اس واقعہ کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سزا کسی کو نہیں دی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام تھا ، جس کا نا یسار تھا چونکہ یہ بڑے اچھے نمازی تھے ، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا تھا اور اپنے اونٹوں میں انہیں بھیج دیا تھا کہ یہ ان کی نگرانی رکھیں ، انہی کو ان مرتدوں نے قتل کیا اور ان کی آنکھوں میں کانٹے گاڑ کر اونٹ لے کر بھاگ گئے ، جو لشکر انہیں گرفتار کر کے لایا تھا ، ان میں ایک شاہ زور حضرت کرز بن جابر فہری تھے۔ حافظ ابوبکر بن مردویہ نے اس روایت کے تمام طریقوں کو جمع کر دیا اللہ انہیں جزائے خیر دے۔ ابو حمزہ عبد الکریم سے اونٹوں کے پیشاب کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ ان محاربین کا قصہ بیان فرماتے ہیں اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لوگ منافقانہ طور پر ایمان لائے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مدینے کی آب و ہوا کی ناموافقت کی شکایت کی تھی ، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی دغا بازی اور قتل و غارت اور ارتداد کا علم ہوا ، تو آپ نے منادی کرائی کہ اللہ کے لشکریو اٹھ کھڑے ہو ، یہ آواز سنتے ہی مجاہدین کھڑے ہو گئے ، بغیر اس کے کہ کوئی کسی کا انتظار کرے ان مرتد ڈاکوؤں اور باغیوں کے پیچھے دوڑے ، خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کو روانہ کر کے ان کے پیچھے چلے ، وہ لوگ اپنی جائے امن میں پہنچنے ہی کو تھے کہ صحابہ نے انہیں گھیر لیا اور ان میں سے جتنے گرفتار ہو گئے ، انہیں لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا اور یہ آیت اتری ، ان کی جلاوطنی یہی تھی کہ انہیں حکومت اسلام کی حدود سے خارج کر دیا گیا۔ پھر ان کو عبرتناک سزائیں دی گئیں ، اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے بھی اعضاء بدن سے جدا نہیں کرائے بلکہ آپ نے اس سے منع فرمایا ہے ، جانوروں کو بھی اس طرح کرنا منع ہے۔ بعض روایتوں میں ہے کہ قتل کے بعد انہیں جلا دیا گیا ، بعض کہتے ہیں یہ بنو سلیم کے لوگ تھے۔ بعض بزرگوں کا قول ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سزا انہیں دی وہ اللہ کو پسند نہ آئیں اور اس آیت سے اسے منسوخ کر دیا۔ ان کے نزدیک گویا اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سزا سے روکا گیا ہے۔ جیسے آیت (عفا اللہ عنک) میں اور بعض کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مثلہ کرنے سے یعنی ہاتھ پاؤں کان ناک کاٹنے سے جو ممانعت فرمائی ہے ، اس حدیث سے یہ سزا منسوخ ہو گئی لیکن یہ ذرا غور طلب ہے پھر یہ بھی سوال طلب امر ہے کہ ناسخ کی تاخیر کی دلیل کیا ہے؟ بعض کہتے ہیں حدود اسلام مقرر ہوں اس سے پہلے کا یہ واقعہ ہے لیکن یہ بھی کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا ، بلکہ حدود کے تقرر کے بعد کا واقعہ معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ اس حدیث کے ایک راوی حضرت جریر بن عبداللہ ہیں اور ان کا اسلام سورہ مائدہ کے نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے۔ بعض کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیرنی چاہی تھیں لیکن یہ آیت اتری اور آپ اپنے ارادے سے باز رہے ، لیکن یہ بھی درست نہیں۔ اس لئے کہ بخاری و مسلم میں یہ لفظ ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں سلائیں پھروائیں۔ محمد بن عجلان فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سخت سزا انہیں دی ، اس کے انکار میں یہ آیتیں اتری ہیں اور ان میں صحیح سزا بیان کی گئی ہے جو قتل کرنے اور ہاتھ پاؤں الٹی طرف سے کاٹنے اور وطن سے نکال دینے کے حکم پر شامل ہے چنانچہ دیکھ لیجئے کہ اس کے بعد پھر کسی کی آنکھوں میں سلائیاں پھیرنی ثابت نہیں ، لیکن "اوزاعی کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں کہ اس آیت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل پر آپ کو ڈانٹا گیا ہو ، بات یہ ہے کہ انہوں نے جو کیا تھا اس کا وہی بدلہ مل گیا ، اب آیت نازل ہوئی جس نے ایک خاص حکم ایسے لوگوں کا بیان فرمایا اور اس میں آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیرنے کا حکم نہیں دیا "۔ اس آیت سے جمہور علماء نے دلیل پکڑی ہے کہ راستوں کی بندش کر کے لڑنا اور شہروں میں لڑنا دونوں برابر ہے کیونکہ لفظ (ویسعون فی الارض فسادا) کے ہیں۔ مالک ، اوزاعی ، لیث ، شافعی ، ، احمد رحمہم اللہ اجمعین کا یہی مذہب ہے کہ باغی لوگ خواہ شہر میں ایسا فتنہ مچائیں یا بیرون شہر ، ان کی سزا یہی ہے کہ بلکہ امام مالک تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو اس کے گھر میں اس طرح دھوکہ دہی سے مار ڈالے تو اسے پکڑ لیا جائے اور اسے قتل کر دیا جائے اور خود امام وقت ان کاموں کو از خود کرے گا ، نہ کہ مقتول کے اولیاء کے ہاتھ میں یہ کام ہوں بلکہ اگر وہ درگزر کرنا چاہیں تو بھی ان کے اختیار میں نہیں بلکہ یہ جرم ، بےواسطہ حکومت اسلامیہ کا ہے۔ امام ابو حنیفہ کا مذہب یہ نہیں ، وہ کہتے ہیں کہ "مجاربہ اسی وقت مانا جائے گا جبکہ شہر کے باہر ایسے فساد کوئی کرے ، کیونکہ شہر میں تو امداد کا پہنچنا ممکن ہے ، راستوں میں یہ بات ناممکن سی ہے” جو سزا ان محاربین کی بیان ہوئی ہے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں "جو شخص مسلمانوں پر تلوار اٹھائے ، راستوں کو پُر خطر بنا دے ، امام المسلمین کو ان تینوں سزاؤں میں سے جو سزا دینا چاہے اس کا اختیار ہے”۔ یہی قول اور بھی بہت سوں کا ہے اور اس طرح کا اختیار ایسی ہی اور آیتوں کے احکام میں بھی موجود ہے جیسے محرم اگر شکار کھیلے تو اس کا بدلہ شکار کے برابر کی قربانی یا مساکین کا کھانا ہے یا اس کے برابر روزے رکھنا ہے ، بیماری یا سر کی تکلیف کی وجہ سے حالت احرام میں سر منڈوانے اور خلاف احرام کام کرنے والے کے فدیئے میں بھی روزے یا صدقہ یا قربانی کا حکم ہے۔ قسم کے کفارے میں درمیانی درجہ کا کھانا دیں مسکینوں کا یا ان کا کپڑا یا ایک غلام کو آزاد کرنا ہے۔ تو جس طرح یہاں ان صورتوں میں سے کسی ایک کے پسند کر لینے کا اختیار ہے ، اسی طرح ایسے محارب ، مرتد لوگوں کی سزا بھی یا تو قتل ہے یا ہاتھ پاؤں الٹی طرح سے کاٹنا ہے یا جلا وطن کرنا۔ اور جمہور کا قول ہے کہ یہ آیت کئی احوال میں ہے ، جب ڈاکو قتل و غارت دونوں کے مرتکب ہوتے ہوں تو قابل دار اور گردن وزنی ہیں اور جب صرف قتل سرزد ہوا ہو تو قتل کا بدلہ صرف قتل ہے اور اگر فقط مال لیا ہو تو ہاتھ پاؤں الٹے سیدھے کاٹ دیئے جائیں گے اور اگر راستے پُر خطر کر دیئے ہوں ، لوگوں کو خوف زدہ کر دیا ہو اور کسی گناہ کے مرتکب نہ ہوئے ہوں اور گرفتار کر لئے جائیں تو صرف جلاوطنی ہے۔ اکثر سلف اور ائمہ کا یہی مذہب ہے پھر بزرگوں نے اس میں بھی اختلاف کیا ہے کہ آیا سولی پر لٹکا کر یونہی چھوڑ دیا جائے کہ بھوکا پیاسا مر جائے؟ یا نیزے وغیرہ سے قتل کر دیا جائے؟ یا پہلے قتل کر دیا جائے پھر سولی پر لٹکایا جائے تا کہ اور لوگوں کو عبرت حاصل ہو؟ اور کیا تین دن تک سولی پر رہنے دے کر پھر اتار لیا جائے؟ یا یونہی چھوڑ دیا جائے لیکن تفسیر کا یہ موضوع نہیں کہ ہم ایسے جزئی اختلافات میں پڑیں اور ہر ایک کی دلیلیں وغیرہ وارد کریں۔ ہاں ایک حدیث میں کچھ تفصیل سزا ہے ، اگر اس کی سند صحیح ہو تو وہ یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان محاربین کے بارے میں حضرت جبرائیل سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا "جنہوں نے مال چرایا اور راستوں کو خطرناک بنا دیا ان کے ہاتھ تو چوری کے بدلے کاٹ دیجئے اور جس نے قتل اور دہشت گردی پھیلائی اور بدکاری کا ارتکاب کیا ہے ، اسے سولی چڑھا دو ۔ فرمان ہے کہ زمین سے الگ کر دیئے جائیں یعنی انہیں تلاش کر کے ان پر حد قائم کی جائے یا وہ دار الاسلام سے بھاگ کر کہیں چلے جائیں یا یہ کہ ایک شہر سے دوسرے شہر اور دوسرے سے تیسرے شہر انہیں بھیج دیا جاتا رہے یا یہ کہ اسلامی سلطنت سے بالکل ہی خارج کر دیا جائے”۔ شعبی تو نکال ہی دیتے تھے اور عطا خراسانی کہتے ہیں "ایک لشکر میں سے دوسرے لشکر میں پہنچا دیا جائے یونہی کئی سال تک مارا مارا پھرایا جائے لیکن دار الاسلام سے باہر نہ کیا جائے”۔ ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں "اسے جیل خانے میں ڈال دیا جائے”۔ ابن جریر کا مختار قول یہ ہے کہ "اسے اس کے شہر سے نکال کر کسی دوسرے شہر کے جیل خانے میں ڈال دیا جائے”۔ "ایسے لوگ دنیا میں ذلیل و رذیل اور آخرت میں بڑے بھاری عذابوں میں گرفتار ہوں گے”۔ آیت کا یہ ٹکڑا تو ان لوگوں کی تائید کرتا ہے جو کہتے ہیں کہ یہ آیت مشرکوں کے بارے میں اتری ہے اور مسلمانوں کے بارے وہ صحیح حدیث ہے جس میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ویسے ہی عہد لئے جیسے عورتوں سے لئے تھے کہ "ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ، چوری نہ کریں ، زنا نہ کریں ، اپنی اولادوں کو قتل نہ کریں ، ایک دوسرے کی نافرمانی نہ کریں جو اس وعدے کو نبھائے ، اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اور جو ان میں سے کسی گناہ کے ساتھ آلودہ ہو جائے پھر اگر اسے سزا ہو گئی تو وہ سزا کفارہ بن جائے گی اور اگر اللہ تعالٰی نے پردہ پوشی کر لی تو اس امر کا اللہ ہی مختار ہے اگر چاہے عذاب کرے، اگر چاہے چھوڑ دے”۔ اور حدیث میں ہے "جس کسی نے کوئی گناہ کیا پھر اللہ تعالٰی نے اسے ڈھانپ لیا اور اس سے چشم پوشی کر لی تو اللہ کی ذات اور اس کا رحم و کرم اس سے بہت بلند و بالا ہے ، معاف کئے ہوئے جرائم کو دوبارہ کرنے پہ اسے دنیوی سزا ملے گی ، اگر بےتوبہ مر گئے تو آخرت کی وہ سزائیں باقی ہیں جن کا اس وقت صحیح تصور بھی محال ہے ہاں توبہ نصیب ہو جائے تو اور بات ہے”۔ پھر توبہ کرنے والوں کی نسبت جو فرمایا ہے "اس کا اظہار اس صورت میں تو صاف ہے کہ اس آیت کو مشرکوں کے بارے میں نازل شدہ مانا جائے۔ لیکن جو مسلمان مغرور ہوں اور وہ قبضے میں آنے سے پہلے توبہ کر لیں تو ان سے قتل اور سولی اور پاؤں کاٹنا تو ہٹ جاتا ہے لیکن ہاتھ کا کٹنا بھی ہٹ جاتا ہے یا نہیں ، اس میں علماء کے دو قول ہیں ، آیت کے ظاہری الفاظ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ سب کچھ ہٹ جائے ، صحابہ کا عمل بھی اسی پر ہے۔ چنانچہ جاریہ بن بدر تیمی بصری نے زمین میں فساد کیا ، مسلمانوں سے لڑا ، اس بارے میں چند قریشیوں نے حضرت علی سے سفارش کی ، جن میں حضرت حسن بن علی ، حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت عبداللہ بن جعفر بھی تھے لیکن آپ نے اسے امن دینے سے انکار کر دیا۔ وہ سعید بن قیس ہمدانی کے پاس آیا ، آپ نے اپنے گھر میں اسے ٹھہرایا اور حضرت علی کے پاس آئے اور کہا بتایئے تو جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑے اور زمین میں فساد کی سعی کرے پھر ان آیتوں کی (قبل ان تقدروا علیھم) تک تلاوت کی تو آپ نے فرمایا میں تو ایسے شخص کو امن لکھ دوں گا ، حضرت سعید نے فرمایا یہ جاریہ بن بدر ہے ، چنانچہ جاریہ نے اس کے بعد ان کی مدح میں اشعار بھی کہے ہیں۔ قبیلہ مراد کا ایک شخص حضرت ابو موسیٰ اشعری کے پاس کوفہ کی مسجد میں جہاں کے یہ گورنر تھے ، ایک فرض نماز کے بعد آیا اور کہنے لگا اے امیر کوفہ فلاں بن فلاں مرادی قبیلے کا ہوں ، میں نے اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی لڑی ، زمین میں فساد کی کوشش کی لیکن آپ لوگ مجھ پر قدرت پائیں ، اس سے پہلے میں تائب ہو گیا اب میں آپ سے پناہ حاصل کرنے والے کی جگہ پر کھڑا ہوں۔ اس پر حضرت ابو موسیٰ کھڑے ہو گئے اور فرمایا اے لوگو! تم میں سے کوئی اب اس توبہ کے بعد اس سے کسی طرح کی لڑائی نہ کرے ، اگر یہ سچا ہے تو الحمدللہ اور یہ جھوٹا ہے تو اس کے گناہ ہی اسے ہلاک کر دیں گے۔ یہ شخص ایک مدت تک تو ٹھیک ٹھیک رہا لیکن پھر بغاوت کر گیا ، اللہ نے بھی اس کے گناہوں کے بدلے اسے غارت کر دیا اور یہ مار ڈالا گیا۔ علی نامی ایک اسدی شخص نے بھی گزر گاہوں میں دہشت پھیلا دی ، لوگوں کو قتل کیا ، مال لوٹا ، بادشاہ لشکر اور رعایا نے ہر چند اسے گرفتار کرنا چاہا ، لیکن یہ ہاتھ نہ لگا۔ ایک مرتبہ یہ جنگل میں تھا ، ایک شخص کو قرآن پڑھتے سنا اور وہ اس وقت یہ آیت تلاوت کر رہا تھا آتی(قل یا عبادی الذین اسرفوا) الخ ، یہ اسے سن کر رک گیا اور اس سے کہا اے اللہ کے بندے یہ آیت مجھے دوبارہ سنا ، اس نے پھر پڑھی اللہ کی اس آواز کو سن کر وہ فرماتا ہے اے میرے گنہگار بندو تم میری رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ ، میں سب گناہوں کو بخشنے پر قادر ہوں میں غفور و رحیم ہوں۔ اس شخص نے جھٹ سے اپنی تلوار میان میں کر لی ، اسی وقت سچے دل سے توبہ کی اور صبح کی نماز سے پہلے مدینے پہنچ گیا ، غسل کیا اور مسجد نبوی میں نماز صبح جماعت کے ساتھ ادا کی اور حضرت ابوہریرہ کے پاس جو لوگ بیٹھے تھے ، ان ہی میں ایک طرف یہ بھی بیٹھ گیا۔ جب دن کا اجالا ہوا تو لوگوں نے اسے دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ تو سلطنت کا باغی ، بہت بڑا مجرم اور مفرور شخص علی اسدی ہے ، سب نے چاہا کہ اسے گرفتار کر لیں۔ اس نے کہا سنو بھائیو! تم مجھے گرفتار نہیں کر سکتے ، اس لئے کہ مجھ پر تمہارے قابو پانے سے پہلے ہی میں تو توبہ کر چکا ہوں بلکہ توبہ کے بعد خود تمہارے پاس آ گیا ہوں ، حضرت ابوہریرہ نے فرمایا! یہ سچ کہتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر مروان بن حکم کے پاس لے چلے ، یہ اس وقت حضرت معاویہ کی طرف سے مدینے کے گورنر تھے ، وہاں پہنچ کر فرمایا کہ یہ علی اسدی ہیں ، یہ توبہ کر چکے ہیں ، اس لئے اب تم انہیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ چنانچہ کسی نے اس کے ساتھ کچھ نہ کیا ، جب مجاہدین کی ایک جماعت رومیوں سے لڑنے کیلئے چلی تو ان مجاہدوں کے ساتھ یہ بھی ہو لئے ، سمندر میں ان کی کشتی جا رہی تھی کہ سامنے سے چند کشتیاں رومیوں کی آ گئیں ، یہ اپنی کشتی میں سے رومیوں کی گردنیں مارنے کیلئے ان کی کشتی میں کود گئے ، ان کی آبدار خارا شگاف تلوار کی چمک کی تاب رومی نہ لا سکے اور نامردی سے ایک طرف کو بھاگے ، یہ بھی ان کے پیچھے اسی طرف چلے چونکہ سارا بوجھ ایک طرف ہو گیا ، اس لئے کشتی الٹ گئی جس سے وہ سارے رومی کفار ہلاک ہو گئے اور حضرت علی اسدی بھی ڈوب کر شہید ہو گے

(اللہ ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے)

حسد و بغض سے ممانعت

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ

005:027

‏ [جالندھری]‏ اور (اے محمد) ان کو آدم کے دوبیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچےّ (ہیں) پڑھ کر سن دو کہ جب ان دونوں نے (خدا کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کردونگا۔ اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے۔

_____________
لَئِنْ بَسَطْتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ ۖ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ

005:028

‏ [جالندھری]‏ اور اگر تو مجھے قتل کرنے کیلئے مجھ پر ہاتھ چلائے گا تو میں تجھ کو قتل کرنے کیلئے تجھ پر ہاتھ نہیں چلاؤں گا۔ مجھے تو خدائے رب العالمین سے ڈرلگتا ہے ۔ ‏

_____________
إِنِّي أُرِيدُ أَنْ تَبُوءَ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ ۚ وَذَلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ

005:029

‏ [جالندھری]‏ میں چاہتا ہوں کہ تو میرے گناہ میں بھی ماخوذ ہو اور اپنے گناہ میں بھی پھر (زمرئہ) اہل دوزخ میں ہو۔ اور ظالموں کو یہی سزا ہے۔ ‏

_____________
فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِينَ

005:030

[جالندھری]

مگر اس کے نفس نے اس کو بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تو اُسے قتل کردیا اور خسارہ اٹھانے والوں میں ہوگیا ۔ ‏

_____________
فَبَعَثَ اللَّهُ غُرَابًا يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ لِيُرِيَهُ كَيْفَ يُوَارِي سَوْءَةَ أَخِيهِ ۚ قَالَ يَا وَيْلَتَا أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِيَ سَوْءَةَ أَخِي ۖ فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِينَ

005:031

‏ [جالندھری]‏ اب خدا نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیونکر چھپائے۔ کہنے لگا اے مجھ سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ اس کوّے کے برابر ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا پھر وہ پیشمان ہو ا۔


تفسیر ابن كثیر

حسد و بغض سے ممانعت
اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح حضرت کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہو گئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بےوجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔ فرماتا ہے "اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حضرت آدم کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بےکم و کاست قصہ سنا دو۔ ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی ، اس لئے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے ، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا ، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کر لے ، حضرت آدم اس سے منع کیا آخر یہ فیصلہ ہوا کہ تم دونوں اللہ کے نام پر کچھ نکالو ، جس کی خیرات قبول ہو جائے اس کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا جائے گا۔ ہابیل کی خیرات قبول ہو گئی پھر وہ ہوا جس کا بیان قرآن کی ان آیات میں ہوا :” مفسرین کے اقوال سنئیے حضرت آدم کی صلبی اولاد کے نکاح کا قاعدہ جو اوپر مذکور ہوا بیان فرمانے کے بعد مروی ہے کہ بڑا بھائی قابیل کھیتی کرتا تھا اور ہابیل جانوروں والا تھا ، قابیل کی بہن بہ نسبت ہابیل کی بہن کے خوب رو تھی۔ جب ہابیل کا پیغام اس سے ہوا تو قابیل نے انکار کر دیا اور اپنا نکاح اس سے کرنا چاہا ، حضرت آدم نے اس سے روکا۔ اب ان دونوں نے خیرات نکالی کہ جس کی قبول ہو جائے وہ نکاح کا زیادہ حقدار ہے حضرت آدم اس وقت مکہ چلے گئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ اللہ تعالٰی نے حضرت آدم سے فرمایا زمین پر جو میرا گھر ہے اسے جانتے ہو؟ آپ نے کہا نہیں حکم ہوا مکہ میں ہے تم وہیں جاؤ ، حضرت آدم نے آسمان سے کہا کہ میرے بچوں کی تو حفاظت کرے گا؟ اس نے انکار کیا زمین سے کہا اس نے بھی انکار کر دیا ، پہاڑوں سے کہا انہوں نے بھی انکار کیا ، قابیل سے کہا ، اس نے کہا ہاں میں محافظ ہوں ، آپ جایئے آکر ملاحظہ فرما لیں گے اور خوش ہوں گے۔ اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی ، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی ، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی ، اس نے راہ اللہ کرنے کے بعد اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔ چونکہ قابیل اب مایوس ہو چکا تھا کہ اس کے نکاح میں اس کی بہن نہیں آ سکتی ، اس لئے اپنے بھائی کو قتل کی دھمکی دی تھی اس نے کہا کہ "اللہ تعالٰی کا فرمان ہے کہ اللہ تعالٰی تقویٰ والوں کی قربانی فرمایا کرتا ہے۔ اس میں میرا کیا قصور؟ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مینڈھا جنت میں پلتا رہا اور یہی وہ مینڈھا ہے جسے حضرت ابراہیم نے اپنے بچے کے بدلے ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے بہترین اور مرغوب و محبوب جانور اللہ کے نام اور خوشی کے ساتھ قربان کیا ، برخلاف اس کے قابیل نے اپنی کھیتی میں سے نہایت ردی اور واہی چیز اور وہ بےدلی سے اللہ کے نام نکالی۔ ہابیل تنو مندی اور طاقتوری میں بھی قابیل سے زیادہ تھا تاہم اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کا ظلم و زیادتی سہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا۔ بڑے بھائی کی قربانی جب قبول نہ ہوئی اور حضرت آدم نے اس سے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ آپ ہابیل کو چاہتے ہیں اور آپ نے اس کیلئے دعا کی تو اس کی قربانی قبول ہو گئی۔ اب اس نے ٹھان لی کہ میں اس کانٹے ہی کو اکھاڑ ڈالوں۔ موقع کا منتظر تھا ایک روز اتفاقاً حضرت ہابیل کے آنے میں دیر لگ گئی تو انہیں بلانے کیلئے حضرت آدم نے قابیل کو بھیجا۔ یہ ایک چھری اپنے ساتھ لے کر چلا ، راستے میں ہی دونوں بھائیوں کی ملاقات ہو گئی ، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوئی اور میری نہ ہوئی اس پر ہابیل نے کہا میں نے بہترین ، عمدہ ، محبوب اور مرغوب چیز اللہ کے نام نکالی اور تو نے بےکار بےجان چیز نکالی ، اللہ تعالٰی اپنے متقیوں ہی کی نیکی قبول کرتا ہے۔ اس پر وہ اور بگڑا اور چھری گھونپ دی ، ہابیل کہتے رہ گئے کہ اللہ کو کیا جواب دے گا؟ اللہ کے ہاں اس ظلم کا بدلہ تجھ سے بری طرح لیا جائیگا۔ اللہ کا خوف کر مجھے قتل نہ کر لیکن اس بےرحم نے اپنے بھائی کو مار ہی ڈالا۔ قابیل نے اپنی تو ام بہن سے اپنا ہی نکاح کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ دونوں زمین میں پیدا ہوئے ہیں ، اسی لئے میں اس کا حقدار ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ قابیل نے گیہوں نکالے تھے اور ہابیل نے گائے قربان کی تھی۔ چونکہ اس وقت کوئی مسکین تو تھا ہی نہیں جسے صدقہ دیا جائے ، اس لئے یہی دستور تھا کہ صدقہ نکال دیتے آگ آسمان سے آتی اور اسے جلا جاتی یہ قبولیت کا نشان تھا۔ اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی ، بڑا بھائی حسد کی آگ میں بھڑکا اور اس کے قتل کے درپے ہو گیا ، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی کی تھی۔ نکاح کے اختلاف کو مٹانے کی وجہ نہ تھی ، قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضا بھی یہی ہے کہ ناراضگی کا باعث عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور ۔ ایک روایت مندرجہ روایتوں کے خلاف یہ بھی ہے کہ قابیل نے کھیتی اللہ کے نام نذر دی تھی جو قبول ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں راوی کا حافظہ ٹھیک نہیں اور یہ مشہور امر کے بھی خلاف ہے واللہ اعلم۔ اللہ تعالٰی اس کا عمل قبول کرتا ہے جو اپنے فعل میں اس سے ڈرتا رہے۔ حضرت معاذ فرماتے ہیں لوگ میدان قیامت میں ہوں گے تو ایک منادی ندا کرے گا کہ پرہیزگار کہاں ہیں؟ پس پروردگار سے ڈرنے والے کھڑے ہو جائیں گے اور اللہ کے بازو کے نیچے جا ٹھہریں گے اللہ تعالٰی نہ ان سے رخ پوشی کرے گا نہ پردہ۔ راوی حدیث ابو عفیف سے دریافت کیا گیا کہ متقی کون ہیں؟ فرمایا وہ جو شرک اور بت پرستی سے بچے اور خالص اللہ تعالٰی کی عبادت کرے پھر یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔ جس نیک بخت کی قربانی قبول کی گئی تھی ، وہ اپنے بھائی کے اس ارادہ کو سن کر اس سے کہتا ہے کہ تو جو چاہے کر ، میں تو تیری طرح نہیں کروں گا بلکہ میں صبر و ضبط کروں گا ، تھے تو زور و طاقت میں یہ اس سے زیادہ مگر اپنی بھلائی ، نیک بختی اور تواضع و فروتنی اور پرہیز گاری کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تو گناہ پر آمادہ ہو جائے لیکن مجھ سے اس جرم کا ارتکاب نہیں ہو سکتا، میں تو اللہ تعالٰی سے ڈرتا ہوں وہ تمام جہان کا رب ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ "جب دو مسلمان تلواریں لے کر بھڑ گئے تو قاتل مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ ” صحابہ نے پوچھا قاتل تو خیر لیکن مقتول کیوں ہوا؟ آپ نے فرمایا اس لئے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا۔ حضرت سعد بن وقاص نے اس وقت جبکہ باغیوں نے حضرت عثمان ذوالنورین کو گھیر رکھا تھا کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے "عنقریب فتنہ برپا ہوگا۔ بیٹھا رہنے والا اس وقت کھڑے رہنے والے سے اچھا ہو گا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا "۔ کسی نے پوچھا "حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی میرے گھر میں بھی گھس آئے اور مجھے قتل کرنا چاہے”۔ آپ نے فرمایا پھر بھی تو حضرت آدم کے بیٹے کی طرح ہو جا۔ ایک روایت میں آپ کا اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے۔ حضرت ایوب سختیاتی فرماتے ہیں "اس امت میں سب سے پہلے جس نے اس آیت پر عمل کیا وہ امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ہیں”۔ ایک مرتبہ ایک جانور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے اور آپ کے ساتھ ہی آپ کے پیچھے حضرت ابوذر تھے ، آپ نے فرمایا ابوذر بتاؤ تو جب لوگوں پر ایسے فاقے آئیں گے کہ گھر سے مسجد تک نہ جا سکیں گے تو تو کیا کرے گا؟ میں نے کہا جو حکم رب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو فرمایا صبر کرو۔ پھر فرمایا جبکہ آپس میں خونریزی ہو گی یہاں تک کہ ریت کے تھر بھی خون میں ڈوب جائیں تو تو کیا کرے گا؟ میں نے وہی جواب دیا تو فرمایا کہ اپنے گھر میں بیٹھ جا اور دروازے بند کر لے کہا پھر اگرچہ میں نہ میدان میں اتروں؟ فرمایا تو ان میں چلا جا ، جن کا تو ہے اور وہیں رہ۔ عرض کیا کہ پھر میں اپنے ہتھیار ہی کیوں نہ لے لوں؟ فرمایا پھر تو تو بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہو جائے گا بلکہ اگر تجھے کسی کی تلوار کی شعائیں پریشان کرتی نظر آئیں تو بھی اپنے منہ پر کپڑا ڈال لے تا کہ تیرے اور خود اپنے گناہوں کو وہی لے جائے۔ حضرت ربعی فرماتے ہیں ہم حضرت حذیفہ کے جنازے میں تھے ، ایک صاحب نے کہا میں نے مرحوم سے سنا ہے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنی ہوئی حدیثیں بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے سب سے دور دراز گھر میں چلا جاؤں گا اور اسے بند کر کے بیٹھ جاؤں گا ، اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہدوں گا کہ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے ، پس میں حضرت آدم کے ان دو بیٹوں میں سے جو بہتر تھا ، اس کی طرح ہو جاؤں گا۔ میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ اپنے سر رکھ لے جائے۔ یعنی تیرے وہ گناہ جو اس سے پہلے کے ہیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ یہ مطلب بھی حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ میری خطائیں بھی مجھ پر آ پڑیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ لیکن انہی سے ایک قول پہلے جیسا بھی مروی ہے ، ممکن ہے یہ دوسرا ثابت نہ ہو۔ اسی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاتل مقتول کے سب گناہ اپنے اوپر بار کر لیتا ہے اور اس معنی کی ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی اصل نہیں۔ بزار میں ایک حدیث ہے کہ "بے سبب کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے”۔ گویہ حدیث اوپر والے معنی میں نہیں ، تاہم یہ بھی صحیح نہیں اور اس روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ قتل کی ایذاء کے باعث اللہ تعالٰی مقتول کے سب گناہ معاف کر دیتا ہے۔ اب وہ قاتل پر آ جاتے ہیں۔ یہ بات ثابت نہیں ممکن ہے بعض قاتل ویسے بھی ہوں ، قاتل کو میدان قیامت میں مقتول ڈھونڈھتا پھرے گا اور اس کے ظلم کے مطابق اس کی نیکیاں لے جائے گا۔ اور سب نیکیاں لے لینے کے بعد بھی اس ظلم کی تلافی نہ ہوئی تو مقتول کے گناہ قاتل پر رکھ دیئے جائیں گے ، یہاں تک کہ بدلہ ہو جائے تو ممکن ہے کہ سارے ہی گناہ بعض قاتلوں کے سر پڑ جائیں کیونکہ ظلم کے اس طرح کے بدلے لئے جانے احادیث سے ثابت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ قتل سب سے بڑھ کر ظلم ہے اور سب سے بدتر۔ واللہ اعلم۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں مطلب اس جملے کا صحیح تر یہی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ اور میرے قتل کے گناہ سب ہی اپنے اوپر لے جائے ، تیرے اور گناہوں کے ساتھ ایک گناہ یہ بھی بڑھ جائے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے گناہ بھی تجھ پر آ جائیں ، اس لئے کہ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے کہ ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا ملتی ہے ، پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مقتول کے عمر بھر کے گناہ قاتل پر ڈال دیئے جائیں ، اور اس کے گناہوں پر اس کی پکڑ ہو؟ باقی رہی یہ بات کہ پھر ہابیل نے یہ بات اپنے بھائی سے کیوں کہی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ نصیحت کی اور ڈرایا اور خوف زدہ کیا کہ اس کام سے باز آ جا ، ورنہ گہنگار ہو کر جہنم واصل ہو جائے گا کیونکہ میں تو تیرا مقابلہ کرنے ہی کا نہیں ، سارا بوجھ تجھ ہی پر ہوگا اور تو ہی ظالم ٹھہرے گا اور ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس نصیحت کے باوجود اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا اور غصے اور حسد اور تکبر میں آکر اپنے بھائی کو قتل کر دیا ، اسے شیطان نے قتل پر ابھار دیا اور اس نے اپنے نفس امارہ کی پیروی کر لی ہے اور لوہے سے اسے مار ڈالا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے جانوروں کو لے کر پہاڑیوں پر چلے گئے تھے ، یہ ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچا اور ایک بھاری پتھر اٹھا کر ان کے سر پر دے مارا ، یہ اس وقت سوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں مثل درندے کے کاٹ کاٹ کر ، گلا دبا دبا کر ان کی جان لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا ، یہ اس کی گردن مروڑ رہا ہے تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر اسے دوسرا پتھر زور سے دے مارا ، جس سے وہ جانور اسی وقت مر گیا ، یہ دیکھ اس نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہی کیا یہ بھی مروی ہے کہ چونکہ اب تک زمین پر کوئی قتل نہیں ہوا تھا ، اس لئے قابیل اپنے بھائی کو گرا کر کبھی اس کی آنکھیں بند کرتا ، کبھی اسے تھپڑ اور گھونسے مارتا۔ یہ دیکھ کر ابلیس لعین اس کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ پتھر لے کر اس کا سر کچل ڈال ، جب اس نے کچل ڈالا تو لعین دوڑتا ہوا حضرت حوا کے پاس آیا اور کہا قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا ، انہوں نے پوچھا قتل کیسا ہوتا ہے؟ کہا اب نہ وہ کھاتا پیتا ہے نہ بولتا چالتا ہے ، نہ ہلتا جلتا ہے کہا شاید موت آ گئی اس نے کہا ہاں وہی موت۔ اب تو مائی صاحبہ چیخنے چلانے لگیں ، اتنے میں حضرت آدم آئے پوچھا کیا بات ہے؟ لیکن یہ جواب نہ دے سکیں ، آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا لیکن فرط غم و رنج کی وجہ سے ان کی زبان نہ چلی تو کہا اچھا تو اور تیری بیٹیاں ہائے وائے میں ہی رہیں گی اور میں اور میرے بیٹے اس سے بری ہیں۔ قابیل خسارے ٹوٹے اور نقصان والا ہو گیا ، دنیا اور آخرت دونوں ہی بگڑیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں "جو انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے ، اس کے خون کا بوجھ آدم کے اس لڑکے پر بھی پڑتا ہے ، اس لئے کہ اسی نے سب سے پہلے زمین پر خون ناحق گرایا ہے”۔ مجاہد کا قول ہے کہ "قاتل کے ایک پیر کی پنڈلی کو ران سے اس دن سے لٹکا دیا گیا اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا ، اس کے گھومنے کے ساتھ گھومتا رہتا ہے ، جاڑوں اور گرمیوں میں آگ اور برف کے گڑھے میں وہ معذب ہے”۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ "جہنم کا آدھوں آدھ عذاب صرف اس ایک کو ہو رہا ہے ، سب سے بڑا معذب یہی ہے زمین کے ہر قتل کے گناہ کا حصہ اس کے ذمہ ہے”۔ ابراہیم نخعی فرماتے ہیں "اس پر اور شیطان پر ہر خون ناحق کا بوجھ پڑتا ہے”۔ جب مار ڈالا تو اب یہ معلوم نہ تھا کہ کیا کرے ، کس طرح اسے چھپائے؟ تو اللہ نے دو کوے بھیجے ، وہ دونوں بھی آپس میں بھائی بھائی تھے ، یہ اس کے سامنے لڑنے لگے ، یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا ، پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کی لاش کو رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی ، یہ دیکھ کر قابیل کی سمجھ میں بھی یہ ترکیب آ گئی اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ از خود مرے ہوئے ایک کوے کو دوسرے کوے نے اس طرح گڑھا کھود کر دفن کیا تھا۔ یہ بھی مروی ہے کہ سال بھر تک قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے لادے پھرتا رہا ، پھر کوے کو دیکھ کر اپنے نفس پر ملامت کرنے لگا کہ میں اتنا بھی نہ کر سکا ، یہ بھی کہا گیا ہے مار ڈال کر پھر پچھتایا اور لاش کو گود میں رکھ کر بیٹھ گیا اور اس لئے بھی کہ سب سے پہلی میت اور سب سے پہلا قتل روئے زمین پر یہی تھا۔ اہل توراۃ کہتے ہیں کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے بھائی ہابیل کو کیا ہوا؟ اس نے کہا مجھے کیا خبر؟ میں اس کا نگہبان تو تھا ہی نہیں ، اللہ تعالٰی نے فرمایا سن تیرے بھائی کا خون زمین میں سے مجھے پکار رہا ہے ، تجھ پر میری لعنت ہے ، اس زمین میں جس کا منہ کھول کر تو نے اسے اپنے بےگناہ بھائی کا خون پلایا ہے ، اب تو زمین میں جو کچھ کام کرے گا وہ اپنی کھیتی میں سے تجھے کچھ نہیں دے گی ، یہاں تک تم زمین پر عمر بھر بےچین پھٹکتے رہو گے پھر تو قابیل بڑا ہی نادم ہوا۔ نقصان کے ساتھ ہی پچھتاوا گویا عذاب پر عذاب تھا۔ اس قصہ میں مفسرین کے اقوال اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ تو دونوں حضرت آدم کے صلبی بیٹے تھے اور یہی قرآن کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے اور یہی حدیث میں بھی ہے کہ روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ کا حضرت آدم کے اس پہلے لڑکے پر ہوتا ہے ، اس لئے کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا ہے ، لیکن حسن بصری کا قول ہے کہ "یہ دونوں بنی اسرائیل میں تھے ، قربانی سب سے پہلے انہی میں آئی اور زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم کا انتقال ہوا ہے” لیکن یہ قول غور طلب ہے اور اس کی اسناد بھی ٹھیک نہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ واقعہ بطور ایک مثال کے ہے” تم اس میں سے اچھائی لے لو اور برے کو چھوڑ دو”۔ یہ حدیث مرسل ہے کہتے ہیں کہ اس صدمے سے حضرت آدم بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی ، آخر فرشتوں نے ان کے غم کے دور ہونے اور انہیں ہنسی آنے کی دعا کی۔ حضرت آدم نے اس وقت اپنے رنج و غم میں یہ بھی کہا تھا کہ شہر اور شہر کی سب چیزیں متغیر ہو گئی۔ زمین کا رنگ بدل گیا اور وہ نہایت بدصورت ہو گئی ، ہر ہر چیز کا رنگ و مزہ جاتا رہا اور کشش والے چہروں کی ملاحت بھی سلب ہو گئی۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ اس مردے کے ساتھ اس زندے نے بھی گویا اپنے تئیں ہلاک کر دیا اور جو برائی قاتل نے کی تھی ، اس کا بوجھ اس پر آ گیا ، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قابیل کو اسی وقت سزا دی گئی چنانچہ وارد ہوا ہے کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے لٹکا دی گئی اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گھومتا رہتا تھا یعنی جدھر سورج ہوتا ادھر ہی اس کا منہ اٹھا رہتا۔ حدیث شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جتنے گناہ اس لائق ہیں کہ بہت جلد ان کی سزا دنیا میں بھی دی جائے اور پھر آخرت کے زبردست عذاب باقی رہیں ان میں سب سے بڑھ کر گناہ سرکشی اور قطع رحمی ہے۔ تو قابیل میں یہ دونوں باتیں جمع ہو گئیں آتی

(فانا للہ و انا الیہ راجعون)

(یہ یاد رہے کہ اس قصہ کی تفصیلات جس قدر بیان ہوئی ہے ، ان میں سے اکثر و بیشر حصہ اہل کتاب سے اخذ کیا ہوا ہے۔ واللہ اعلم۔ مترجم)