شرط نجات

فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا ۖ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
﴿002:137﴾
 
 
‏ [جالندھری]‏ تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہوجائیں اور اگر منہ پھیر لیں (اور نہ مانیں) تو وہ (تمہارے) مخالف ہیں اور ان کے مقابلے میں تمہیں خدا کافی ہے اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے
 
Sahih International

So if they believe in the same as you believe in, then they have been [rightly] guided; but if they turn away, they are only in dissension, and Allah will be sufficient for you against them. And He is the Hearing, the Knowing.

 
 
صِبْغَةَ اللَّهِ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً ۖ وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ
﴿002:138﴾
 
 
‏ [جالندھری]‏ (کہہ دو کہ ہم نے) خدا کا رنگ (اختیار کرلیا ہے) اور خدا سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے؟ اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں
 
 
Sahih International
[And say, "Ours is] the religion of Allah . And who is better than Allah in [ordaining] religion? And we are worshippers of Him.”
 
تفسیر ابن كثیر
 
 
شرط نجات
یعنی اپنے ایمان دار صحابیو! اگر یہ کفار بھی تم جیسا ایمان لائیں یعنی تمام کتابوں اور رسولوں کو مان لیں تو حق و رشد ہدایت ونجات پائیں گے
 
 اور اگر باوجود قیام حجت کے باز رہیں تو یقینا حق کے خلاف ہیں۔
 
 اللہ تعالٰی تجھے ان پر غالب کر کے تمہارے لئے کافی ہو گا،
 
 وہ سننے جاننے والا ہے۔
 
 نافع بن نعیم کہتے ہیں کہ کسی خلیفہ کے پاس حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی کا قرآن بھیجا گیا زیاد نے یہ سن کر کہا کہ لوگوں میں مشہور ہے کہ جب حضرت عثمان کو لوگوں نے شہید کیا اس وقت یہ کلام اللہ ان کی گود میں تھا
 
 اور آپ کا خون ٹھیک ان الفاظ پڑھا تھا آیت (فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم) کیا یہ صحیح ہے؟
 
 حضرت نافع نے کہا بالکل ٹھیک ہے
 
 میں نے خود اس آیت پر ذوالنورین کا خون دیکھا تھا (رضی اللہ تعالٰی عنہ)
 
 رنگ سے مراد دین ہے اور اس کا زبر بطور اغراء کے ہے۔
 
 جسے فطرۃ اللہ میں مطلب یہ ہے کہ اللہ کے دین کو لازم پکڑ لو اس پر چمٹ جاؤ۔
 
 بعض کہتے ہیں یہ بدل ہے ملتہ ابراہیم سے جو اس سے پہلے موجود ہے۔
 
 سیبویہ کہتے ہیں یہ صدر موکد ہے۔ امنا باللہ کی وجہ سے منصوب ہے
 
 جیسے وعد اللہ ایک مرفوع حدیث ہے”بنی اسرائیل نے کہا اے رسول اللہ کیا ہمارا رب رنگ بھی کرتا ہے؟
 
آپ نے فرمایا اللہ سے ڈرو
 
 آواز آئی ان سے کہ دو کہ تمام رنگ میں ہی تو پیدا کرتا ہوں۔
 
 "یہی مطلب اس آیت کا بھی ہے
 
 لیکن اس روایت کا موقوف ہونا ہی صحیح ہے اور یہ بھی اس وقت جب کہ اس کی اسناد صحیح ہوں۔
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s