ایام حیض اور جماع سے متعلقہ مسائل:

وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ
﴿002:222﴾
‏ [جالندھری]‏ اور تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو وہ تو نجاست ہے سو ایام حیض میں عورتوں سے کنا رہ کش رہو اور جب تک پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو ہاں جب پاک ہو جائیں تو جس طریق سے خدا نے تہمیں ارشاد فرمایا ہے ان کے پاس جاؤ کچھ شک نہں کہ خدا توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے
Sahih International
And they ask you about menstruation. Say, "It is harm, so keep away from wives during menstruation. And do not approach them until they are pure. And when they have purified themselves, then come to them from where Allah has ordained for you. Indeed, Allah loves those who are constantly repentant and loves those who purify themselves.”
تفسیر ابن كثیر
ایام حیض اور جماع سے متعلقہ مسائل:
حضرت انس فرماتے ہیں کہ یہودی لوگ حائضہ عورتوں کو نہ اپنے ساتھ کھلاتے تھے اور نہ اپنے ساتھ رکھتے تھے، صحابہ نے اس بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا جس کے جواب میں یہ آیت اتری، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے جماع کے اور سب کچھ حلال ہے یہودی یہ سن کر کہنے لگے کہ انہیں تو ہماری مخالفت ہی سے غرض ہے، حضرت اسید بن حضیر اور حضرت عباد بن بشر نے یہودیوں کا یہ کلام نقل کر کے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر ہمیں جماع کی بھی رخصت دی جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ یہ سن کر متغیر ہو گیا یہاں تک کہ اور صحابہ نے خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ناراض ہو گئے۔ جب یہ بزرگ جانے لگے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی بزرگ تحفتاً دودھ لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی بھیج کر انہیں بلایا اور وہ دودھ انہیں پلایا، اب معلوم ہوا کہ وہ غصہ جاتا رہا۔ (مسلم)
 پس اس فرمان کا کہ حیض کی حالت میں عورتوں سے الگ رہو یہ مطلب ہوا کہ جماع نہ کرو اس لئے کہ اور سب حلال ہے۔ اکثر علماء کا مذہب ہے کہ سوائے جماع کے مباشرت جائز ہے، احادیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسی حالت میں ازواج مطہرات سے ملتے جلتے لیکن وہ تہمند باندھے ہوئے ہوتی تھیں (ابو داؤد) حضرت عمارہ کی پھوپھی صاحبہ حضرت عائشہ صدیقہ سے سوال کرتی ہیں کہ اگر عورت حیض کی حالت میں ہو اور گھر میں میاں بیوی کا ایک ہی بستر ہو تو وہ کیا کرے؟ یعنی اس حالت میں اس کے ساتھ اس کا خاوند سو سکتا ہے یا نہیں؟ آپ نے فرمایا، سنو ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے، آتے ہی نماز کی جگہ تشریف لے گئے اور نماز میں مشغول ہو گئے، دیر زیادہ لگ گئی اور اس عرصہ میں مجھے نیند آ گئی، آپ کو جاڑا لگنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ادھر آؤ، میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں تو حیض سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھٹنوں کے اوپر سے کپڑا ہٹانے کا حکم دیا اور پھر میری ران پر رخسار اور سینہ رکھ کر لیٹ گئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئی تو سردی کچھ کم ہوئی اور اس گرمی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند آ گئی۔
 حضرت مسروق ایک مرتبہ حضرت عائشہ کے پاس آئے اور کہا السلام علی النبی و علی اھلہ حضرت عائشہ نے جواب دے کر مرحبا مرحبا کہا اور اندر آنے کی اجازت دی، آپ نے کہا ام المومنین ایک مسئلہ پوچھتا ہوں لیکن شرم معلوم ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا، سُن میں تیری ماں اور تو قائم مقام میرے بیٹے کے ہے، جو پوچھنا ہو پوچھ، کہا فرمائیے آدمی کیلئے اپنے حائضہ بیوی حلال ہے؟ فرمایا سوائے شرمگاہ کے اور سب جائز ہے۔ (ابن جریر) اور سندوں سے بھی مختلف الفاظ کے ساتھ حضرت ام المومنین کا یہ قول مروی ہے، حضرت ابن عباس مجاہد حسن اور عکرمہ کا فتویٰ بھی یہی ہے، مقصد یہ ہے کہ حائضہ عورت کے ساتھ لیٹنا بیٹھنا اس کے ساتھ کھانا پینا وغیرہ امور بالاتفاق جائز ہیں۔ حضرت عائشہ سے منقول ہے میں حیض سے ہوتی تھی، میں ہڈی چوستی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی ہڈی کو وہیں منہ لگا کر چوستے تھے، میں پانی پیتی تھی پھر گلاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہیں منہ لگا کر اسی گلاس سے پانی پیتے اور میں اس وقت حائضہ ہوتی تھی، ابوداؤد میں روایت ہے کہ میرے حیض کے شروع دِنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ ہی لحاف میں سوتے تھے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا کہیں سے خراب ہو جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی ہی جگہ کو دھو ڈالتے۔ اگر جسم مبارک پر کچھ لگ جاتا تو اسے بھی دھو ڈالتے اور پھر ان ہی کپڑوں میں نماز پڑھتے۔ ہاں ابوداؤد کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت صدیقہ فرماتی ہیں میں جب حیض سے ہوتی تو بسترے سے اتر جاتی اور بورئیے پر آجاتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب بھی نہ آتے جب تک میں پاک نہ ہو جاؤں۔ تو یہ روایت محمول ہے کہ آپ پرہیز اور احتیاط کرتے تھے نہ یہ کہ محمول ہو حرمت اور ممانعت پر بعض حضرات یہ بھی فرماتے ہیں کہ تہبند ہوتے ہوئے فائدہ اٹھائے، حضرت میمونہ بنت حارث ہلالیہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی کسی اہلیہ سے ان کی حیض کی حالت میں ملنا چاہتے تھے تو انہیں حکم دیتے تھے کہ تہبند باندھ لیں (بخاری)
 اس طرح بخاری مسلم میں بھی یہ حدیث حضرت عائشہ سے مروی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص سوال کرتا ہے کہ میری بیوی سے مجھے اس کے حیض کے حالت میں کیا کچھ حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تہبند سے اوپر کا کل (ابوداؤد وغیرہ) ایک اور روایت میں ہے کہ اس سے بھی بچنا بہتر ہے۔ حضرت عائشہ حضرت ابن عباس ، حضرت سعید بن مسیب اور حضرت شریح کا مذہب بھی یہی ہے۔ امام شافعی کے اس بارے میں دو قول ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ اکثر عراقیوں وغیرہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ یہ تو متفقہ فیصلہ ہے کہ جماع حرام ہے اس لئے اس کے آس پاس سے بھی بچنا چاہئے تاکہ حرمت میں واقع ہونے کا خطرہ نہ رہے۔ حالت حیض میں جماع کی حرمت اور اس کام کے کرنے والے کا گنہگار ہونا تو یقین امر ہے جسے توبہ استغفار کرنا لازمی ہے لیکن اسے کفارہ بھی دینا پڑے گا یا نہیں اس میں علماء کرام کے دو قول ہیں۔ ایک تو یہ کہ کفارہ بھی ہے چنانچہ مسند احمد اور سنن میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنی حائضہ بیوی سے جماع کرے وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ دے۔ ترمذی میں ہے کہ خون اگر سرخ ہو تو ایک دینار اور اگر زرد رنگ کا ہو تو آدھا دینار۔ مسند احمد میں ہے کہ اگر خون پیچھے ہٹ گیا اور ابھی اس عورت نے غسل نہ کیا ہو اور اس حالت میں اس کا خاوند اس سے ملے تو آدھا دینار ورنہ پورا دینار، دوسرا قول یہ ہے کہ کفارہ کچھ بھی نہیں صرف اللہ عزوجل سے استغفار کرے۔ امام شافعی کا بھی آخری اور زیادہ صحیح یہی مذہب ہے اور جمہور علماء بھی اسی کے قائل ہیں۔ جو حدیثیں اوپر بیان ہوئیں ان کی نسبت یہ حضرات فرماتے ہیں کہ ان کا مرفوع ہونا صحیح نہیں بلکہ صحیح بات یہی ہے کہ یہ موقوف ہے۔ یہ فرمان کہ جب تک عورتیں پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب نہ جاؤ۔
 یہ تفسیر ہے اس فرمان کی کہ عورتوں سے ان کی حیض کی حالت میں جدا رہو، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت حیض ختم ہو جائے پھر نزدیکی حلال ہے۔ حضرت امام ابوعبد اللہ احمد بن حنبل فرماتے ہیں طہر یعنی پاکی دلالت کرتی ہے کہ اب اس سے نزدیکی جائز ہے۔ حضرت میمونہ اور حضرت عائشہ کا یہ فرمانا کہ ہم میں سے جب کوئی حیض سے ہوتی تو تہبند باندھ لیتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر میں سوتی، اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ جس زندگی سے منع کیا گیا ہے وہ جماع ہے، ویسے سونا بیٹھنا وغیرہ سب جائز ہے۔ اس کے بعد یہ فرمان ان کے پاک ہو جانے کے بعد ان کے پاس آؤ۔ اس میں ارشاد ہے کہ اس کے غسل کر لینے کے بعد ان سے جماع کرو۔ امام ابن حزم فرماتے ہیں کہ ہر حیض کی پاکیزگی کے بعد جماع کرنا واجب ہے، اس کی دلیل آیت (فائتوھن) ہے جس میں حکم ہے لیکن یہ دلیل کوئی پختہ نہیں۔ یہ امر تو صرف حرمت کو ہٹا دینے کا اعلان ہے اور اس کے سوا اس کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں، علماء اصول میں سے بعض تو کہتے ہیں کہ امر یعنی حکم مطلقاً وجوب کیلئے ہوتا ہے ان لوگوں کو امام ابن حزم کا جواب بہت گراں ہے، بعض کہتے ہیں یہ امر صرف اباحت کیلئے ہے اور چونکہ اس سے پہلے ممانعت وارد ہو چکی ہے یہ قرینہ ہے جو امر کو وجوب سے ہٹا دیتا ہے لیکن یہ غور طلب بات ہے، دلیل سے جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ ایسے موقع پر یعنی پہلے منع ہو پھر "حکم” ہو تو حکم اپنی اصل پر رہتا ہے یعنی جو بات منع سے پہلے جیتی تھی ویسی ہی اب ہو جائے گی یعنی اگر منع سے پہلے وہ کام واجب تھا تو اب بھی واجب ہی رہے گا،
 جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلوا المشرکین) یعنی جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں سے جہاد کرو۔ اور اگر یہ کام ممانعت سے پہلے مباح تھا تو اب بھی وہ مباح رہے گا جیسے آیت (واذا حللتم فاصطادوا) جب تم احرام کھول دو تو شکار کھیلو، اور جگہ ہے آیت (فاذا قضیت الصلوۃ فانتشرو فی الارض) یعنی جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ۔ ان علماء کرام کا یہ فیصلہ ان مختلف اقوال کو جمع بھی کر دیتا ہے جو امر کے وجوب وغیرہ کے بارے میں ہیں۔ غزالی وغیرہ نے بھی اسے بیان کیا ہے اور بعض ائمہ متاخرین نے بھی اسے پسند فرمایا ہے اور یہی صحیح بھی ہے۔ یہ مسئلہ بھی یاد رہے کہ تمام علماء امت کا اتفاق ہے کہ جب خون حیض کا آنا رُک جائے، مدت حیض گزر جائے پھر بھی اس کے خاوند کو اپنی بیوی سے مجامعت کرنی حلال نہیں جب تک وہ غسل نہ کر لے، ہاں اگر وہ معذور ہو اور غسل کے عوض تیمم کرنا اسے جائز ہو تو تیمم کر لے۔ اس کے بعد اس کے پاس اس کا خاوند آ سکتا ہے ۔ ہاں امام ابوحنیفہ ان تمام علماء کے مخالف ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ جب حیض زیادہ سے زیادہ دِنوں تک آخری معیاد یعنی دس دن تک رہ کر بند ہو گیا تو اس کے خاوند اس سے صحبت کرنا حلال ہے، گو اس نے غسل نہ کیا ہو، واللہ اعلم، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ تو لفظ (یطھرون) کا اس سے مراد خون حیض کا بند ہونا ہے اور (تطھرون) سے مراد غسل کرنا ہے۔ حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ، حضرت حسن، حضرت مقاتل بن حیات، حضرت لیث بن سعد وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں، پھر ارشاد ہوتا ہے اس جگہ سے آؤ جہاں سے آنے کا حکم اللہ نے تمہیں دیا ہے، مراد اس سے آگے کی جگہ ہے۔ حضرت ابن عباس، حضرت مجاہد وغیرہ بہت سے مفسرین نے اس کے یہی معنی بیان کئے ہیں کہ مراد اس سے بچوں کے تولد ہونے کی جگہ ہے، اس کے سوا اور جگہ یعنی پاخانہ کی جگہ جانا حرام ہے، ایسا کرنے سے حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ صحابہ اور تابعین سے بھی یہی مروی ہے کہ مطلب یہ ہے کہ جس جگہ سے حالت حیض میں تم روکے گئے تھے اب وہ جگہ تمہارے لئے حلال ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ پاخانہ کی جگہ وطی کرنا حرام ہے۔ اس کا مفصل بیان بھی آتا ہے انشاء اللہ۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ پاکیزگی کی حالت میں آؤ جبکہ حیض سے نکل آئیں اس لئے اس کے بعد کے جملہ میں ہے کہ گناہوں سے توبہ کرنے والوں، اس حالت میں جماع سے باز رہنے والوں، گندگیوں اور ناپاکیوں سے بچنے والوں، حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے نہ ملنے والوں کو اللہ تعالٰی پسند فرماتا ہے۔ اسی طرح دوسری جگہ سے محفوظ رہنے والوں کو بھی پروردگار اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s