چالیس دن کا وعدہ

وَإِذْ وَاعَدْنَا مُوسَى أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَنْتُمْ ظَالِمُونَ

﴿002:051﴾‏

 [جالندھری]‏ اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ کیا تو تم نے ان کے پیچھے بچھڑے کو (معبود) مقرر کرلیا اور تم ظلم کر رہے تھے

 

Sahih International
And [recall] when We made an appointment with Moses for forty nights. Then you took [for worship] the calf after him, while you were wrongdoers

.

ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

﴿002:052﴾‏

[جالندھری]‏ پھر اس کے بعد ہم نے تم کو معاف کردیا تاکہ تم شکر کرو‏

Sahih International
Then We forgave you after that so perhaps you would be grateful

.

وَإِذْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَالْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

﴿002:053﴾

[جالندھری]‏ اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کیے تاکہ تم ہدایت حاصل کرو

Sahih International
And [recall] when We gave Moses the Scripture and criterion that perhaps you would be guided

.‏
تفسیر ابن كثیر

چالیس دن کا وعدہ
یہاں بھی اللہ برترو اعلیٰ اپنے احسانات یاد دلا رہا ہے

 جب کہ تمہارے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام چالیس دن کے وعدے پر تمہارے پاس سے گئے اور اس کے بعد تم نے گوسالہ پرستی شروع کر دی پھر ان کے آنے پر جب تم نے اس شرک سے توبہ کی تو ہم نے تمہارے اتنے بڑے کفر کو بخش دیا

 اور قرآن میں ہے آیت (واذ واعدنا موسیٰ ثاثین لیلۃ واتممنا ھا بعشر) یعنی ہم نے حضرت موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا

اور دس بڑھا کر پوری چالیس راتوں کا کیا کہا جاتا ہے کہ یہ وعدے کا زمانہ ذوالقعدہ کا پورا مہینہ اور دس دن ذوالحجہ کے تھے

 یہ واقعہ فرعونیوں سے نجات پا کر دریا سے بچ کر نکل جانے کے بعد پیش آیا تھا۔

 کتاب سے مراد توراۃ ہے اور فرقان ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو حق و باطل ہدایت و ضلالت میں فرق کرے

 یہ کتاب بھی اس واقعہ کے بعد ملی جیسے کہ سورۃ اعراف اس کے اس واقعہ کے طرز بیان سے ظاہر ہوتا ہے

 دوسری جگہ آیت (بعدما اھلکنا القرون الاولی) بھی آیا ہے

 یعنی ہم نے اگلے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وہ کتاب دی جو سب لوگوں کے لئے بصیرت افزا اور ہدایت و رحمت ہے

 تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

 یہ بھی کہا گیا ہے کہ واؤ زائد ہے اور خود کتاب کو فرقان کہا گیا ہے لیکن یہ غریب ہے

 بعض نے کہا ہے کتاب پر "فرقان” کا عطف ہے یعنی کتاب بھی دی اور معجزہ بھی دیا۔

 دراصل معنی کے اعتبار سے دونوں کا مفاد ایک ہی ہے اور ایسی ایک چیز دو ناموں سے بطور عطف کے کلام عرب میں آیا کرتی ہے شعراء عرب کے بہت سے اشعار اس کے شاہد ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s