انعام یافتہ کون؟

صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ
﴿001:007﴾‏
[جالندھری]‏ ان لوگوں کے راستے جن پر تو اپنا فضل وکرم کرتا رہا نہ ان کے جن پر غصے ہوتا رہا، اور نہ گمراہوں کے

Sahih International
The path of those upon whom You have bestowed favor, not of those who have evoked [Your] anger or of those who are astray.

تفسیر ابن كثیر

انعام یافتہ کون؟

اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے کہ بندے کے اس قول پر اللہ کریم فرماتا ہے یہ میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کے لئے ہے جو کچھ وہ مانگے یہ آیت صراط مستقیم کی تفسیر ہے اور نحویوں کے نزدیک یہ اس سے بدل ہے اور عطف بیان بھی ہو سکتی ہے واللہ اعظم۔ اور جن پر اللہ کا انعام ہوا ان کا بیان سورۃ نساء میں آچکا ہے فرمان ہے آیت (ومن یطع اللہ والرسول فاؤلئک مع الذین انعم اللہ علیھم) الخ یعنی اللہ اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کہے پر عمل کرنے والے ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ کا انعام ہے جو نبی، صدیق، شہید، صالح لوگ ہیں، یہ بہترین ساتھی اور اچھے رفیق ہیں۔ یہ فضل ربانی ہے اور اللہ جاننے والا کافی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ تو مجھے ان فرشتوں، نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کی راہ پر چلا جن پر تو نے اپنی اطاعت و عبادت کی وجہ سے انعام نازل فرمایا۔ یہ آیت ٹھیک آیت (ومن یطع اللہ) کی طرح ہے۔ ربیع بن انس کہتے ہیں اس سے مراد انبیاء ہیں۔ ابن عباس اور مجاہد فرماتے ہیں مومن ہیں۔

 وکیع کہتے ہیں مسلمان۔ عبدالرحمن فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ مراد ہیں۔ ابن عباس کا قول زیادہ معقول اور قابل تسلیم ہے واللہ اعلم۔ جمہور کی قرأت میں غیرے کے زیر کے ساتھ ہے اور صفت ہے۔ زمحشری کہتے ہیں رے کی زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور حال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمر بن خطاب کی قرأت یہی ہے اور ابن کثیر سے بھی یہی روایت کی گئی ہے۔ علیھم میں جو ضمیر ہے وہ اس کا ذوالحال ہے اور انعمت عامل ہے۔ معنی یہ ہوئے کہ اللہ جل شانہ تو ہمیں سیدھا راستہ دکھا ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔ جو ہدایت اور استقامت والے تھے اور اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اطاعت گزار، اس کے حکموں پر عمل کرنے والے، اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے رک رہنے والے تھے۔

 
مغضوب کون؟

 
ان کی راہ سے بچا، جن پر غضب و غصہ کیا گیا، جن کے ارادے فاسد ہو گئے، حق کو جان کر پھر اس سے ہٹ کر اور گم گشتہ راہ لوگوں کے طریقے سے بھی ہمیں بچا لے جو سرے سے علم نہیں رکھتے مارے مارے پھرتے ہیں راہ سے بھٹکے ہوئے حیران و سرگرداں ہیں اور راہ حق کی طرف رہنمائی نہیں کئے جانے کو دوبارہ لا کر کلام کی تاکید کرنا اس لئے ہے کہ معلوم ہو جائے کہ یہاں دو غلط راستے ہیں، ایک یہود کا دوسرا نصاریٰ کا۔ بعض نحوی کہتے ہیں کہ غیر کا لفظ یہاں پر استثناء کے لئے ہے تو استثناء منقطع ہو سکتا ہے کیونکہ جن پر انعام کیا گیا ہے ان میں سے استثناء ہونا تو درست ہے۔ مگر یہ لوگ انعام والوں میں داخل ہی نہ تھے لیکن ہم نے جو تفسیر کی ہے یہ بہت اچھی ہے۔ عرب شاعروں کے شعر میں ایسا پایا جاتا ہے کہ وہ موصوف کو حذف کر دیتے ہیں اور صرف صفت بیان کر دیا کرتے ہیں۔ اسی طرح اس آیت میں بھی صفت کا بیان ہے اور موصوف محذوف ہے۔ غیر المغضوب سے مراد غیر صراط المغضوب ہے۔ مضاف الیہ کے ذکر سے کفایت کی گئی اور مضاف بیان نہ کیا گیا اس لئے کہ نشست الفاظ ہی اس پر دلالت کر رہی ہے۔ پہلے دو مرتبہ یہ لفظ آچکا ہے۔ بعض کہتے ہیں آیت (ولا الضالین) میں لا زائد ہے اور ان کے نزدیک تقدیر کلام اس طرح ہے آیت (غیر المغضوب علیھم والضالحین) اور اس کی شہادت عرب شاعروں کے شعر سے بھی ملتی ہے لیکن صحیح بات وہی ہے جو ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے آیت (غیر المغضوب علیھم وغیر الضالین) پڑھنا صحیح سند سے مروی ہے اور اسی طرح حضرت ابی بن کعب سے بھی روایت ہے اور یہ محمول ہے اس پر کہ ان بزرگوں سے یہ بطور تفسیر صادر ہوا۔ تو ہمارے قول کی تائید ہوئی کہ لا نفی کی تاکید کے لئے ہی لایا گیا ہے تاکہ یہ وہی نہ ہو کہ یہ انعمت علیھم پر عطف ہے اور اس لئے بھی کہ دونوں راہوں کا فرق معلوم ہو جائے تاکہ ہر شخص ان دونوں سے بھی بچتا رہے۔ اہل ایمان کا طریقہ تو یہ ہے کہ حق کا علم بھی ہو اور حق پر عمل بھی ہو۔

 یہودیوں کے ہاں علم نہیں اور نصاریٰ کے ہاں علم نہیں اسی لئے یہودیوں پر غضب ہوا اور نصرانیوں کو گمراہی ملی۔ اس لئے کہ علم کے باوجود عمل کو چھوڑنا غضب کا سبب ہے اور نصرانی گو ایک چیز کا قصد کرنے کے باوجود صحیح راستہ کو نہیں پا سکتے اس لئے کہ ان کا طریقہ کار غلط ہے اور اتباع حق سے ہٹے ہوئے ہیں یوں تو غضب اور گمراہی ان دونوں جماعتوں کے حصہ میں ہے لیکن یہودی غضب کے حصہ میں پیش پیش ہیں۔ جیسے کہ اور جگہ قرآن کریم میں ہے آیت (من لعنہ اللہ وغضب علیہ) اور نصرانی ضلالت میں بڑھے ہوئے ہیں۔ فرمان الٰہی ہے۔ آیت (قدضلوا من قبل واضلوا کثیرا وضلوا عن سواء السببیل) یعنی یہ پہلے ہی سے گمراہ ہیں اور بہتوں کو گمراہ کر بھی چکے ہیں اور سیدھی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کی تائید میں بہت سی حدیثیں اور روایتیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ مسند احمد میں ہے۔ حضرت عدی بن حاتم فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر نے میری پھوپھی اور چند لوگوں کو گرفتار کر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو میری پھوپھی نے کہا میری خبر گیری کرنے والا غائب ہے اور میں عمر رسیدہ بڑھیا ہوں جو کسی خدمت کے لائق نہیں آپ مجھ پر احسان کیجئے اور مجھے رہائی دیجئے۔ اللہ تعالٰی آپ پر بھی احسان کرے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ تیری خیر خبر لینے والا کون ہے اس نے کہا عدی بن حاتم آپ نے فرمایا وہی جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھاگتا پھرتا ہے؟ پھر آپ نے اسے آزاد کر دیا۔ جب لوٹ کر آپ آئے تو آپ کے ساتھ ایک شخص تھے اور غالباً وہ حضرت علی تھے آپ نے فرمایا لو ان سے سواری مانگ لو۔ میری پھوپھی نے ان سے درخواست کی جو منظور ہوئی اور سواری مل گئی۔ وہ یہاں سے آزاد ہو کر میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت نے تیرے باپ حاتم کی سخاوت کو بھی ماند کر دیا۔ آپ کے پاس جو آتا ہے وہ خالی ہاتھ واپس نہیں جاتا۔ یہ سن کر میں بھی حضور کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ چھوٹے بچے اور بڑھیا عورتیں بھی آپ کی خدمت میں آتی جاتی ہیں اور آپ ان سے بھی بےتکلفی کے ساتھ بولتے ہیں۔ اس بات نے مجھے یقین دلایا دیا کہ آپ قیصرو کسریٰ کی طرح بادشاہت اور وجاہت کے طلب کرنے والے نہیں۔

آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا عدی آیت (لا الہ الا اللہ) کہنے سے کیوں بھاگتے ہو؟ کیا اللہ کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق ہے؟ آیت (اللہ اکبر) کہنے سے کیوں منہ موڑتے ہو؟ کیا اللہ عزوجل سے بھی بڑا کوئی ہے؟ مجھ پر ان کلمات نے آپ کی سادگی اور بےتکلفی کا ایسا اثر کیا کہ میں فوراً کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔ جس سے آپ بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے آیت (مغضوب علیھم) سے مراد یہود ہیں اور آیت (الضالین) سے مراد نصاریٰ ہیں۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت عدی کے سوال پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تفسیر ارشاد فرمائی تھی۔ اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں اور مختلف الفاظ سے مروی ہے۔ بنوقین کے ایک شخص نے وادی القریٰ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا آپ نے جواب میں یہی فرمایا۔ بعض روایتوں میں ان کا نام عبداللہ ابن عمرو ہے واللہ اعلم۔ ابن مردویہ میں ابوذر سے بھی یہی روایت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس حضرت ابن مسعود اور بہت سے صحابیوں سے بھی یہ تفسیر منقول ہے۔ ربیع بن انس، عبدالرحمن بن زید بن اسلم وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں بلکہ ابن ابی حاتم تو فرماتے ہیں مفسرین میں اس بارے میں کوئی اختلاف ہی نہیں۔

 ان ائمہ کی اس تفسیر کی دلیل ایک تو وہ حدیث ہے جو پہلے گزری۔ دوسری سورۃ بقرہ کی یہ آیت جس میں بنی اسرائیل کو خطاب کر کے کہا گیا ہے آیت (بئس ما اشتروابہ) الخ اس آیت میں کہ اس پر غضب پر غضب نازل ہوا۔ اور سورۃ مائدہ کی آیت (قل ھل انبئکم بشر) الخ میں بھی ہے کہ ان پر غضب الٰہی نازل ہوا اور جگہ فرمان الٰہی ہے آیت (لعن الذین کفروا) یعنی بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان پر لعنت کی گئی۔ دواؤد علیہ السلام اور عیسیٰ بن مریم علیھما السلام کی زبانی یہ ان کی نافرمانی اور حد سے گزر جانے کی وجہ سے ہے۔ یہ لوگ کسی برائی کے کام سے آپس میں روک ٹوک نہیں کرتے تھے یقیناً ان کے کام بہت برے تھے اور تاریخ کی کتابوں میں ہے کہ زید بن عمرو بن نفیل جبکہ دین خالص کی تلاش میں اپنے ساتھیوں سمیت نکلے اور ملک شام میں آئے تو ان سے یہودیوں نے کہا کہ آپ ہمارے دین میں تب تک داخل نہیں ہو سکتے جب تک غضب الٰہی کا ایک حصہ نہ پا لو۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس سے بچنے کے لئے تو دین حق کی تلاش میں نکلے ہیں پھر اسے کیسے قبول کر لیں؟ پھر نصرانیوں سے ملے انہوں نے کہا جب تک اللہ تعالٰی کی ناراضگی کا مزا نہ چکھ لو تب تک آپ ہمارے دین میں نہیں آ سکتے۔ انہوں نے کہا ہم یہ بھی نہیں کر سکتے چنانچہ وہ اپنی فطرت پر ہی رہے۔ بتوں کی عبادت اور قوم کا دین چھوڑ دیا لیکن یہودیت یا نصرانیت اختیار نہ کی۔ البتہ زید کے ساتھیوں نے عیسائی مذہب قبول کر لیا۔ اس لئے کہ یہودیوں کے مذہب سے یہ ملتا جلتا تھا۔ انہی میں حضرت ورقہ بن نوفل تھے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زمانہ ملا اور ہدایت الٰہی نے ان کی رہبری کی اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور جو وحی اس وقت تک اتری تھی اس کی تصدیق کی رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

 
مسئلہ٭٭
ضاد اور ظے کی قرأت میں بہت باریک فرق ہے اور ہر ایک کے بس کا نہیں۔ اس لئے علمائے کرام کا صحیح مذہب یہ ہے کہ یہ فرق معاف ہے، ضاد کا صحیح مخرج تو یہ ہے کہ زبان کا اول کنارہ اور اس کے پاس کی داڑھیں اور ظے کا مخرج زبان کا ایک طرف اور سامنے والے اوپر کے دو دانت کے کنارے۔ دوسرے یہ کہ یہ دونوں حرف مجہورہ اور رخوہ اور مطبقہ ہیں پس اس شخص کو جسے ان دونوں میں تمیز کرنی مشکل معلوم ہو، اسے معاف ہے کہ ضاد کو ظے کی طرح پڑھ لے۔ ایک حدیث میں ہے کہ میں ضاد کو سب سے زیادہ صحیح پڑھنے والا ہوں لیکن یہ حدیث بالکل بے اصل اور لاپتہ ہے۔

 
الحمد کا تعارف و مفہوم٭٭
یہ مبارک سورت نہایت کار آمد مضامین کا مجموعہ ہے ان سات آیتوں میں اللہ تعالٰی کی حمد، اس کی بزرگی، اس کی ثنا و صفت اور اس کے پاکیزہ ناموں اور اس کی بلند و بالا صفتوں کا بیان ہے ساتھ ہی قیامت کے دن کا ذکر ہے اور بندوں کو ارشاد ہے کہ وہ اس مالک سے سوال کریں اس کی طرف تضرع و زاری کریں اپنی مسکینی اور بےکسی اور بےبسی کا اقرار کریں اور اس کی عبادت خلوص کے ساتھ کریں اور اس کی توحید الوہیت کا اقرار کریں۔ تاکہ یہی ہدایت انہیں قیامت والے دن پل صراط سے بھی پار اتارے اور نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحوں کے پڑوس میں جنت الفردوس میں جگہ دلائے۔ ساتھ ہی اس سورت میں نیک اعمال کی ترغیب ہے تاکہ قیامت کے دن نیکوں کا ساتھ ملے اور باطل راہوں پر چلنے سے ڈراوا پیدا ہو تاکہ قیامت کے دن بھی یہ باطل پرست یہودو نصاریٰ کی جماعت سے دور ہی رہیں۔ اس باریک نکتہ پر بھی غور کیجئے کہ انعام کی اسناد تو اللہ تعالٰی کی طرف کی گئی اور انعمت کہا گیا لیکن غضب کی اسناد اللہ کی طرف نہیں کی گئی یہاں فاعل حذف کر دیا اور آیت (مغضوب علیھم کہا گیا اس میں پروردگار عالم کی جناب میں ادب کیا گیا ہے۔ دراصل حقیقی فاعل اللہ تعالٰی ہی ہے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (غضب اللہ علیھم) اور اسی طرح ضلالت کی اسناد بھی ان کی طرف کی کئی جو گمراہ ہیں حالانکہ اور جگہ ہے آیت (من یہد اللہ فھوالمھتد ومن یضلل) الخ یعنی اللہ جسے راہ دکھائے وہ راہ یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا رہنما کوئی نہیں۔ اور جگہ فرمایا آیت (من یضلل اللہ فلا ھادی لہ) الخ یعنی جسے اللہ گمراہ کر دے اس کا ہادی کوئی نہیں وہ تو اپنی سرکشی میں بہکے رہتے ہیں۔ اسی طرح کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ راہ دکھانے والا گمراہ کرنے والا صرف سبحانہ وتعالیٰ ہی ہے قدریہ فرقہ جو ادھر ادھر کی متشابہ آیتوں کو دلیل بنا کر کہتا ہے کہ بندے خود مختار ہیں وہ خود پسند کرتے ہیں وہی کرتے ہیں۔ یہ غلط ہے صریح اور صاف صاف آیتیں ان کے رد میں موجود ہیں لیکن باطل پرست فرقوں کا یہی قاعدہ ہے کہ صراحت کو چھوڑ کر متشابہ کے پیچھے لگا کرتے ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے کہ جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیتوں کے پیچھے لگتے ہیں تو سمجھ لو کہ انہی لوگوں کا اللہ تعالٰی نے نام لیا ہے تم ان کو چھوڑ دو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ اس فرمان میں اس آیت شریف کی طرف ہے۔ آیت (فاما الذین فی قلوبھم زیغ) یعنی جن لوگوں کے دل میں کجی ہے وہ متشابہ ہے کے پیچھے لگتے ہیں فتنوں اور تاویل کو ڈھونڈنے کے لئے آیت (الحمد للہ) بدعتیوں کے لئے قرآن پاک میں صحیح دلیل کوئی نہیں۔ قرآن کریم تو حق و باطل ہدایت و ضلالت میں فرق کرنے کے لئے آیا ہے اس میں تناقض اور اختلاف نہیں۔ یہ تو اللہ حکیم و حمید کا نازل کردہ ہے

۔
آمین اور سورۃ فاتحہ٭٭
سورۃ فاتحہ کو ختم کر کے آمین کہنا مستحب ہے۔ آمین مثل یاسین کے ہے اور آمین بھی کہا گیا ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ اے اللہ تو قبول فرما۔ آمین کہنے کے مستحب ہونے کی دلیل وہ حدیث ہے جو مسند احمد، ابو داؤد اور ترمذی میں وائل بن حجر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آیت (غیرالمغضوب علیھم ولا الضالین) کہہ کر آمین کہتے تھے اور آواز دراز کرتے تھے۔ ابو داؤد میں ہے آواز بلند کرتے تھے۔ امام ترمذی اس حدیث کو حسن کہتے ہیں۔ حضرت علی حضرت ابن مسعود حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمین پہلی صف والے لوگ جو آپ کے قریب ہوتے سن لیتے۔ ابو داؤد اور ابن ماجہ میں یہ حدیث ہے۔ ابن ماجہ میں یہ بھی ہے کہ آمین کی آواز سے مسجد گونج اٹھتی تھی۔ دارقطنی میں بھی یہ حدیث ہے اور دارقطنی بتاتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے۔ مجھ سے پہلے آمین نہ کہا کیجئے (ابو داؤد) حسن بصریٰ اور جعفر صادق سے آمین کہنا مروی ہے۔ جیسے کہ آیت (امین البیت الحرام) قرآن میں ہے۔ ہمارے اصحاب وغیرہ کہتے ہیں جو نماز میں نہ ہو اسے بھی آمین کہنا چاہئے۔ ہاں جو نماز میں ہو اس پر تاکید زیادہ ہے۔ نمازی خود اکیلا ہو، خواہ مقتدی ہو، خواہ امام ہو، ہر حالت میں آمین کہے۔

صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علہی وسلم نے فرمایا جب امام آمین کہے تم بھی آمین کہو جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے اس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ مسلم شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں آمین کہتا ہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہتے ہیں اور ایک کی آمین دوسرے کی آمین سے مل جاتی ہے تو اس کے تمام پہلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی آمین کا اور فرشتوں کی آمین کا وقت ایک ہی ہو جائے یا موافقت سے مراد قبولیت میں موافق ہونا ہے یا اخلاص میں۔

 صحیح مسلم میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ جب امام ولا الضالین کہے تو آمین کہو اللہ قبول فرمائے گا۔ ابن عباس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا آمین کے کیا معنی ہیں۔ آپ نے فرمایا اے اللہ تو کر۔ جوہری کہتے ہیں اس کے معنی "اسی طرح ہو” ہیں۔ ترمذی کہتے ہیں اس کے معنی ہیں کہ ہماری امیدوں کو نہ توڑ۔

 اکثر علماء فرماتے ہیں اس کے معنی "اے اللہ تو ہماری دعا قبول فرما” کے ہیں۔ مجاہد، جعفر صادق ہلال بن سیاف فرماتے ہیں کہ آمین اللہ تعالٰی کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ ابن عباس سے مرفوعاً بھی یہ مروی ہے لیکن صحیح نہیں۔ امام مالک کے اصحاب کا مذہب ہے کہ امام آمین نہ کہے مقتدی آمین کہے کیونکہ موطا مالک کی حدیث میں ہے کہ جب امام ولا الضالین کہے تو تم آمین کہو۔ اسی طرح ان کی دلیل کی تائید میں صحیح مسلم والی ابو موسیٰ اشعری کی یہ روایت بھی آتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام ولا الضالین کہے تو تم آمین کہو۔ لیکن بخاری مسلم کی حدیث پہلے بیان ہو چکی کہ جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔ اور یہ بھی حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ کر آمین کہتے تھے۔

 
"آمین” باآواز بلند٭٭
جہری نمازوں میں مقتدی اونچی آواز سے آمین کہے یا نہ کہے، اس میں ہمارے ساتھیوں کا اختلاف ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر امام آمین کہنی بھول گیا ہو تو مقتدی باآواز بلند آمین کہیں۔ اگر امام نے خود اونچی آواز سے آمین کہی ہو تو نیا قول یہ ہے کہ مقتدی باآواز بلند نہ کہیں۔ امام ابو حنیفہ کا یہی مذہب ہے۔ اور ایک روایت میں امام مالک سے بھی مروی ہے اس لئے کہ نماز کے اور اذکار کی طرح یہ بھی ایک ذکر ہے تو نہ وہ صرف بلند آواز سے پڑھے جاتے ہیں نہ یہ بلند آواز سے پڑھا جائے۔

لیکن پہلا قول یہ ہے کہ آمین بلند آواز سے کہی جائے۔ حضرت امام احمد بن حنبل کا بھی یہی مذہب ہے اور حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا بھی

 دوسری روایت کے اعتبار سے یہی مذہب ہے اور اس کی دلیل وہی حدیث ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ آمین کی آواز سے مسجد گونج اٹھتی تھی۔ ہمارے یہاں پر

 ایک تیسرا قول بھی ہے کہ اگر مسجد چھوٹی ہو تو مقتدی باآواز بلند آمین نہ کہیں اس لئے کہ وہ امام کی قرأت سنتے ہیں اور اگر بڑی ہو تو اونچی آواز سے آمین کہیں تاکہ مسجد کے کونے کونے میں آمین پہنچ جائے واللہ اعلم۔

 صحیح مسئلہ یہ ہے کہ جن نمازوں میں اونچی آواز سے قرأت پڑھی جاتی ہے ان میں اونچی آواز سے آمین کہنی چاہئے۔ خواہ مقتدی ہو خواہ امام ہو، خواہ منفرد، مترجم، مسند احمد میں صرف عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہودیوں کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ہماری تین چیزوں پر یہودیوں کو اتنا بڑا حسد ہے کہ کسی اور چیز پر نہیں۔

 ایک تو جمعہ کو اللہ نے ہمیں اس کی ہدایت کی اور یہ بہک گئے

 دوسرے قبلہ،

 تیسرے ہمارا امام کے پیچھے آمین کہنا۔

ابن ماجہ کی حدیث میں یوں ہے کہ یہودیوں کو سلام پر اور آمین پر جتنی چڑ ہے اتنی کسی اور چیز پر نہیں۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت میں ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ تمہارا جس قدر حسد یہودی آمین پر کرتے ہیں اس قدر حسد اور امر پر نہیں کرتے تم بھی آمین بکثرت کہا کرو۔

اس کی اسناد میں طلحہ بن عمرو راوی ضعیف ہیں۔ ابن مردویہ میں بروایت حضرت ابوہریرہ مروی ہے کہ آپ نے فرمایا آمین اللہ تعالٰی کی مہر ہے اپنے مومن بندوں پر۔ حضرت انس والی حدیث میں ہے کہ نماز میں آمین کہنی اور دعا پر آمین کہنی اللہ تعالٰی کی طرف سے مجھے عطا کی گئی ہے جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی۔ ہاں اتنا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی ایک خاص دعا پر حضرت ہارون علیہ السلام آمین کہتے تھے۔ تم اپنی دعاؤں کو آمین پر ختم کیا کرو۔ اللہ تعالٰی انہیں تمہارے حق میں قبول فرمایا کرے گا۔

 اس حدیث کو پیش نظر رکھ کر قرآن کریم کے ان الفاظ کو دیکھئے جن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا آیت (ربنا انک اتیت فرعون) الخ ہے یعنی الٰہی تو نے فرعون اور فرعونیوں کو دنیا کی زینت اور مال دنیا زندگانی میں عطا فرمایا ہے جس سے وہ تیری راہ سے دوسروں کو بہکا رہے ہیں۔ اللہ ان کے مال برباد کر اور ان کے دل سخت کر، جب تک درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں یہ ایمان نہ لائیں۔

 حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس دعا کی قبولت کا اعلان ان الفاظ میں ہوتا ہے آیت (قداجیبت دعوتکما) الخ یعنی تم دونوں کی دعا قبول کی گئی۔ تم مضبوط رہو اور بےعلموں کی راہ نہ جاؤ۔ دعا صرف حضرت موسیٰ کرتے تھے اور حضرت ہارون صرف آمین کہتے تھے لیکن قرآن نے دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی۔ اس سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ جو شخص کسی دعا پر آمین کہے وہ گویا خود وہ دعا کر رہا ہے۔

 اب اس استدلال کو سامنے رکھ کر وہ قیاس کرتے ہیں کہ مقتدی قرأت نہ کرے، اس لئے کہ اس کا سورۃ فاتحہ کے بعد آمین کہنا پڑھنے کے قائم مقام ہے اور اس حدیث کو بھی دلیل میں لاتے ہیں کہ جس کا امام ہو تو اس کے امام کی قرأت اس کی قرأت ہے۔ (مسند احمد) حضرت بلال کہا کرتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آمین میں مجھ سے سبقت نہ کیا کیجئے۔ اس کھینچا تانی سے مقتدی پر جہری نمازوں میں الحمد کا نہ پڑھنا ثابت کرنا چاہتے ہیں واللہ اعلم۔ (یہ یاد رہے کہ اس کی مفصل بحث پہلے گزر چکی ہے) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام آیت (غیر المغضوب علیھم ولا الضالین) کہہ کر آمین کہتا ہے آسمان والوں کی آمین زمین والوں کی آمین سے مل جاتی ہے اللہ تعالٰی بندے کے تمام پہلے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ آمین نہ کہنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص ایک قوم کے ساتھ مل کر غزوہ کرے، غالب آئے مال غنیمت جمع کرے، اب قرعہ ڈال کر حصہ لینے لگے تو اس شخص کے نام قرعہ نکلے ہی نہیں اور کوئی حصہ نہ ملے وہ کہے "یہ کیوں۔ ” تو جواب ملے تیرے آمین نہ کہنے کی وجہ سے۔ !

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s