مکمل اطاعت ہی مقصود ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ
﴿002:208﴾
 
 
[جالندھری]‏ مومنو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے
 
 
Sahih International

O you who have believed, enter into Islam completely [and perfectly] and do not follow the footsteps of Satan. Indeed, he is to you a clear enemy.

 
 
فَإِنْ زَلَلْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْكُمُ الْبَيِّنَاتُ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
﴿002:209﴾
 
 
[جالندھری]‏ پھر اگر تم احکام روشن پہنچ جانے کے بعد لڑکھڑا جاؤ تو جان رکھو کہ خدا غالب (اور) حکمت والا ہے ‏
 
 
Sahih International

But if you deviate after clear proofs have come to you, then know that Allah is Exalted in Might and Wise.

 
 
تفسیر ابن كثیر
 
مکمل اطاعت ہی مقصود ہے
 
اللہ تعالٰی اپنے اوپر ایمان لانے والوں اور اپنے نبی کی تصدیق کرنے والوں سے ارشاد فرماتا ہے
 
 کہ وہ کل احکام کو بجا لائیں کل ممنوعات سے بچ جائیں کامل شریعت پر عمل کریں
 
 سلم سے مراد سلام ہے اطاعت اور صلح جوئی بھی مراد ہے کافۃ کے معنی سب کے سب پورے پورے پورے،
 
 عکرمہ کا قول ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام اسد بن عبید ثقلیہ وغیرہ جو یہود سے مسلمان ہوئے تھے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گزارش کی ہمیں ہفتہ کے دن کی عزت اور راتوں کے وقت توراۃ پر عمل کرنے کی اجازت دی جائے جس پر یہ آیت اتری
 
کہ اسلامی احکام پر عمل کرتے رہو،
 
 لیکن اس میں حضرت عبداللہ کا نام کچھ ٹھیک نہیں معلوم وہ اعلیٰ عالم تھے اور پورے مسلمان تھے انہیں مکمل طور پر معلوم تھا کہ ہفتہ کے دن کی عزت منسوخ ہو چکی ہے اس کے بجائے اسلامی عید جمعہ کے دن کی مقرر ہو چکی ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ ایسی خواہش میں اوروں کا ساتھ دیں،
 
 بعض مفسرین نے کافۃ کو حال کہا ہے یعنی تم سب کے سب اسلام میں داخل ہو جاؤ،
 
 لیکن پہلی بات زیادہ صحیح ہے یعنی اپنی طاقت بھر اسلام کے کل احکام کو مانو،
 
 حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ بعض اہل کتاب باوجود ایمان لانے کے توراۃ کے بعض احکام پر جمے ہوئے تھے ان سے کہا جاتا ہے کہ محمدی دین میں پوری طرح آجاؤ اس کا کوئی عمل نہ چھوڑو توراۃ پر صرف ایمان رکھنا کافی ہے۔
 
پھر فرمان ہے کہ اللہ کی اطاعت کرتے رہو شیطان کی نہ مانو وہ تو برائیوں اور بدکاریوں کو اور اللہ پر بہتان باندھنے کو اکساتا ہے
 
 اس کی اور اس کے گروہ کی تو خواہش یہ ہے کہ تم جہنمی بن جاؤ وہ تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے۔
 
 اگر تم دلائل معلوم کرنے کے بعد بھی حق سے ہت جاؤ تو جان رکھو کہ اللہ بھی بدلہ لینے میں غالب ہے نہ اس سے کوئی بھاگ کر بچ سکے نہ اس پر کوئی غالب ہے اپنی پکڑ میں وہ حکیم ہے اپنے امر میں وہ کفار پر غلبہ رکھتا ہے اور عذروحجت کو کاٹ دینے میں حکمت رکھتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s