مشرکین کے اعمال پر بیزاری

قُلْ أَتُحَاجُّونَنَا فِي اللَّهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ
﴿002:139﴾
 
 
 
‏ [جالندھری]‏ (ان سے) کہو کیا تم خدا کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو حالانکہ وہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے اور ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا اور ہم خاص اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔
 
 ‏
Sahih International
Say, [O Muhammad], "Do you argue with us about Allah while He is our Lord and your Lord? For us are our deeds, and for you are your deeds. And we are sincere [in deed and intention] to Him.”
 
 
أَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطَ كَانُوا هُودًا أَوْ نَصَارَى ۗ قُلْ أَأَنْتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللَّهُ ۗ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
﴿002:140﴾
 
 
[جالندھری]‏ (اے یہود ونصاریٰ!) کیا تم اس بات کے قائل ہو کہ ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا عیسائی تھے؟ (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! ان سے) کہو کہ بھلا تم زیادہ جانتے ہو یا خدا؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا کی شہادت کو چھپائے جو اس کے پاس (کتاب میں موجود) ہے اور خدا اس سے غافل نہیں جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو
 
 
Sahih International

Or do you say that Abraham and Ishmael and Isaac and Jacob and the Descendants were Jews or Christians? Say, "Are you more knowing or is Allah ?” And who is more unjust than one who conceals a testimony he has from Allah ? And Allah is not unaware of what you do.

 
 
تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
﴿002:141﴾
 
 
[جالندھری]‏ یہ جماعت گزر چکی ان کو ان کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے ان کی پرسش تم سے نہیں ہوگی
 
 
Sahih International
That is a nation which has passed on. It will have [the consequence of] what it earned, and you will have what you have earned. And you will not be asked about what they used to do.
 
تفسیر ابن كثیر
 
مشرکین کے اعمال پر بیزاری
مشرکوں کے جھگڑے کو دفع کرنے کا حکم رب العالمین اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے رہا ہے
 
 کہ "تم ہم سے اللہ کی توحید، اخلاص، اطاعت وغیرہ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو؟
 
 وہ صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ تمہارا رب بھی تو ہے، ہم پر اور تم پر قابض و متصرف بھی وہی اکیلا ہے۔
 
 ہمارے عمل ہمارے ساتھ ہیں وہ تمہارے عمل تمہیں کام آئیں گے، ہم تم سے اور تمہارے شرک سے بیزار ہیں”
 
 اور جگہ فرمایا آیت (فان کذبوک فقل) الخ یعنی”اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہدے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لئے تمہارا عمل ہے
 
 تم میرے (نیک) کام سے اور میں تمہارے اعمال سے بیزار ہوں۔ "
 
 اور جگہ ارشاد ہے آیت (فان حاجوک) الخ”اگر یہ تجھ سے جھگڑیں تو تو کہدے میں نے اور میرے ماننے والوں نے اپنے منہ اللہ کی طرف کر دئے۔ "
 
 حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا
 
 آیت (اتحاجونی فی اللہ) الخ کیا تم اللہ کے بارے میں مجھ سے اختلاف کرتے ہو؟
 
 اور جگہ ہے؟ آیت (الم ترالی الذی حاج ابراہیم فی ربہ) تو نے اسے بھی دیکھا جو ابراہیم ( علیہ السلام) سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑنے لگا۔
 
 پس یہاں ان جھگڑالو لوگوں سے کہا گیا کہ ہمارے اعمال ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے۔
 
 ہم تم سے الگ۔ ہم عبادت اور توجہ میں اخلاص اور یکسوئی کرنے والے لوگ ہیں۔
 
 پھر ان لوگوں کے دعوے کی تردید ہو رہی ہے کہ حضرت ابراہیم نہ تو یہودی، نہ نصرانی، تم اے یہودیو اور اے نصرانیو کیوں یہ باتیں بنا رہے ہو؟
 
 کیا تمہارا علم اللہ سے بھی بڑھ گیا ہے اللہ نے تو صاف فرما دیا
 
 آیت (ما کان ابراہیم یہودیا ولا نصرانیا و لکن کان حنیفا مسلما وما کان من المشرکین) ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے، نہ نصرانی، نہ مشرک، بلکہ خالص مسلمان تھے، ان کا حق کی شہادت کو چھپا کر بڑا ظلم کرنا یہ تھا کہ اللہ کی کتاب جو اس کے پاس آئی اس میں انہوں نے پڑھا کہ حقیقی دین اسلام ہے۔
 
 محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے رسول ہیں۔ ابراہیم، اسمٰعیل، اسحاق، یعقوب وغیرہ یہودیت اور نصرانیت سے الگ تھے لیکن پھر نہ مانا اور اتنا ہی نہیں بلکہ اس بات کو بھی چھپا دیا۔
 
 پھر فرمایا تمہارے اعمال اللہ سے پوشیدہ نہیں، اس کا محیط علم سب چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے، وہ ہر بھلائی اور برائی کا پورا پورا بدلہ دے گا۔
 
 یہ دھمکی دے کر پھر فرمایا کہ یہ پاکباز جماعت تو اللہ کے پاس پہنچ چکی۔ تم جب ان کے نقش قدم پر نہ چلو تو صرف ان کی اولاد میں سے ہونا تمہیں اللہ کے ہاں کوئی عزت اور نفع نہیں دے سکتا ہے۔
 
 ان کے نیک اعمال میں تمہارا کوئی حصہ نہیں اور تمہاری بد اعمالیوں کا ان پر کوئی بوجھ نہیں” جو کرے سو بھرے”
 
تم نے جب ایک نبی کو جھٹلایا تو گویا تمام انبیا کو جھٹلایا
 
 بالخصوص اے وہ لوگو! جو نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں ہو۔ تم تو بڑے ہی وبال میں آ گئے،
 
 تم نے تو اس نبی کو جھٹلایا جو سید الانبیاء جو ختم المرسلین ہیں،
 
 جو رسول رب العالمین ہیں
 
 جن کی رسالت تمام انسانوں اور جنوں کی طرف ہے۔
 
 جن کی رسالت کے ماننے کا ہر ایک شخص مکلف ہے۔
 
 اللہ تعالٰی کے بیشمار درود و سلام آپ پرنازل ہوں اور آپ کے سوا تمام انبیاء کرام پر بھی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s