مباہلہ اور یہودی مع نصاریٰ

قُلْ إِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْآخِرَةُ عِنْدَ اللَّهِ خَالِصَةً مِنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
﴿002:094﴾
 
 
‏ [جالندھری]‏ کہہ دو کہ اگر آخرت کا گھر اور لوگوں (یعنی مسلمانوں) کے لئے نہیں اور خدا کے نزدیک تمہارے ہی لئے مخصوص ہے اگر سچے ہو تو موت کی آرزو تو کرو
 
 ‏

Sahih International

Say, [O Muhammad], "If the home of the Hereafter with Allah is for you alone and not the [other] people, then wish for death, if you should be truthful.

 
 
 
وَلَنْ يَتَمَنَّوْهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ
﴿002:095﴾
 
 
‏ [جالندھری]‏ لیکن ان اعمال کی وجہ سے جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں یہ کبھی اس کی آرزو نہیں کریں گے۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے
 
 
Sahih International
But they will never wish for it, ever, because of what their hands have put forth. And Allah is Knowing of the wrongdoers.
 
 
وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا ۚ يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ ۗ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ
﴿002:096﴾
 
 
‏ [جالندھری]‏ بلکہ ان کو تم اور لوگوں سے زندگی کے کہیں حریص دیکھو گے یہاں تک کہ مشرکوں سے بھی ان میں سے ہر ایک یہی خواہش کرتا ہے؟ہ کاش وہ ہزار برس جیتا رہے مگر اتنی لمبی عمر اس کو مل بھی جائے تو اسے عذاب سے تو نہیں چھڑا سکتی اور جو کام یہ کرتے ہیں خدا ان کو دیکھ رہا ہے
 
 
Sahih International
And you will surely find them the most greedy of people for life – [even] more than those who associate others with Allah . One of them wishes that he could be granted life a thousand years, but it would not remove him in the least from the [coming] punishment that he should be granted life. And Allah is Seeing of what they do.
 
تفسیر ابن كثیر
 
مباہلہ اور یہودی مع نصاریٰ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ان یہودیوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زبانی پیغام دیا گیا کہ اگر تم سچے ہو تو مقابلہ میں آؤ
 
 ہم تم مل کر اللہ تعالٰی سے دعا کریں کہ وہ ہم میں سے جھوٹا ہے اسے ہلاک کر دے۔
 
 لیکن ساتھ ہی پیشنگوئی بھی کر دی کہ یہ لوگ ہرگز اس پر آمادہ نہیں ہوں گے چنانچہ یہی ہوا
 
 کہ یہ لوگ مقابلہ پر نہ آئے اس لئے کہ وہ دل سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آسمانی کتاب قرآن کریم کو سچا جانتے تھے
 
 اگر یہ لوگ اس اعلان کے ماتحت مقابلہ میں نکلتے تو سب کے سب ہلاک ہو جاتے۔ روئے زمین پر ایک یہودی بھی باقی نہ رہتا۔
 
 ایک مرفوع حدیث میں بھی آیا ہے کہ اگر یہودی مقابلہ پر آتے اور جھوٹے کے لئے موت طلب کرتے تو سب کے سب مر جاتے
 
 اور اپنی جگہ جہنم میں دیکھ لیتے اسی طرح جو نصرانی آپ کے پاس آئے تھے وہ بھی اگر مباہلہ کے لئے تیار ہوتے تو وہ لوٹ کر اپنے اہل و عیال اور مال و دولت کا نام و نشان بھی نہ پاتے (مسند احمد)
 
 سورۃ جمعہ میں بھی اسی طرح کی دعوت انہیں دی گئی ہے آیت (قل یا ایھا الذین ھادوا) آخر تک پڑھئے ان کا دعویٰ تھا
 
 کہ آیت (نحن ابناء اللہ واحباءہ) ہم تو اللہ کی اولاد اور اس کے پیارے ہیں یہ کہا کرتے تھے
 
 آیت (لن یدخل الجنتہ الا من کان ھودا او نصاری) جنت میں صرف یہودی اور نصاریٰ ہی جائیں گے
 
 اس لئے انہیں کہا گیا کہ آؤ اس کا فیصلہ اس طرح کر لیں کہ دونوں فریق میدان میں نکل کر اللہ سے دعا کریں
 
 کہ اسے جھوٹے کو ہلاک کر لیکن چونکہ اس جماعت کو اپنے جھوٹ کا علم تھا اس لئے تیار نہ ہوئی اور اس کا کذب سب پر کھل گیا
 
 اسی طرح جب نجران کے نصرانی حضور کے پاس آئے بحث مباحثہ ہو چکا تو ان سے بھی یہی کہا گیا
 
 کہ آیت (تعالوا ندع ابناءنا وابنائکم) آؤ ہم تم دونوں اپنی اپنی اولادوں بیویوں کو لے کر نکلیں اور اللہ تعالٰی سے دعا کریں کہ وہ جھوٹوں پر اپنی لعنت نازل فرمائے
 
 لیکن وہ آپس میں کہنے لگے کہ ہرگز اس نبی سے مباہلہ نہ کرو فوراً برباد ہو جاؤ گے
 
 چنانچہ مباہلہ سے انکار کر دیا جھک کر صلح کر لی اور دب کر جزیہ دینا منظور کر لیا
 
 آپ نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ان کے ساتھ امین بنا کر بھیج دیا اسی طرح مشرکین عرب سے بھی کہا گیا
 
 آیت (قل من کان فی الضلالتہ فلیمدلہ الرحمٰن مدا) یعنی ہم میں سے جو گمراہ ہو اللہ تعالٰی اس کی گمراہی بڑھا دے
 
 اس کی پوری تفسیر اس آیت کے ساتھ بیان ہو گی انشاء اللہ تعالٰی
 
 مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں ایک مرجوع قول یہ بھی ہے کہ تم خود اپنے جانوں کے لئے موت طلب کرو کیونکہ بقول تمہارے آخرت کی بھلائیاں صرف تمہارے لئے ہی ہیں انہوں نے اس سے انکار کیا لیکن یہ قول کچھ دل کو نہیں لگتا۔ اس لئے کہ بہت سے اچھے اور نیک آدمی بھی زندگی چاہتے ہیں
 
 بلکہ حدیث میں ہے کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جس کی لمبی عمر ہوئی ہو اور اعمال اچھے ہوں
 
 علاوہ ازیں یہی قول یہودی بھی کہہ سکتے تھے تو بات فیصلہ کن نہ ہوتی ٹھیک تفسیر وہی ہے جو پہلے بیان ہوئی کہ دونوں فریق مل کر جھوٹ کی ہلاکت اور اس کی موت کی دعا کریں اور اس اعلان کے سنتے ہی یہود تو ٹھنڈے پڑ گئے اور تمام لوگوں پر ان کا جھوٹ کھل گیا
 
 اور وہ پیشنگوئی بھی سچی ثابت ہوئی کہ یہ لوگ ہرگز موت طلب نہیں کریں گے اس مباہلہ کا نام اصطلاح میں تمنی رکھا گیا
 
 کیونکہ ہر فریق باطل پرست کی موت کی آرزو کرتا ہے۔
 
 پھر فرمایا کہ یہ تو مشرکین سے بھی زیادہ طویل عمر کے خواہاں ہیں کیونکہ کفار کے لئے دنیا جنت ہے اور ان کی تمنا اور کوشش ہے کہ یہاں زیادہ رہیں
 
 خواجہ حسن بصری فرماتے ہیں منافق کو حیات دنیوی کی حرص کافر سے بھی زیادہ ہوتی ہے
 
 یہ یہودی تو ایک ایک ہزار سال کی عمریں چاہتے ہیں
 
حالانکہ اتنی لمبی عمر بھی انہیں ان عذابوں سے نجات نہیں دے سکتی
 
 چونکہ کفار کو تو آخرت پر یقین ہی نہیں ہوتا مگر انہیں یقین تو تھا لیکن ان کی اپنی سیاہ کاریاں بھی ان کے سامنے تھے
 
 اس لئے موت سے بہت زیادہ ڈتے تھے
 
 لیکن ابلیس کے برابر بھی عمر پالی تو کیا ہوا عذاب سے تو نہیں بچ سکتے
 
 اللہ تعالٰی ان کے اعمال سے بےخبر نہیں تمام بندوں کے تمام بھلے برے اعمال کو وہ بخوبی جانتا ہے اور ویسا ہی بدلہ دے گا۔
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s