مشروط اطاعت امیر

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ۖ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا
﴿004:059﴾
‏ [جالندھری]‏ مومنو! خدا اور اس کے رسول کی کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہے ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں خدا اور اسکے رسول کے حکم کی طرف رجوع کرو اور یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھا ہے
تفسیر ابن كثیر
مشروط اطاعت امیر
صحیح بخاری شریف میں بروایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چھوٹے سے لشکر میں حضرت عبداللہ بن حذافہ بن قیس کو بھیجا تھا ان کے بارے میں یہ آیت اتری ہے ، بخاری و مسلم میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا جس کی سرداری ایک انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کو دی ایک مرتبہ وہ لوگوں پر سخت غصہ ہوگئے اور فرمانے لگے کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری فرمانبرداری کا حکم نہیں دیا؟ سب نے کہا ہاں بیشک دیا ہے، فرمانے لگے اچھا لکڑیاں جمع کرو پھر آگ منگوا کر لکڑیاں جلائیں پھر حکم دیا کہ تم اس آگ میں کود پڑو ایک نوجوان نے کہا لوگو سنو آگ سے بچنے کے لئے ہی تو ہم نے دامن رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پناہ لی ہے تم جلدی نہ کرو جب تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ملاقات نہ ہو جائے پھر اگر آپ بھی یہی فرمائیں تو بےجھجھک اس آگ میں کود پڑھنا چنانچہ یہ لوگ واپس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ کہہ سنایا آپ نے فرمایا اگر تم اس آگ میں کود پڑھتے تو ہمیشہ آگ ہی میں جلتے رہتے۔ سنو فرمانبرداری صرف معروف میں ہے۔ ابو داؤد میں ہے کہ مسلمان پر سننا اور ماننا فرض ہے جی چاہے یا طبیعت رو کے لیکن اس وقت تک کہ (اللہ تعالٰی اور رسول کی) نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے، جب نافرمانی کا حکم ملے تو نہ سنے نہ مانے۔ بخاری و مسلم میں ہے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیعت لی کہ کام کے اہل سے اس کام کو نہ چھینیں۔ لیکن جب تم ان کا کھلا کفر دیکھو جس کے بارے میں تمہارے پاس کوئی واضح الٰہی دلیل بھی ہو، بخاری شریف میں ہے سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تم پر حبشی غلام امیر بنایا گیا ہو چاہے کہ اس کا سرکشمکش ہے، مسلم شریف میں ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں مجھے میرے خلیل ( یعنی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے سننے کی وصیت کی اگرچہ ناقص ہاتھ پاؤں والا حبشی غلام ہی ہو، مسلم کی ہی اور حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجتہ الوداع کے خطبہ میں فرمایا چاہے تم پر غلام عامل بنایا جائے جو تمہیں کتاب اللہ کے مطابق تمہارا ساتھ چاہے تو تم اس کی سنو اور مانو ایک روایت میں غلام حبشی اعضاء کٹا کے الفاظ ہیں، ابن جریر میں ہے نیکوں اور بدوں سے بد تم ہر ایک اس امر میں جو مطابق ہو ان کی سنو اور مانو کہ میرے بعد نیک سے نیک اور بد سے بد تم کو ملیں گے تم پر ایک میں نے جو حق پر ہو اس کا سننا اور ماننا تم سے اور ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے رہو اگر وہ نیکی کریں گے ۔ تو ان کے لئے تفع ہے اور تمہارے لئے بھی اور اگر وہ بدی کریں گے تو تمہارے لئے اچھائی ہے اور ان پر گناہوں کا بوجھ ہے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بنو اسرائیل میں مسلسل لگاتار رسول آیا کرتے تھے ایک کے بعد ایک اور میرے بعد کوئی نبی نہیں مگر خلفاء بکثرت ہوں گے لوگوں نے پوچھا پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا پہلے کی بیعت پوری کرو پھر اس کے بعد آنے والے کی ان کا حق انہیں دے دو اللہ تعالٰی ان سے ان کی رعیت کے بارے میں سوال کرنے والا ہے۔ آپ فرماتے ہیں جو شخص اپنے امیر کا کوئی ناپسندیدہ کام دیکھے اسے صبر کرنا چاہیے جو شخص جماعت کے بالشت بھر جدا ہو گیا پھر وہ جاہلیت کی موت مرے گا (بخاری و مسلم) ارشاد ہے جو شخص اطاعت سے ہاتھ کھینچ لے وہ قیامت کے دن اللہ تعالٰی سے حجت و دلیل بغیر ملاقات کرے گا اور جو اس حالت میں مرے کہ اس کی گردن میں بیعت نہ ہو وہ جاہلیت کی موت مرے گا (مسلم) حضرت عبدالرحمن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں بیت اللہ شریف میں گیا دیکھا تو حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ کعبہ کے سایہ میں تشریف فرما ہیں اور لوگوں کا ایک مجمع جمع ہے میں بھی اس مجلس میں ایک طرف بیٹھ گیا اس وقت حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ حدیث بیان کی فرمایا ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ایک منزل میں اترے کوئی اپنا خیمہ ٹھیک کرنے لگا کوئی اپنے نیز سنبھالنے لگا کوئی کسی اور کام میں مشغول ہو گیا، اچانک ہم نے سنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے ہیں ہر نبی پر اللہ کی طرف سے فرض ہوتا ہے کہ اپنی امت کو تمام نیکیاں جو وہ جانتا ہے ان کی تربیت انہیں دے اور تمام برائیوں سے جو اس کی نگاہ میں ہیں انہیں آگاہ کر دے۔ سنو میری امت کی عافیت کا زمانہ اول کا زمانہ ہے آخر زمانے میں بڑی بڑی بلائیں آئیں گی اور ایسے ایسے امور نازل ہوں گے جنہیں مسلمان ناپسند کریں گے اور ایک ہر ایک فتنہ برپا ہو گا ایک ایسا وقت آئے گا کہ مومن سمجھ لے گا اسی میں میری ہلاکت ہے پھر وہ ہٹے گا۔ تو دوسرا اس سے بھی بڑا آئے گا جس میں اسے اپنی ہلاکت کا کامل یقین ہوگا بس یونہی لگا تار فتنے اور زبردست آزمائشیں اور کال تکلیفیں آتی رہیں گے پس جو شخص اس بات کو پسند کرے کہ جہنم سے بچ جانے اور جنت کا مستحق ہو اسے چاہیے کہ مرتے دم تک اللہ تعالٰی پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھے اور لوگوں سے وہ برتاؤ کرے جو خود اپنے لئے پسند کرتا ہے سنو جس نے امام سے بیعت کر لی اس نے اپنا ہاتھ اس کے قبضہ میں اور دل کی تمنائیں اسے دے دیں۔ اور اپنے دل کا پھل دے دیا اب اسے چاہیے کہ اس کی اطاعت کرے اگر کوئی دوسرا اس سے خلاف چھیننا چاہے تو اس کی گردن اڑا دو، عبدالرحمن فرماتے ہیں میں یہ سن کر قریب گیا اور کہا آپ کو میں اللہ تعالٰی کی قسم دیتا ہوں کیا خود آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی سنا ہے؟ تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کان اور دل کی طرف بڑھا کر فرمایا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے ان دو کانوں سے سنا اور میں نے اسے اپنے اس دل میں محفوظ رکھا ہے مگر آپ کے چچا زاد بھائی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ہمیں ہمارے اپنے مال بطریق باطل سے کھانے اور آپس میں ایک دوسرے سے جنگ کرنے کا حکم دیتے ہیں حالانکہ اللہ تعالٰی نے ان دونوں کاموں سے ممانعت فرمائی ہے ، ارشاد ہے(آیت”یا ایھا الذین امنوا لا تاکلوا اموالکم الخ، ) اسے سن کر حضرت عبداللہ ذرا سی دیر خاموش رہے پھر فرمایا اللہ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کرو اور اگر اللہ کی نافرمانی کا حکم دیں تو اسے نہ مانو اس بارے میں حدیثیں اور بھی بہت سی ہیں، اسی آیت کو تفسیر میں حضرت سدی رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا جس کا امیر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بنایا اس لشکر میں حضرت عمار بن یاسر رحمۃ اللہ علیہ بھی تھے یہ لشکر جس قوم کی طرف جانا چاہتا تھاچلا رات کے وقت اس کی بستی کے پاس پہنچ کر پڑاؤ کیا ان لوگوں کو اپنے جاسوسوں سے پتہ چل گیا اور چھپ چھپ کر سب راتوں رات بھاگ کھڑے ہوئے۔ صرف ایک شخص رہ گیا اس نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا انہوں نے اس کا سب انسباب جلا دیا یہ شخص رات کے اندھیرے میں خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لشکر میں آیا اور حضرت عمار رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ملا اور ان سے کہا کہ اے ابو الیقظان میں اسلام قبول کر چکا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں میری ساری قوم تمہارا آنا سن کر بھاگ گئی ہے صرف میں باقی رہ گیا ہوں تو کیا کل میرا یہ اسلام مجھے نفع دے گا؟ اگر نفع نہ دے تو میں بھی بھاگ جاؤں حضرت عمار رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا یقیناً یہ اسلام تمہیں نفع دے گا تم نہ بھاگو بلکہ ٹھہرے رہو صبح کے وقت جب حضرت خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے لشکر کشی کی تو سوائے اس شخص کے وہاں کسی کو نہ پایا اسے اس کے مال سمیت گرفتار کر لیا گیا جب حضرت عمار رضی اللہ تعالٰی عنہ کو معلوم ہوا تو آپ حضرت خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس آئے اور کہا اسے چھوڑ دیجئے یہ اسلام لا چکا ہے اور میری پناہ میں ہے حضرت خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا تم کون ہو جو کسی کو پناہ دے سکو؟ اس پر دونوں بزرگوں میں کچھ تیز کلامی ہو گئی اور قصہ بڑھا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں سارا واقعہ بیان کیا گیا۔ آپ نے حضرت عمار رضی اللہ تعالٰی عنہ کی پناہ کو جائز قرار دیا اور فرمایا آئندہ امیر کی طرف سے پناہ نہ دینا پھر دونوں میں کچھ تیز کلامی ہونے لگی اس پر حضرت خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور سے کہا اس ناک کٹے غلام کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ نہیں کہتے؟ دیکھئے تو یہ مجھے برا بھلا کہہ رہا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ عمار رضی اللہ تعالٰی عنہ کو برا نہ کہو۔ عمار رضی اللہ تعالٰی عنہ کو گالیاں دینے والے کو اللہ گالیاں دے گا، عمار رضی اللہ تعالٰی عنہ سے دشمنی کرنے والے سے اللہ دشمنی رکھے گا، عمار رضی اللہ تعالٰی عنہ پر جو لعنت بھیجے گا اس پر اللہ کی لعنت نازل ہو گی اب تو حضرت خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ کو لینے کے دینے پڑھ گئے حضرت عمار رضی اللہ تعالٰی عنہ غصہ میں چلا رہے تھے آپ دوڑ کر ان کے پاس گئے دامن تھام لیا معذرت کی اور اپنی تقصیر معاف کرائی تب تک پیچھانہ چھوڑا جب تک کہ حضرت عمار رضی اللہ تعالٰی عنہ راضی نہ ہوگئے، پس اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی ( امر امارت و خلافت کے متعلق شرائط وغیرہ کا بیان آیت”واذقال ربک للملائکتہ انی جاعل فی الارض خلیفۃ”کی تفسیر میں گزر چکا ہے ہاں ملاحظہ ہو۔ مترجم) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بھی یہ رویات مروی ہے (ابن جریر اور ابن مردویہ) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ وغیرہ فرماتے ہیں اولی الامر سے مراد سمجھ بوجھ دین والے ہیں یعنی علماء کی ظاہر بات تو یہ معلوم ہوتی ہے آگے حقیقی علم اللہ کو ہے کہ یہ لفظ عام ہیں امراء علماء دونوں اس سے مراد ہیں جیسے کہ پہلے گزرا قرآن فرماتا ہے(آیت لولا ینھاھم الربانیون الخ،) یعنی ان کے علماء نے انہیں جھوٹ بولنے اور حرام کھانے سے کیوں نہ روکا؟ اور جگہ ہے(آیت فاسئلوااھل الذکر الخ، ) حدیث کے جاننے والوں سے پوچھ لیا کرو کہ اگر تمہیں علم نہ ہو، صحیح حدیث میں ہے میری اطاعت کرنے والا اللہ کی اطاعت کرنے والا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ہے پس یہ ہیں احکام علماء امراء کی اطاعت کرو یعنی اس کی سنتوں پر عمل کرو اور حکم والوں کی اطاعت کرو یعنی اس چیز میں جو اللہ کی اطاعت ہو ، اللہ کے فرمان کے خلاف اگر ان کا کوئی حکم ہو تو اطاعت نہ کرنی چاہیے ایسے وقت علماء یا امراء کی ماننا حرام ہے جیسے کہ پہلی حدیث گزر چکی کہ اطاعت صرف معروف میں ہے یعنی فرمان الہ و فرمان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائرے میں مسند احمد میں ہے اس سے بھی زیادہ صاف حدیث ہے جس میں ہے کسی کی اطاعت اللہ تعالٰی کے فرمان کے خلاف جائز نہیں۔ آگے چل کر فرمایا کہ اگر تم میں کسی بارے میں جھگڑ پڑے تو اسے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹاؤ یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف جیسے کہ حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر ہے پس یہاں صریح اور صاف لفظوں میں اللہ عزوجل کا حکم ہو رہا ہے کہ لوگ جس مسئلہ میں اختلاف کریں خواہ وہ مسئلہ اصول دین سے متعلق ہو خواہ فروغ دین سے متعلق اس کے تصفیہ کی صرف یہی صورت ہے کہ کتاب و سنت کو حکم مان لیا جائے جو اس میں ہو وہ قبول کیا جائے، جیسے اور آیت قرآنی میں ہے(آیت وما اختلفتم فیہ من شیء فحکمہ الی اللہ) یعنی اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہو جائے اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے پس کتاب و سنت جو حکم دے اور جس مسئلہ کی صحت کی شہادت دے وہی حق ہے باقی سب باطل ہے، قرآن فرماتا ہے کہ حق کے بعد جو ہے ضلالت و گمراہی ہے، اسی لئے یہاں بھی اس حکم کے ساتھ ہی ارشاد ہوتا ہے اگر تم اللہ تعالٰی پر اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو ، یعنی اگر تم ایمان کے دعوے میں سچے ہو تو جس مسئلہ کا تمہیں علم نہ ہو یعنی جس مسئلہ میں اختلاف ہو ، جس امر میں جدا جدا آراء ہوں ان سب کا فیصلہ کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا کرو جو ان دونوں میں ہو مان لیا کرو، پس ثابت ہوا کہ جو شخص اختلافی مسائل کا تصفیہ کتاب و سنت کی طرف سے نہ لے جائے وہ اللہ پر اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتا ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جھگڑوں میں اور اختلافات میں کتاب اللہ و سنت رسول کی طرف فیصلہ لانا اور ان کی طرف رجوع کرنا ہی بہتر ہے ، اور یہی نیک انجام خوش آئند ہے اور یہی اچھے بدلے دلانے والا کام ہے، بہت اچھی جزا اسی کا ثمر ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s