گمراہی اور جہالت کیا ہے؟

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۗ أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ
﴿002:170﴾
 
 
‏ [جالندھری]‏ اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، بھلا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ سیدھے راستے پر ہوں (تب بھی وہ انہیں کی تقلید کئے جائیں گے؟
 
 
Sahih International

And when it is said to them, "Follow what Allah has revealed,” they say, "Rather, we will follow that which we found our fathers doing.” Even though their fathers understood nothing, nor were they guided?

 
 
وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً ۚ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ
﴿002:171﴾
 
 
[جالندھری]‏ اور جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ سن نہ سکے (یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کچھ) سمجھ نہیں سکتے
 
 
Sahih International
The example of those who disbelieve is like that of one who shouts at what hears nothing but calls and cries cattle or sheep – deaf, dumb and blind, so they do not understand.
 
تفسیر ابن كثیر
 
 
گمراہی اور جہالت کیا ہے؟
 
 
یعنی ان کافروں اور مشرکوں سے جب کہا جاتا ہے
 
 کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی پیروی کرو
 
 اور اپنی ضلالت وجہالت کو چھوڑ دو
 
 تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے بڑوں کی راہ لگے ہوئے ہیں
 
 جن چیزوں کی وہ پوجا پاٹ کرتے تھے ہم بھی کر رہے ہیں
 
 اور کرتے رہیں گے
 
 جس کے جواب میں قرآن کہتا ہے
 
 کہ وہ تو فہم و ہدایت سے غافل تھے۔
 
 یہ آیت یہودیوں کے بارے میں اتری ہے۔
 
 پھر ان کی مثال دی کہ جس طرح چرنے چگنے والے جانور اپنے چرواہے کی کوئی بات صحیح طور سے سمجھ نہیں سکتے صرف آواز کانوں میں پڑتی ہے
 
 اور کلام کی بھلائی برائی سے بےخبر رہتے ہیں
 
اسی طرح یہ لوگ بھی ہیں۔
 
یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ جن جن کو یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں اور ان سے پانی حاجتیں اور مرادیں مانگتے ہیں
 
 وہ نہ سنتے ہیں نہ جانتے ہیں نہ ان میں زندگی ہے نہ انہیں کچھ احساس ہے۔
 
 کافروں کی یہ جماعت حق کی باتوں کے سننے سے بہری ہے
 
 حق کہنے سے بےزبان ہے حق کے راہ چلنے سے اندھی ہے عقل وفہم سے دور ہے،
 
 جیسے اور جگہ ہے آیت (صم و بکم فی الظلمات)
 
 یعنی ہماری باتوں کو جھٹلانے والے بہرے، گونگے اور اندھیرے میں ہیں
 
 جسے اللہ چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے سیدھی راہ لگا دے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s