تعمیر کعبہ

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
﴿002:128﴾
 
 
‏ [جالندھری]‏ اے پروردگار ہم کو اپنا فرمانبر دار بنائے رکھیو اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو اپنا مطیع بناتے رہیو اور (پروردگار) ہمیں ہمارے طریق عبادت بتا اور ہمارے حال پر (رحم) کیساتھ توجہ فرما بیشک تو توجہ فرمانے والا مہربان ہے۔
 
 
Sahih International
Our Lord, and make us Muslims [in submission] to You and from our descendants a Muslim nation [in submission] to You. And show us our rites and accept our repentance. Indeed, You are the Accepting of repentance, the Merciful
 
 
تفسیر ابن كثیر
 
 
تعمیر کعبہ
پھر ایک مدت کے بعد حضرت ابراہیم کو اجازت ملی اور آپ تشریف لائے تو حضرت اسمٰعیل کو زمزم کے پاس ایک ٹیلے پر تیر سیدھے کرتے ہوئے پایا، حضرت اسمٰعیل باپ کو دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے اور با ادب ملے جب باپ بیٹے ملے
 
 تو خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا اے اسماعیل مجھے اللہ کا ایک حکم ہوا ہے آپ نے فرمایا ابا جان جو حکم ہوا ہو اس کی تعمیل کیجئے، کہا بیٹا تمہیں بھی میرا ساتھ دینا پڑے گا۔ عرض کرنے لگے میں حاضر ہوں اس جگہ اللہ کا ایک گھربنانا ہے کہنے لگے بہت بہتر
 
 اب باپ بیٹے نے بیت اللہ کی نیو رکھی اور دیواریں اونچی کرنی شروع کیں، حضرت اسمٰعیل پتھر لا لا کر دیتے جاتے تھے اور حضرت ابراہیم چنتے جاتے تھے جب دیواریں قدرے اونچی ہو گئیں تو حضرت ذبیح اللہ یہ پتھر یعنی مقام ابراہیم کا پتھر لائے، اس اونچے پتھر پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم کعبہ کے پتھر رکھتے جاتے تھے اور دونوں باپ بیٹا یہ دعا مانگتے جاتے تھے
 
 کہ باری تعالٰی تو ہماری اس ناچیز خدمت کو قبول فرمانا تو سننے اور جاننے والا ہے یہ روایت اور کتب حدیث میں بھی ہے کہیں مختصر اور کہیں مفصلاً
 
ایک صحیح حدیث میں یہ بھی ہے کہ حضرت ذبیح اللہ کے بدلے جو دنبہ ذبح ہوا تھا اس کے سینگ بھی کعبۃ اللہ میں تھے اوپر کی لمبی روایت بروایت حضرت علی بھی مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام جب بھی کعبۃ اللہ شریف کے قریب پہنچے
 
 تو آپ نے اپنے سر پر ایک بادل سا ملاحظہ فرمایا جس میں سے آواز آئی کہ اے ابراہیم جہاں جہاں تک اس بادل کا سایہ ہے وہاں تک کی زمین بیت اللہ میں لے لو کمی زیادتی نہ ہو
 
 اس روایت میں یہ بھی ہے کہ بیت اللہ بنا کر وہاں حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمٰعیل کو چھوڑ کر آپ تشریف لے گئے لیکن روایت ہی ٹھیک ہے اور اس طرح تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ بنا پہلے رکھدی تھی لیکن بنایا بعد میں، اور بنانے میں بیٹا اور باپ دونوں شامل تھے
 
 جیسے کہ قرآن پاک کے الفاظ بھی ہیں ایک اور روایت میں ہے کہ لوگوں نے حضرت علی سے بناء بیت اللہ شروع کیفیت دریافت کی تو آپ نے فرمایا اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم کو حکم دیا کہ میرا گھر بناؤ حضرت ابراہیم گھبرائے کہ مجھے کہاں بنانا چاہئے کس طرح اور کتنا بڑا بنانا چاہئے وغیرہ اس پر سکینہ نازل ہوا اور حکم ہوا کہ جہاں یہ ٹھہرے وہاں تم میرا گھر بناؤ آپ نے بنانا شروع کیا
 
 جب حجر اسود کی جگہ پہنچے تو حضرت اسمٰعیل سے کہا بیٹا کوئی اچھا سا پتھر ڈھونڈ لاؤ تو دیکھا کہ آپ اور پتھر وہاں لگا چکے ہیں، پوچھا یہ پتھر کون لایا؟
 
 آپ نے فرمایا اللہ کے حکم سے یہ پتھر حضرت جبرائیل آسمان سے لے کر آئے،
 
 حضرت کعب احبار فرماتے ہیں کہ اب جہاں بیت اللہ ہے وہاں زمین کی پیدائش سے پہلے پانی پر بلبلوں کے ساتھ جھاگ سی تھی یہیں سے زمین پھیلائی گئی،
 
حضرت علی فرماتے ہیں کعبۃ اللہ بنانے کے لیے حضرت خلیل آرمینیہ سے تشریف لائے تھے حضرت سدی فرماتے ہیں حجر اسود حضرت جبرائیل ہند سے لائے تھے اس وقت وہ سفید چمکدار یا قوت تھا
 
 جو حضرت آدم نے بنا کی، مسند عبد الرزاق میں ہے کہ حضرت آدم ہند میں اترے تھے اس وقت ان کا قد لمبا تھا زمین میں آنے کے بعد فرشتوں کی تسبیح نماز و دعا وغیرہ سنتے تھے جب قد گھٹ گیا اور وہ پیاری آوازیں آنی بند ہو گئیں تو آپ گھبرانے لگے حکم ہوا کہ مکہ کی طرف رکھا اور اسے اپنا گھر قرار دیا،
 
 حضرت آدم یہاں طواف کرنے لگے اور مانوس ہوئے گھبراہٹ جاتی رہی حضرت نوح کے طوفان کے زمانہ میں یہ پھر اٹھ گیا اور حضرت ابراہیم کے زمانہ میں پھر اللہ تعالٰی نے بنوایا حضرت آدم نے یہ گھر حرا طور زیتاحیل لبنان طور سینا اور جودی ان پانچ پہاڑوں سے بنایا تھا لیکن ان تمام روایتوں میں تفاوت ہے واللہ اعلم
 
 بعض روایتوں میں ہے کہ زمین کی پیدائش سے دو ہزار سال پہلے بیت اللہ بنایا گیا تھا،
 
 حضرت ابراہیم کے ساتھ بیت اللہ کے نشان بتانے کے لیے حضرت جبرائیل چلے تھے اس وقت یہاں جنگلی درختوں کے سوا کچھ نہ تھا کس دور عمالیق کی آبادی تھی یہاں آپ حضرت ام اسماعیل کو اور حضرت اسمٰعیل کو ایک چھپر تلے بٹھا گے
 
 ایک اور روایت میں ہے کہ بیت اللہ کے چار ارکان ہیں اور ساتویں زمین تک وہ نیچے ہوتے ہیں
 
 ایک اور روایت میں ہے کہ ذوالقرنین جب یہاں پہنچے اور حضرت ابراہیم کو بیت اللہ بناتے ہوئے دیکھا تو پوچھا یہ کیا کر رہے ہو؟
 
 تو انہوں نے کہا اللہ کے حکم سے اس کا گھر بنا رہے ہیں پوچھا کیا دلیل؟
 
 کہا یہ بھیڑیں گواہی دیں گی پانچ بھیڑوں نے کہا ہم گواہی دیتی ہیں کہ یہ دونوں اللہ کے مامور ہیں، ذوالقرنین خوش ہو گئے اور کہنے لگے میں نے مان لیا الرزقی کی تاریخ مکہ میں ہے کہ ذوالقرنین نے خلیل اللہ اور ذبیح اللہ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کیا واللہ اعلم
 
 صحیح بخاری میں ہے قواعد بنیان اور اساس کو کہتے ہیں یہ قاعدہ کی جمع ہے
 
 قرآن میں اور جگہ آیت (والقواعد من النساء) بھی آیا ہے اس کا مفرد بھی قاعدۃ ہے
 
 حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کیا تم نہیں دیکھتیں کہ تمہاری قوم نے جب بیت اللہ بنایا تو قواعد ابراہیم سے گھٹا دیا میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ اسے بڑھا کر اصلی بنا کر دیں فرمایا کہ اگر تیری قوم نے جب بیت اللہ بنایا تو قواعد ابراہیم سے گھٹا دیا میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ اسے بڑھا کر اصلی بنا کر دیں
 
 فرمایا کہ اگر تیری قوم کا اسلام تازہ اور ان کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو میں ایسا کر لیتا
 
حضرت عبداللہ بن عمر کو جب یہ حدیث پہنچی تو فرمانے لگے شاید یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس کے دوستونوں کو چھوتے نہ تھے صحیح مسلم شریف میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اے عائشہ اگر تیری قوم کا جاہلیت کا زمانہ نہ ہوتا تو میں کعبہ کے خزانہ کو اللہ کی راہ میں خیرات کر ڈالتا اور دروازے کو زمین دوز کر دیتا اور حطیم کو بیت اللہ میں داخل کر دیتا
 
 صحیح بخاری میں یہ بھی ہے کہ میں اس کا دوسرا دروازہ بھی بنا دیتا ایک آنے کے لیے اور دوسرا جانے کے لیے چنانچہ ابن زبیر نے اپنے زمانہ خلافت میں ایسا ہی کیا اور ایک روایت میں ہے کہ اسے میں دوبارہ بنائے ابراہیمی پر بناتا۔
 
 دوسری روایت میں ہے کہ ایک دروازہ مشرق رخ کرتا اور دوسرا مغرب رخ اور چھ ہاتھ حطیم کو اس میں داخل کر لیتا جسے قریش نے باہر کر دیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پانچ سال پہلے قریش نے نئے سرے سے کعبہ بنایا تھا اس کا مفصل ذکر ملاحظہ ہو
 
 اس بنا میں خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شریک تھے آپ کی عمر پینتیس سال کی تھی اور پتھر آپ بھی اٹھاتے تھے محمد بن اسحاق بن یسار رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک پینتیس سال کی ہوئی اس وقت قریش نے کعبۃ اللہ کو نئے سرے سے بنانے کا ارادہ کیا ایک تو اس لئے کہ اس کی دیواریں بہت چھوٹی تھیں چھت نہ تھی دوسرے اس لئے بھی کہ بیت اللہ کا خزانہ چوری ہو گیا تھا
 
 جو بیت اللہ کے بیچ میں ایک گہرے گڑھے میں رکھا ہوا تھا یہ مال”دویک” کے پاس ملا تھاجو خزائمہ کے قبیلے بنی ملیح بن عمرو کا مولی تھا ممکن ہے چوروں نے یہاں لا رکھا ہو لیکن اس کے ہاتھ اس چوری کی وجہ سے کاٹے گئے ایک اور قدرتی سہولت بھی اس کے لیے ہو گئی تھی کہ روم کے تاجروں کی ایک کشتی جس میں بہت اعلیٰ درجہ کی لکڑیاں تھیں وہ طوفان کی وجہ سے جدہ کے کنارے آ لگی تھی یہ لکڑیاں چھت میں کام آ سکتی تھیں اس لیے قریشیوں نے انہیں خرید لیا اور مکہ کے ایک بڑھئی جو قبطی قبیلہ میں سے تھا کو چھت کا کام سونپا یہ سب تیاریاں تو ہو رہی تھیں
 
 لیکن بیت اللہ کو گرانے کی ہمت نہ پڑتی تھی اس کے قدرتی اسباب بھی مہیا ہو گئے بیت اللہ کے خزانہ میں ایک بڑا اژدھا تھا جب کبھی لوگ اس کے قریب بھی جاتے تو وہ منہ پھاڑ کر ان کی طرف لپکتا تھا یہ سانپ ہر روز اس کنویں سے نکل کر بیت اللہ کی دیواروں پر آ بیٹھتا تھا ایک روز وہ بیٹھا ہوا تھا تو اللہ تعالٰی نے ایک بہت بڑا پرندہ بھیجا وہ اسے پکڑ کر لے اڑا قریشیوں نے سمجھ لیا کہ ہمارا ارادہ مرضی مولا کے مطابق ہے
 
 لکڑیاں بھی ہمیں مل گئیں بڑھئی بھی ہمارے پاس موجود ہے سانپ کو بھی اللہ تعالٰی نے دفع کیا۔ اب انہوں نے مستقل ارادہ کر لیا کہ کعبۃ اللہ کو گرا کر نئے سرے سے بنائیں۔ سب سے پہلے ابن وہب کھڑا ہوا اور ایک پتھر کعبۃ اللہ کو گرا کر اتارا جو اس کے ہاتھ سے اڑ کر پھر وہیں جا کر نصب ہو گیا اس نے تمام قریشیوں سے خطاب کر کے کہا سنو بیت اللہ کے بنانے میں ہر شخص اپنا طیب اور پاک مال خرچ کرے۔
 
 اس میں زنا کاری کا روپیہ سودی بیوپار کا روپیہ ظلم سے حاصل کیا ہوا مال نہ لگانا، بعض لوگ کہتے ہیں یہ مشورہ ولید بن مغیرہ نے دیا تھا اب بیت اللہ کے حصے بانٹ لئے گئے
 
 دروازہ کا حصہ بنو عبد مناف اور زہرہ بنائیں حجر اسود اور رکن یمانی کا حصہ بنی مخزوم بنائیں۔ قریش کے اور قبائل بھی ان کا ساتھ دیں۔ کعبہ کا پچھلا حصہ بنو حمج اور سہم بنائیں۔ حطیم کے پاس کا حصہ بنو عبد الدار بن قصف اور بنو اسد بن عبد العزی اور بنو عدی بن کعب بنائیں۔ یہ مقرر کر کے ابن بنی ہوئی عمارت کو ڈھانے کے لیے چلے لیکن کسی کو ہمت نہیں پڑتی کہ اسے مسمار کرنا شروع کرے
 
 آخر ولید بن مغیرہ نے کہا لو میں شروع کرتا ہوں کدال لے کر اوپر چڑھ گئے اور کہنے لگے اے اللہ تجھے خوب علم ہے کہ ہمارا ارادہ برا نہیں ہم تیرے گھر کو اجاڑنا نہیں چاہتے بلکہ اس کے آباد کرنے کی فکر میں ہیں۔ یہ کہہ کر کچھ حصہ دونوں رکن کے کناروں کا گرایا قریشیوں نے کہا بس اب چھوڑو اور رات بھر کا انتظار کرو اگر اس شخص پر کوئی وبال آ جائے تو یہ پتھر اسی جگہ پر لگا دینا اور خاموش ہو جانا اور اگر کوئی عذاب نہ آئے تو سمجھ لینا کہ اس کا گرانا اللہ کو ناپسند نہیں پھر کل سب مل کر اپنے اپنے کام میں لگ جانا چنانچہ صبح ہوئی اور ہر طرح خیریت رہی اب سب آ گئے اور بیت اللہ کی اگلی عمارت کو گرا دیا
 
 یہاں تک کہ اصلی نیو یعنی بناء ابراہیمی تک پہنچ گئے یہاں سبز رنگ کے پتھر تھے کے ہلنے کے ساتھ ہی تمام مکہ کی زمین ہلنے لگی تو انہوں نے سمجھ لیا کہ انہیں جدا کر کے اور پتھر ان کی جگہ لگانا اللہ کو منظور نہیں اس لئے ہمارے بس کی بات نہیں اس ارادے سے باز رہے اور ان پتھروں کو اسی طرح رہنے دیا پھر ہر قبیلہ نے اپنے اپنے حصہ کے مطابق علیحدہ علیحدہ پتھر جمع کئے اور عمارت بننی شروع ہوئی
 
 یہاں تک کہ باقاعدہ جنگ کی نوبت آ گئی فرقے آپس میں کھچ گئے اور لڑائی کی تیاریاں میں مشغول ہو گئے بنو عبد دار اور بنو عدی نے ایک طشتری میں خون بھر کر اس میں ہاتھ ڈبو کر حلف اٹھایا کہ سب کٹ مریں گے لیکن حجر اسود کسی کو نہیں رکھنے دیں گے اسی طرح چار پانچ دن گزر گئے پھر قریش مسجد میں جمع ہوئے کہ آپس میں مشورہ اور انصاف کریں تو ابو امیہ بن مغیرہ نے جو قریش میں سب سے زیادہ معمر اور عقلمند تھے کہا سنو لوگو تم اپنا منصف کسی کو بنا لو وہ جو فیصلہ کرے سب منظور کر لو۔ لیکن پھر منصف بنانے میں بھی اختلف ہوگا اس لئے ایسا کرو کہ اب جو سب سے پہلے یہاں مسجد میں آئے وہی ہمارا منصف۔ اس رائے پر سب نے اتفاق کر لیا۔
 
 اب منتظر ہیں کہ دیکھیں سب سے پہلے کون آتا ہے؟
 
 پس سب سے پہلے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے۔ آپ کو دیکھتے ہی یہ لوگ خوش ہو گئے اور کہنے لگے ہمیں آپ کا فیصلہ منظور ہے ہم آپ کے حکم پر رضا مند ہیں۔ یہ تو امین ہیں یہ تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ پھر سب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ آپ کو کہہ سنایا آپ نے فرمایا جاؤ کوئی موٹی اور بڑی سی چادر لاؤ وہ لے آئے۔ آپ نے حجر اسود اٹھا کر اپنے دست مبارک سے اس میں رکھا پھر فرمایا ہر قبیلہ کا سردار آئے اور اس کپڑے کا کونہ پکڑ لے اور اس طرح ہر ایک حجر اسود کے اٹھانے کا حصہ دار بنے اس پر سب لوگ بہت ہی خوش ہوئے اور تمام سرداروں نے اسے تھام کر اٹھا لیا۔ جب اس کے رکھنے کی جگہ تک پہنچے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر اپنے ہاتھ سے اسی جگہ رکھ دیا اور وہ نزاع و اختلاف بلکہ جدال و قتال رفع ہو گیا اور اس طرح اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اپنے گھر میں اس مبارک پتھر کو نصب کرایا۔
 
 حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے سے پہلے قریش آپ کو امین کہا کرتے تھے۔ اب پھر اوپر کا حصہ بنا اور کعبۃ اللہ کی عمارت تمام ہوئی ابن اسحاق موررخ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کعبہ اٹھارہ ہاتھ کا تھا۔ قباطی کا پردہ چڑھایا جاتا تھا پھر چادر کا پردہ چڑھنے لگا۔ ریشمی پردہ سب سے پہلے حجاج بن یوسف نے چڑھایا۔ کعبہ کی یہی عمارت رہی یہاں تک کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت کی ابتدائی زمانہ میں ساٹھ سال کے بعد یہاں آگ لگی اور کعبہ جل گیا۔ یہ یزید بن معاویہ کی ولایت کا آخری زمانہ تھا اور اس نے ابن زبیر کا مکہ میں محاصرہ کر رکھا تھا۔
 
 ان دنوں میں خلیفہ مکہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی خالہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے جو حدیث سنی تھی اسی کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا پر بیت اللہ کو گرا کر ابراہیمی قواعد پر بنایا حطیم اندر شامل کر لیا، مشرق و مغرب دو دروازے رکھے ایک اندر آنے کا دوسرا باہر جانے کا اور دروازوں کو زمین کے برابر رکھا آپ کی امارت کے زمانہ تک کعبۃ اللہ یونہی رہا یہاں تک کہ ظالم حجاج کے ہاتھوں آپ شہید ہوئے۔ اب حجاج نے عبد الملک بن مروان کے حکم سے کعبہ کو پھر توڑ کر پہلے کی طرح بنا لیا۔
 
 صحیح مسلم شریف میں یزید بن معاویہ کے زمانہ میں جب کہ شامیوں نے مکہ شریف پر چڑھائی کی اور جو ہونا تھا وہ ہوا۔ اس وقت حضرت عبداللہ نے بیت اللہ کو یونہی چھوڑ دیا۔ موسم حج کے موقع پر لوگ جمع ہوئے انہوں نے یہ سب کچھ دیکھا بعد ازاں آپ نے لوگوں سے مشورہ لیا کہ کیا کعبۃ اللہ سارے کو گرا کر نئے سرے سے بنائیں یا جو ٹوٹا ہوا ہے اسکی اصلاح کر لیں؟
 
 تو حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا میری رائے یہ ہے کہ آب جو ٹوٹا ہوا ہے اسی کی مرمت کر دیں باقی سب پرانا ہے رہنے دیں۔ آپ نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کا گھر جل جاتا تو وہ تو خوش نہ ہوتا جب تک اسے نئے سرے سے نہ بناتا پھر تم اپنے رب عزوجل کے گھر کی نسبت اتنی کمزور رائے کیوں رکھتے ہو؟
 
 اچھا میں تین دن تک اپنے رب سے استخارہ کروں گا پھر جو سمجھ میں آئے گا وہ کروں گا۔ تین دن کے بعد آپ کی رائے یہی ہوئی کہ باقی ماندہ دیواریں بھی توڑی جائیں اور از سرے نو کعبہ کی تعمیر کی جائے چنانچہ یہ حکم دے دیا لیکن کعبے کو توڑنے کی کسی کی ہمت نہیں پڑتی تھی۔ ڈر تھا کہ جو پہلے توڑنے کے لیے چڑھے گا اس پر عذاب نازل ہو گا لیکن ایک باہمت شخص چڑھ گیا اور اس نے ایک پتھر توڑا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ اسے کچھ ایذاء نہیں پہنچی تو اب ڈھانا شروع کیا اور زمین تک برابر یکساں صاف کر دیا اس وقت چاروں طرف ستون کھڑے کر دئیے تھے اور ایک کپڑا تان دیا تھا۔ اب بناء بیت اللہ شروع ہوئی۔
 
 حضرت عبداللہ نے فرمایا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے سنا وہ کہتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اگر لوگوں کا کفر کا زمانہ قریب نہ ہوتا اور میرے پاس خرچ بھی ہوتا جس میں بنا سکوں تو حطیم میں سے پانچ ہاتھ بیت اللہ میں لے لیتا اور کعبہ کے دو دروازے کرتا ایک آنے کا اور ایک جانے کا حضرت عبداللہ نے یہ روایت بیان کر کے فرمایا اب لوگوں کے کفر کا زمانہ قریب کا نہیں رہا ان سے خوف جاتا رہا اور خزانہ بھی معمور ہے میرے پاس کافی روپیہ ہے پھر کوئی وجہ نہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا پوری نہ کروں
 
 چنانچہ پانچ ہاتھ حطیم اندر لے لی اور اب جو دیوار کھڑی کی تو ٹھیک ابراہیمی بنیاد نظر آنے لگی جو لوگوں نے اپنی آنکھوں دیکھ لی اور اسی پر دیوار کھڑی کی بیت اللہ کا طول اٹھارہ ہاتھ تھا اب جو اس میں پانچ ہاتھ اور بڑھ گیا تو چھوٹا ہو گیا اس لیے طول میں دس ہاتھ اور بڑھایا گیا اور دو دروازے بنائے گئے ایک اندر آنے کا دوسرا باہر جانے کا ابن زبیر کی شہادت کے بعد حجاج بن عبد الملک کو لکھا اور ان سے مشورہ لیا کہ اب کیا کیا جائے؟
 
 یہ بھی لکھ بھیجا کہ مکہ شریف کے عادلوں نے دیکھا ہے ٹھیک حضرت ابراہیم کی نیو پر کعبہ تیار ہوا ہے لیکن عبد الملک نے جواب دیا کہ طول کو تو باقی رہنے دو اور حطیم کو باہر کر دو اور دوسرا دروازہ بند کر دو۔ حجاج نے اس حکم کے مطابق کعبہ کو تڑوا کر پھر اسی بنا پر بنا دیا لیکن سنت طریقہ یہی تھا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر کی بناء کو باقی رکھا جاتا اس لئے کہ حضور علیہ السلام کی چاہت یہی تھی لیکن اس وقت آپ کو یہ خوف تھا کہ لوگ بد گمانی نہ کریں ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہیں لیکن یہ حدیث عبد الملک بن مروان کو نہیں پہنچی تھی اس لئے انہوں نے اسے تڑوا دیا جب انہیں حدیث پہنچی تو رنج کرتے تھے اور کہتے تھے کاش کہ ہم یونہی رہنے دیتے اور نہ تڑاتے
 
 چنانچہ صحیح مسلم شریف کی ایک اور حدیث میں ہے کہ حارث عبید اللہ جب ایک وفد میں عبد الملک بن مروان کے پاس پہنچے تو عبد الملک نے کہا میرا خیال ہے کہ ابو حبیب یعنی عبداللہ بن زبیر نے ( اپنی خالہ) حضرت عائشہ سے یہ حدیث سنی ہو گی حارث نے کہا ضرور سنی تھی خود میں نے بھی ام المومنین سے سنا ہے پوچھا تم نے کیا سنا ہے؟ کہا میں نے سنا ہے آپ فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا کہ عائشہ تیری قوم نے بیت اللہ کو تنگ کر دیا۔ اگر تیری قوم کا زمانہ شرک کے قریب نہ ہوتا تو میں نئے سرے سے ان کی کمی کو پورا کر دیتا لیکن آؤ میں تجھے اصلی نیو بتا دوں شاید کسی وقت تیری قوم پھر اسے اس کی اصلیت پر بنانا چاہے تو آپ نے حضرت صدیقہ کو حطیم میں سے قریباً سات ہاتھ اندر داخل کرنے کو فرمایا اور فرمایا میں اس کے دروازے بنا دیتا ایک آنے کے لیے اور دوسرا جانے کے لیے اور دونوں دروازے زمین کے برابر رکھتا ایک مشرق رخ رکھتا دوسرا مغرب رخ جانتی بھی ہو کہ تمہاری قوم نے دروازے کو اتنا اونچا کیوں رکھا ہے؟
 
 آپ نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے خبر نہیں فرمایا محض اپنی اونچائی اور بڑائی کے لیے کہ جسے چاہیں اندر جانے دیں اور جسے چاہیں داخل نہ ہونے دیں جب کوئی شخص اندر جانا چاہتا تو اسے اوپر سے دھکادے دیتے وہ گر پڑتا اور جسے داخل کرنا چاہتے اسے ہاتھ تھام کر اندر لے لیتے۔ عبد الملک نے کہا اسے حارث خود سنا ہے تو تھوڑی دیر تک تو عبد الملک اپنی لکڑی ٹکائے سوچتے رہے پھر کہنے لگے کاش کہ میں اسے یونہی چھوڑ دیتا
 
 صحیح مسلم شریف کی ایک اور حدیث میں ہے کہ عبد الملک بن مروان نے ایک مرتبہ طواف کرتے ہوئے حضرت عبداللہ کو کوس کر کہا کہ وہ حضرت عائشہ پر اس حدیث کا بہتان باندھنا تھا تو حضرت حارث نے روکا اور شہادت دی کہ وہ سچے تھے میں نے بھی حضرت صدیقہ سے یہ سنا ہے اب عبد الملک افسوس کرنے لگے اور کہنے لگے اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا تو میں ہرگز اسے نہ توڑتا۔
 
 قاضی عیاض اور امام نووی نے لکھا ہے خلیفہ ہارون رشید نے حضرت امام مالک سے پوچھا تھا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں پھر کعبہ کو حضرت ابن زبیر کے بنائے ہوئے کے مطابق بنا دوں، امام مالک نے فرمایا آپ ایسا نہ کیجئے ایسا نہ ہو کہ کعبہ بادشاہوں کا ایک کھلونا بن جائے جو آئے اپنی طبیعت کے مطابق توڑ پھوڑ کرتا رہے چنانچہ خلیفہ اپنے ارادے سے باز رہے یہی بات ٹھیک بھی معلوم ہوتی ہے کہ کعبہ کو بار بار چھیڑنا ٹھیک نہیں۔
 
 بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کعبہ کو دو چھوٹی پنڈلیوں والا ایک حبشی پھر خراب کرے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں وہ سیاہ فام ایک ایک پتھر الگ الگ کر دے گا اس کا غلاف لے جائے گا اور اس کا خزانہ بھی وہ ٹیڑھے ہاتھ پاؤں والا اور گنجا ہوگا میں دیکھ رہا ہوں کہ گویا وہ کدال بجا رہا ہے اور برابر ٹکڑے کر رہا ہے غالباً یہ ناشدنی واقعہ (جس کے دیکھنے سے ہمیں محفوظ رکھے) یاجوج ماجوج کے نکل چکنے کے بعد ہوگا۔
 
 صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم یاجوج ماجوج کے نکلنے کے بعد بھی بیت اللہ شریف کا حج و عمرہ کرو گے۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل اپنی دعا میں کہتے ہیں کہ ہمیں مسلمان بنالے یعنی مخلص بنا لے مطیع بنا لے موجود ہر شر سے بچا۔ ریا کاری سے محفوظ رکھ خشوع وخضوع عطا فرما۔
 
 
 حضرت سلام بن ابی مطیع فرماتے ہیں مسلمان تو تھے ہی لیکن اسلام کی ثابت قدمی طلب کرتے ہیں جس کے جواب میں ارشاد باری ہوا قد فعلت میں نے تمہاری یہ دعا قبول فرمائی پھر اپنی اولاد کے لیے بھی یہی دعا کرتے ہیں جو قبول ہوتی ہے بنی اسرائیل بھی آپ کی اولاد میں ہیں اور عرب بھی قرآن میں ہے آیت (ومن قوم موسیٰ امتہ یہدون بالحق وبہ یعدلون) یعنی موسیٰ کی قوم میں ایک جماعت حق عدل پر تھی لیکن روانی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب کے لیے یہ دعا گو عام طور پر دوسروں پر بھی مشتمل ہو اس لیے کہ اس کے بعد دوسری دعا میں ہے کہ ان میں ایک رسول بھیج اور اس رسول سے مراد حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں چنانچہ یہ دعا بھی پوری ہوئی جیسے فرمایا
 
 آیت (ھو الذی بعث فی الامیین رسولا منھم) لیکن اس سے آپ کی رسالت خاص نہیں ہوتی بلکہ آپ کی رسالت عام ہے عرب عجم سب کے لیے جیسے
 
 آیت (قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا) کہ دو کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ ان دونوں نبیوں کی یہ دعا جیسی ہے ایسی ہی ہر متقی کی دعا ہونی چاہئے۔ جیسے قرآنی تعلیم ہے
 
 کہ مسلمان یہ دعا کریں آیت (ربنا ھب لنا من ازواجنا و ذریتنا قرۃ اعین و اجعلنا للمتقین اماما) اے ہمارے رب ہمیں ہماری بیویوں اور اولادوں سے ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔
 
 یہ بھی اللہ تعالٰی کی محبت کی دلیل ہے انسان یہ چاہے کہ میری اولاد میرے بعد بھی اللہ کی عابد رہے۔
 
 اور جگہ اس دعا کے الفاظ یہ ہیں آیت (واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام) اے اللہ مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔
 
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں انسان کے مرتے ہی اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں
 
 مگر تین کام جاری رہتے ہیں صدقہ، علم جس سے نفع حاصل کیا جائے اور نیک اولاد جو دعا کرتی رہے (مسلم )
 
 پھر آپ دعا کرتے ہیں کہ ہمیں مناسک دکھا یعنی احکام و ذبح وغیرہ سکھا۔
 
 حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کو لے کر کعبہ کی عمارت پوری ہو جانے کے بعد صفا پر آتے ہیں پھر مروہ پر جاتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ شعائر اللہ ہیں پھر منی کی طرف لے چلے عقبہ پر شیطان درخت کے پاس کھڑا ہوا ملا تو فرمایا تکبیر پڑھ کر اسے کنکر مارو۔ ابلیس یہاں سے بھاگ کر جمرہ وسطی کے پاس جا کھڑا ہوا۔ یہاں بھی اسے کنکریاں ماریں تو یہ خبیث ناامید ہو کر چلا گیا۔ اس کا ارادہ تھا کہ حج کے احکام میں کچھ دخل دے لیکن موقع نہ ملا اور مایوس ہو گیا
 
 یہاں سے آپ کو مشعر الحرام میں لائے پھر عرفات میں پہنچایا پھر تین پوچھا کہو سمجھ لیا۔ آپ نے فرمایا ہاں دوسری روایت میں تین جگہ شیطان کو کنکریاں مارنی مروی ہیں اور یہ شیطان کو سات سات کنکریاں ماری ہیں۔
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s