وفائے عہد کے آزمائش لازم ہے

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ
﴿002:155﴾
 
 
‏ [جالندھری]‏ اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میووں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے تو صبر کرنے والوں کو (خدا کی خوشنودی کی) بشارت سنادو
 
Sahih International

And We will surely test you with something of fear and hunger and a loss of wealth and lives and fruits, but give good tidings to the patient,

 
تفسیر ابن كثیر
 
وفائے عہد کے آزمائش لازم ہے
اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی آزمائش ضرور کر لیا کرتا ہے
 
 کبھی ترقی اور بھلائی کسے ذریعہ اور کبھی تنزل اور برائی سے ،
 
 جیسے فرماتا ہے آیت (ولنبلونکم حتی نعلم المجاہدین منکم والصابرین)
 
 یعنی ہم آزما کر مجاہدوں اور صبر کرنے والوں کو معلوم کر لیں گے
 
 اور جگہ ہے آیت فاذاقھا اللہ لباس الجوع والخوف) الخ
 
 مطلب یہ ہے کہ تھوڑا سا خوف، کچھ بھوک، کچھ مال کی کمی، کچھ جانوں کی کمی
 
 یعنی اپنوں اور غیر خویش و اقارب، دوست و احباب کی موت،
 
کبھی پھلوں اور پیداوار کی نقصان وغیرہ سے اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو آزما لیتا ہے،
 
 صبر کرنے والوں کو نیک اجر اور اچھا بدلہ عنایت فرماتا ہے
 
 اور بےصبر جلد باز اور ناامیدی کرنے والوں پر اس کے عذاب اتر آتے ہیں۔
 
 بعض سلف سے منقول ہے کہ یہاں خوف سے مراد اللہ تعالٰی کا ڈر ہے،
 
 بھوک سے مراد روزوں کی بھوک ہے،
 
 مال کی کمی سے مراد زکوۃ کی ادائیگی ہے،
 
جان کی کمی سے مراد بیماریاں ہیں،
 
 پھلوں سے مراد اولاد ہے،
 
 لیکن یہ تفسیر ذرا غور طلب ہے واللہ اعلم۔
 
 
الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
﴿002:156﴾
 
 
‏ [جالندھری]‏ ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
 
 
Sahih International

Who, when disaster strikes them, say, "Indeed we belong to Allah , and indeed to Him we will return.”

 
 
تفسیر ابن كثیر
 
اب بیان ہو رہا ہے کہ جن صبر کرنے والوں کی اللہ کے ہاں عزت ہے وہ کون لوگ ہیں؟
 
 پس فرماتا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو تنگی اور مصیبت کے وقت آیت انا للہ) پڑھ لیا کرتے ہیں
 
 اور اس بات سے اپنے دل کو تسلی دے لیا کرتے ہیں کہ ہم اللہ کی ملکیت ہیں اور جو ہمیں پہنچا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے
 
 اور ان میں جس طرح وہ چاہے تصرف کرتا رہتا ہے
 
 اور پھر اللہ کے ہاں اس کا بدلہ ہے جہاں انہیں بالاخر جانا ہے،
 
 ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ کی نوازشیں اور الطاف ان پر نازل ہوتے ہیں عذاب سے نجات ملتی ہے اور ہدایت بھی نصیب ہوتی ہے۔
 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s