دنیا کا سامان تعیش دلیل نجات نہیں

لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ
﴿003:196﴾
‏ [جالندھری]‏ (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم) کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکا نہ دے۔ ‏
مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ
﴿003:197﴾
‏ [جالندھری]‏ (یہ دنیا کا) تھوڑا سا فائدہ ہے پھر (آخرت میں) تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔ ‏
لَكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا نُزُلًا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ۗ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِلْأَبْرَارِ
﴿003:198﴾
‏ [جالندھری]‏ لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ (یہ) خدا کے ہاں سے (انکی) مہمانی ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ نیکوکاروں کے لیے بہت اچھا ہے
تفسیر ابن كثیر
دنیا کا سامان تعیش دلیل نجات نہیں
اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ان کافروں کی بدمستی کے سامان تعیش ان کی راحت و آرام ان کی خوش حالی اور فارغ البالی کی طرف اے نبی آپ نظریں نہ ڈالیں یہ سب عنقریب زائل ہو جائے گا اور صرف ان کی بداعمالیاں عذاب کی صورت میں ان کیلئے باقی رہ جائیں گی ان کی یہ تمام نعمتیں آخرت کے مقابلہ میں بالکل ہیچ ہیں اسی مضمون کی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں ہیں مثلاً آیت (مایجادل فی ایات اللہ الا الذین کفروا فلا یغررک تقلبھم فی البلاد) اللہ کی آیتوں میں کافر ہی جھگڑتے ہیں ان کا شہروں میں گھومنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے، دوسری جگہ ارشاد ہے آیت (ان الذین یفترون علی اللہ الکذب) الخ، جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے دنیا میں چاہے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں لیکن آخر تو انہیں ہماری طرف ہی لوٹنا ہے پھر ہم انہیں ان کے کفر کی پاداش میں سخت تر سزائیں دیں گے ارشاد ہے انہیں ہم تھوڑا سا فائدہ پہنچا کر پھر گہرے عذابوں کی طرف بےبس کر دیں گے اور جگہ ہے کافروں کو کچھ مہلت دے دے اور جگہ ہے کیا وہ شخص جو ہمارے بہترین وعدوں کو پالے گا اور وہ جو دنیا میں آرام سے گزار رہا ہے لیکن قیامت کے دن عذابوں کیلئے حاضری دینے والا ہے برابر ہو سکتے ہیں ؟ چونکہ کافروں کا دنیوی اور اخروی حال بیان ہوا اس لئے ساتھ ہی مومنوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ متقی گروہ قیامت کے دن نہروں والی، بہشتوں میں ہوگا، ابن مردویہ میں ہے رسول کریم افضل الصلوۃ واتسلیم فرماتے ہیں انہیں ابرار اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ ماں باپ کے ساتھ اور اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے جس طرح تیرے ماں باپ کا تجھ پر حق ہے اسی طرح تیری اولاد کا تجھ پر حق ہے یہی روایت حضرت ابن عمرو سے موقوفاً بھی مروی ہے اور موقوف ہونا ہی زیادہ ٹھیک نظر آتا ہے واللہ اعلم۔ حضرت حسن فرماتے ہیں ابرار وہ ہیں جو کسی کو ایذاء نہ دیں ، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہر شخص کیلئے خواہ نیک ہو خواہ بد موت اچھی چیز ہے اگر نیک ہے تو جو کچھ اس کیلئے اللہ کے پاس ہے وہ بہت ہی بہتر ہے اور اگر بد ہے تو اللہ کے عذاب اور اس کے گناہ جو اس کی زندگی میں بڑھ رہے تھے اب ان کا بڑھنا ختم ہوا پہلے کی دلیل آیت (وما عنداللہ خیر للابرار) ہے اور دوسری کی دلیل آیت (لا یحسبن الذین کفروا انما نملی لھم خیر لانفسھم ) الخ، ہے یعنی کافر ہماری ڈھیل دینے کو اپنے حق میں بہتر نہ خیال کریں یہ ڈھیل ان کے گناہوں میں اضافہ کر رہی ہے اور ان کے لئے رسوا کن عذاب ہیں حضرت ابوالدرداء سے بھی یہی مروی ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s